سکندروں کو ڈھیل۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کب تک

Posted on August 19, 2013



اب یہی دیکھ لیں کہ قوت نافذہ ہی نہیں ، قوت فیصلہ کی بھی،کمی ہے، قوت تخیل کی بات تو الگ رہی۔ وہ سکندر جو جناح ایونیو پر دندناتا رہا اس کی بات ایک طرف کردیں، صرف یہی دیکھ لیں کہ ابھی تک بھارت سے اس بات پر بھی احتجاج کا فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ” میاں ایک طرف اچھی اچھی باتیں کر رہے ہیں، دوسری طرف دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور پھر دریاؤں میں پانی بھی چھوڑے جا رہے ہوں۔ یہ سیل آب اگر سیلاب بن گیا تو تم ایک بھی گولی چلائے بغیر بہت سے پاکستانی مار ڈالو گے اور کئی علاقے تباہ کر دو گے ۔ اور یہ کب تک ۔۔

کچھ اپنے وزیر داخلہ چوہردی نثار کے اس گھر کی کے باوجود کہ ‘اب کے ہوئی جنگ تو دل کھول کر لڑیں گے’۔۔۔

ہمیں پتہ نہیں کہ کیا ہم 48 ، 65 اور اس کے بعد 1971 میں دل بند کر کے لڑے تھے لیکن اتنا پتہ ہے کہ ہمیں ان مقدر کے سکندروں سے بہر حال دل کھول کر لڑنا ہوگا جو اندر سے پاکستان کی جڑیں کاٹ رہیں ۔ اب اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ ‘سکندر ان اسلام آباد۔’ ۔ والی طویل فلم دیکھتے ہوئے ہم نے جب ایک سابق آئی جی اسلام آباد سے پوچھے کہ حضرت !یہ معاملہ کیا ہے۔ ایک بندے نے اسلام آباد کو بند کردیا۔۔۔ دندناتا پھر رہا ہے۔۔۔ اگر مرگلہ کی پہاڑیوں سے سو دوسرے اترآئے تو کیا ہوگا ۔۔؟

ہمیں یقین تھا کہ وہ ڈانٹ دیں گے ۔۔میڈیا کو گالیاں دیں گے (اس سے پہلے وہ برا بھلا کہہ چکے تھے) کہیں گے کہ سارا قصور میڈیا کا ہے مگر حیرت انگیز طور پر انہوں نے ہلکا سا قہقہ لگایا (یوں جیسے مقدر پر ہنس رہے ہوں ) اور بھر بولے ۔۔۔” لشکروں کے مقابلے میں ہماری ناکامی سب پر ظاہرہے اس کی تازہ مثال ڈیرہ اسماعیل خان جیل اور ماضی میں مناواں پولیس لا ئین ہے جب دہشت گردوں کے جتھے وہ سب کچھ کر گئے جو مغربی فلموں میں ہوتا ہے۔۔ پھر انھوں نے بھی قوت فیصلہ کی بات کی ۔۔۔ ایک اور سابق ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ میڈیا کو کوسنا چھوڑیں ، یہ بتائیں کہ آپ نے شروع کے آدھے گھنٹے میں اس بندوقچی پر قابو کیوں نہیں پایا۔۔ اس وقت کاروائی کیوں نہیں کی جب وہ اکیلا تھا اور اس کی بیوی بچے ٹھیک ٹھاک فاصلے پر تھے۔۔۔

سابق ڈپٹی کمشنر نے بڑی پتے کی بات کی ، انھوں نے کہا کہ وہ ایسے معاملات سے اس وقت نمٹے ہیں جب موجودہ سہولتیں حاصل نہیں تھیں۔ اب تو ہمارے پاس “واٹر کینن” بھی ہے ۔ ایک دھار مارتے سکندر پر تو اس کا مقدر آپ کے ہاتھ میں ہوتا۔۔۔

جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔۔ ایک منہ وزیر داخلہ کا بھی تھا وہ اس واقع کے دوسرے دن منظر پر آئے اور پھر انھوں نے مسکراتے ہوئے ایک ادائے بے نیازی سے کہا۔۔” ہاں اس واقع کا پہلا ذمہ دار میں ہوں اور دوسرا میڈیا ہے جس نے سب کچھ دکھا دیا”۔سب کچھ تو میڈیا نے اور بھی دکھایا۔چوہدری نثار کی پریس کانفرنس پوری کی پوری دکھادی اور تو اور ان کا پارلیمنٹ میں الجھا الجھا سا خطاب بھی پورا ہی دکھا ڈالا

یہ سب کچھ دکھانے پر اعتراض مشرف کو بھی تھا ، یحیٰی خان نے تو پاپندی بھی لگا دی تھی اور ضیاء الحق کو بھی، جس نے سب کچھ بند کروایا تھا ۔۔آپ یقین نہیں کریں گے لیکن ضیاء الحق کے دور میں بھٹو ، پیپلز پارٹی ، انقلاب اور کوئل جیسے الفاظ ممنوع تھے ، سینئر آفیسر ان ناموں کو تلاش کر کے کاٹ دیا کرتے تھے۔۔ ایک بار تو قرآن شریف کی آیت ” اور فرعون زمیں پر بڑا بن بیٹھا ” بھی ایک اخبار کی لوح سے ہٹوانے کی کوشش کی گئی۔۔

اور ہاں ۔۔جب ایک سینسر والے نے منو بھائی کے کالم کی سرخی “کوئل کو کوک “ سینسر کی تو پوچھا کہ “میاں یہ کیا” ۔۔۔حضرت نے کاٹی کا نشان پختہ کرتے ہوئے کہا کہ

۔۔”فحش لگتی ہے ۔۔۔نازیبا سی۔۔”۔۔

معاف کردیں بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔۔ لیکن حالات اب بھی ایسے ہی تو ہیں ۔۔۔ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ!! سکندر نے جناح ایونیو پر قبضہ کیا، انتظامیہ نے پولیس کو چھ گھنٹے تک ” زیر حکم افسران اعلٰی” کارروائی سے روکے رکھا اور نزلہ گر رہا ہے میڈیا پر ۔۔۔ اب میڈیا کسی گنجے کو اس وقت تک گنجا ہی دکھائے گا جب تک وہ بال نہیں لگوا لیتا ۔۔۔ تو کیا اس گنجے پن کی ذمہ داری میڈیا پر ہے ۔۔۔ میڈیا پر کسی کی قوت فیصلہ اور قوت نافذہ میں کمی کی بھی ذمہ داری نہیں ۔۔۔ وہ ہی دکھایا جائے گا جو ہے ۔۔ اور اس کے پس منظر میں بھی جایا جائے گا ۔۔۔ حامد میر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بہت ٹھیک کہا تھا ۔۔۔۔”ہمیں تو آمر بھی آزماچکے ہیں ۔۔

اس پورے معاملے میں میڈیا کے ایک حصے نے غلطی کی اور فاش غلطی کی ۔۔۔یہ غلطی تھی دہشت گرد سکندر اور اس کی بیوی کے براہ راست انٹرویوز کی ۔۔۔ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردوں کو ہیرو نہ بنایا جائے ۔۔۔ انٹرویوز ان کو ہیرو ہی تو بناتے ہیں۔ آپ ان پر جتنی بھی جرح کریں وہ آپ پر حاوی آجائیں گے اور خود آپ کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔۔ ہم قانونی طور پر بھی پابند ہیں کے معاملات میں کھلواڑ نہ کیا جائے ۔۔ اس ایک غلطی کو چھوڑ کر ، اگر جائزہ لیا جائے تو میڈیا نے اس کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اس کے علاقے حافظ آباد تک سے یہ شواہد حاصل کر لئے کے وہ شرابی اور غلط کردار کا اوباش آدمی ہے۔
اب پولیس کا کردار دیکھیں۔۔۔ جب پولیس ‘حکام بالا’ سے بات کر کے تنگ آگئی اور اسے “سکندر” کے خلاف کارروائی کی اجازت نہ ملی تو اس نے صحافیوں کی دھنائی کردی۔ تھانیدار “حاکم خان ” حکام کی ڈانٹ سن کر صحافیوں پر چڑھ دوڑے ۔ اے ایس پی صاحب نے خوب دل کے پھپھولے پھوڑے ۔۔یہ بھی وہی معاملہ ہے ۔۔”ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ “۔۔ وزارت داخلہ نے پولیس کو روکا تو پولیس نے صحافیوں پر ہاتھ صاف کر ڈالا۔۔۔

ایک صاحب کا کہنا ہے کہ حکومت کا ” ہنی مون” پیریڈ ختم ہونے والا ہے تو برائیاں نظر آنے لگیں گی۔۔ دوسرے صاحب نے جناح ایونیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہنی تھا ہی نہیں ۔۔۔مون کو گہن لگا تھا جب یہ حکومت آئی تھی۔۔۔

آج کے اس کالم میں ابھی تک ہم زمرد خان کا ذکر نہیں کر پائے۔۔۔ لیکن ان کا ذکر بنتا بھی نہیں۔۔ ذمہ داری حکومت کی تھی کہ وہ سکندر کو لگام ڈالتی، زمرد خان نے لگام ڈالنے کی جو کوشش کی وہ مسلم لیگ ن کو بھی بری لگی، رانا ثناء اللہ خود یہ حماقت کر ڈالتے تو نشان شجاعت تو لے ہی اڑے ہوتے۔۔

یاد آتا ہے کہ سابق ایئر مارشل نور خان نے ایک ہائی جیک طیارے میں گھس کر ہائی جیکر کو تھپڑ مارا (مزاکرات کرتے ہوئے ) گولی بھی کھائی لیکن وہ قومی ہیرو قرار پائے۔۔۔ نصیر اللہ بابر کو اس وقت تمغہ ملا جب وہ اغواء بچوں کو رہا کرانے نہتے مجرموں کی کمیں گاہ میں گھس گئے تھے ۔۔۔ اور بھی بہت سی حماقتیں ہیں بہادری اور جیوٹ پن کی اس قوم میں، حماقتیں در حماقتیں ۔۔۔ بھارتی فوج اس لالک جان سے ابھی تک کانپتی ہے جو بھارتیوں کے مورچے میں گن لے کر گھس گیا تھا۔۔۔ ہمارا نشان حیدر !!

لوگ کہتے ہیں کہ قوم کو ایسی حماقتیں کرنی چاہئیں لیکن ہمارا کہنا یہ ہے کہ ” نہیں ۔۔۔ حکومت کو موقع دیں ‘ دیکھیں کہ سکندروں کو کہاں تک ڈھیل دیتی ہے ۔۔۔ کب تک ڈھیل دے سکتی ہے !! آخر کب تک؟؟