Column in Daily Din “Pehla Khitaab” by Jahid Ahmad.

Posted on August 23, 2013



بالآخر میاں محمد نواز شریف نے بطور وزیر اعظم پاکستان کا حلف اٹھانے کے قریباٌ دو ماہ بعد قوم سے پہلا خطاب فرما ہی دیا! خیر یہ میاں صاحب کا قوم سے پہلا خطاب ہر گز نہیں تھا کیونکہ وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اسی منصب سے قوم سے گفتار کر چکے ہیں پر بہرحال اس نئی باری کا تو یہ پہلا پہلا خطاب ہی تھااور تھا بھی بس پہلے پہلے خطاب سا ہی! اس میں ن لیگ کی معصومیت بھی جھلکتی تھی، ماضی کی یادیں بھی،ملک کو درپیش سنگین مسائل سے نمٹنے کا عزم بھی تھا، بہتر مستقبل کی امید بھی اور عوام سے سخت حالات میں مزید قربانی دینے کی التجا بھی!!!کیا شیر لاغر و کمزور بھیڑ بکریوں سے قربانی مانگتے اچھے لگتے ہیں؟

ن لیگ پچھلے پانچ سال حزبِ احتلاف میں رہنے کے بعد اگر حکومت میں آئے اور یہ موقف پیش کرے کہ ان کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہی نہ تھا تو جناب وقتِ ماتم ہوا چاہتا ہے، آئیے اور اس سوگ میں شرکت کیجیے کہ سابقہ حزبِ اختلاف اورموجودہ حکومت کس حد تک ملکی معاملات سے باخبر تھی۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ تو راہ چلتے ادنی پاکستانی کو بھی تھا، آپ تو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہیں کم از کم ایسی باتیں آپ کے لبوں سے جھڑتی مناسب معلوم نہیں ہوتیں۔ اور اگر لاعلمی کا یہ عالم تھا تو عوام سے وعدے کس بنیاد پر کیے گیے تھے اور منشور کی اساس کیا تھی؟

بہرطور ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے نواز شریف صاحب کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا! وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور قومی و بین الاقوامی معیشت کو خوب اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں ، پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانا ان کا خواب ہے جو ان کے بقول 1999 ء میں ادھورا رہ گیا تھااور اس کی خلش ان کی ہر تقریر میں جھلکتی ہے اور اس کی بازگشت حالیہ خطاب میں بھی سنائی دی ۔ جو ہو چکا اس پر کسی کا زور نہیں پر جو عمل ہم آج کرنے جا رہے ہیں وہ کل حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہوں گے!! ماضی کی پرچھائیوں سے نکل کر بہتر مستقبل کی خاطر حال میں درست فیصلے کرنے کی ضرورت ہے پر یہ بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ عوام کے کمزور کاندھے بہت زیادہ بوجھ ڈھونے کے قابل نہیں رہے۔ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور چینی سرمایہ کاری میں اضافہ پاکستانی معیشت کے لئے انتہائی نیک شگون ہے اورمعیشت کی بحالی کے لیے حکومت کا درست اقدام ہے۔ چین کے ساتھ ایم او یوز تو ہو گئے پر چینی ماہرین، انجینیرز، تاجران، سرمایہ کاروں اور ورکرز کو پاکستان میں تحفظ فراہم کئے بغیر ان اقدامات کے دور رس نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے!!!
بجلی کی صورتحال سے متعلق وضاحتوں سے یہ بھی پتا چل گیا کہ یہ شے اگلے پانچ سالوں میں بھی پوری ہو گئی تو غنیمت جانئے گا ! اس نظام کی رگ رگ میں سرائیت کر چکی کرپشن اور نا اہلی کو یک مشت اچانک سے ختم کر دینا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ بجلی کی ترسیل میں بے شک بہتری آئی ہے جس کی بنیادی وجہ گردشی قرضوں کی ادائیگی ہے پر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ حکومت کا بڑھایا ہوا بجلی کا ٹیرف آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس کا کوئی بھی ذکر وزیرِ اعظم صاحب نے پہلے خطاب میں کہیں نہیں کیا، شاید وہ عوام کی اس دکھتی رگ کو نہیں چھیڑنا چاہتے تھے لیکن ایک عوامی منتخب حکومت کے سربراہ کی جانب سے اس موضوع کو نظرانداز کیا جانا قابلِ اعتراض بات ہے ! مہنگائی اور غریب پاکستانی عوام کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے، یہی مہنگائی روز اس کو معاشرتی و معاشی سطح پراس زور و شور سے پیستی ہے کہ اس کی آہ و بکا چکی کی گونج میں دب کے رہ جاتی ہے۔

یہ جنونیت کا دور ہے! کسی پر دہشت گردی کرنے کی جنونیت طاری ہے تو کسی پر بھارت سے چوتھی جنگ شروع کرنے کی! کاش یہ جنونیت تعمیری سرگرمیوں کی جانب مبذول ہوجائے !!! ان دونوں معاملات پر وزیرِ اعظم کا نقطہ نظر مناسب اور سیدھا ہے کہ دہشت گردی ناقابلِ قبول عمل ہے اور اس کا مکمل خاتمہ ازحد ضروری ہے جبکہ بھارت ہمارا ہمسائیہ ملک ہے اور اس سے بہتر تعلقات استوار ہونے چاہییں۔اصولی طور پر دونوں باتیں درست ہیں پر انہی دونوں باتوں کو عملی جامہ پہنانا جوئے شیر لانے جیسا ہے جبکہ ملک میں سیاسی، عسکری اور عوامی سطح پر اسی دہشت گردی کا حمایتی اورنرم و گرم خیالات رکھنے والا طبقہ بھی موجود ہے جو دہشت گردی کے خلاف اٹھائے جانے والے ہر قدم کی حوصلہ شکنی کرتا دکھائی دیتا ہے تو ایسی صورت میں موئثر قومی سلامتی کی پالیسی تیار کرنا اور اس پر عمل درآمد کروانا کافی مشکل مرحلہ ہے۔ اسی طرح کے منقسم خیالات پاک بھارت تعلقات سے متعلق بھی پائے جاتے ہیں!

پاک بھارت تعلقات بیشتر اوقات نازک دور سے ہی گزرتے، پھسلتے ، گرتے پڑتے نظر آتے ہیں ، کبھی بھارت کی آبی جارحیت کے باعث، کبھی الزام تراشیوں کے باعث ، کبھی لائین آف کنٹرول کے تنازعہ پر، کبھی مسئلہ کشمیر پر!!! اگر پاکستان کو بھارت سے کچھ ایسے شکوے شکایات ہیں تو بھارت بھی کئی مسائل پر پاکستان سے نالاں ہے! یہ دو طرفہ ٹریفک ہے اور تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی! حقیقت یہ ہے کہ نہ ہم اپنا ہمسائیہ تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے جنگ و جدال کا بازار گرم کر سکتے ہیں۔ بھارت کے حوالے سے متناسب ترین پالیسی یہی ہو سکتی ہے کہ تمام متنازعہ معاملات بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی جائے، جھڑپ کا جواب جھڑپ اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیے جانے کی تیاری مکمل رکھی جائے اور کسی طرح کی کوئی کمزوری ظاہر نہ کی جائے!!! معروضی و عسکری حالات کے پیش نظر دو عدد ایٹمی طاقتوں کے درمیان زیرک و ذمہ دار سیاسی و عسکری قیادت کی موجودگی میں باقاعدہ جنگ چھڑ جانے کا امکان انتہائی کم ہے مگر اسے یکسر خارج الامکان قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ جنونیت کی کمی نہ ادھر ہے نہ ادھر۔ اگر کبھی چوتھی پاک بھارت جنگ چھڑی تو یقیناًیہ توپوں اور ٹینکوں کی جنگ تو ہو گی نہیں ، یہ تو ایٹمی جنگ ہو گی! جس کے بعد دونوں اطراف پر تباہی، گلی سڑی لاشوں، اندھیروں اور دہائیوں پر محیط تابکاری اثرات کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچے گا! آج کا ایٹم بم 60 برس پہلے کے ایٹم بم کی نسبت کئی سو گنا زیادہ تباہ کار ہے۔ پھر نہ پانی کا مسئلہ باقی رہے گا، نہ کشمیر کا تنازعہ بچے گا، نہ لائین آف کنٹرول رہے گی اورنہ ہی کوئی انسان سانس لیتا زندہ دکھائی دے گا! تاریخ رہ جائے گی جو ان دونوں قوموں کو کتابوں کے اوراق میں درج کر کے آنے والے محققین کے رحم و کرم پر چھوڑ کر آگے چل دے گی۔

الیکشن سے پہلے کیے گئے زبانی وعدے جوشِ خطابت کی بھینٹ چڑھ گئے اور منشور میں سطروں کی صورت میں درج عہد وزیرِ اعظم صاحب کے قوم سے پہلے خطاب کے بعد بے وقعت ہو گئے،!اب تو سستی بجلی کے لئے اگلے پانچ برس انتظار کرنا ہے، عوام کو ابھی مزید قربانی دینی ہے، بہتر مستقبل کی کوئی گارنٹی نہیں صرف امید ہے، نوجوانوں کو قرض اور غریب کو گھر ضرور ملے گا لیکن نظام میں سدھار نہیں، انتظامی مشینری نا اہل تو ہے پر کام اسی سے چلانا پڑے گا، کرپشن و کمیشن کے بادل زور و شور سے کڑکتے رہیں گے، ہر برسات میں سیلاب یونہی آتے رہیں گے کیونکہ نئے ڈیم بنانے کے لئے کم از کم پانچ سال تو چاہییں ۔ اس خطاب میں بس اتنا ہی تھا، باقی آئیندہ!!!