اردو زبان کو فروغ دیں

Posted on August 19, 2013



انسان کا شاید سب سے بڑا تخلیقی کارنامہ آپس میں رابطے کے لئے مختلف زبانوں کا استعمال ہے،جسے چینی ،انگریزی،ہسپانو ی اور اردو زبان وغیرہ ۔۔۔ ہم دراصل زبان کے ذریعے اپنی ہستی کا اور اس رشتے کا اقرار کرتے ہیں جو انسان نے کائنات اور دوسرے انسانوں سے قائم کر رکھے ہیں۔ انسان کی ترقی کا راز بھی زبان میں پوشیدہ ہے کیونکہ علم کی قوت کا سہارا زبان ہی ہے۔دنیا بھر میں 6000سے زائد مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔زبان نہ صرف بولی جاتی ہے بلکہ لکھی بھی جاتی ہے،نیز اشاروں کی زبان ایسے لوگوں کے لئے ہوتی ہے جو بول یا سن نہ سکتے ہوں ۔

اردو زبان کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہندی ، فارسی اور عربی کی تمام آوازیں موجود ہیں۔ اردو کے حروفِ ہجا ان تینوں زبانوں کے حروفِ ہجا سے مل کر بنے ہیں۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس زبان میں دوسری زبانوں کے لفظوں اور محاوروں کو اپنانے کی بڑی صلاحیت موجودہے۔ چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اردو کا رسم الخط ابتدا سے فارسی ہے۔ اردو زبان کو انیسویں صدی کی ابتدا تک ہندی ، ہندوی ، دہلوی ، ریختہ ، ہندوستانی ، دکنی اور گجراتی غرض مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔
ڈاکٹر گلکرسٹ نے جب ملک کی سب مقبول زبان جو شمالی ہند کے علاوہ دکن حتیٰ کہ مدراس اور بنگال میں بولی اور سمجھی جاتی تھی ، انگریزوں کو سکھانے کا ارادہ کیا تو اس زبان کو 1787ء میں “ہندوستانی” کا نام دیا۔

اردو ترکی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے معنی لشکر ، سپاہی ، کیمپ ، خیمہ وغیرہ کے ہیں۔ عہدِ مغلیہ میں یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ زبان کے معنی میں اس لفظ کا استعمال چنداں قدیم نہیں۔ میرامن دہلوی ، سرسید احمد خان اور سید احمد دہلوی (مولف فرہنگِ آصفیہ) کا یہ دعویٰ کہ اردو زبان کی ابتداء شاہجہانی لشکر (اردو) سے ہوئی اس لیے اس زبان کا نام بھی اردو پڑ گیا ، درست نہیں ہے۔ کیونکہ اٹھارویں صدی عیسوی سے پیشتر کا کوئی شاعر، ادیب اور تذکرہ نگار اس زبان کو “اردو” سے تعبیر نہیں کرتا۔
اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم ایک علیحدہ آزادملک میں رہتے ہیں ،جہاں ہم اپنے قواعد و ضوابط کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے زندگی بسر کر رہے ہیں،بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد پاکستان کو علیحدہ ریاست کا درجہ دے دیا گیا جس کی قومی زبان اردو رکھی گئی ،اس وقت اردو کے فروغ بڑے بڑے مسلمان علما،دانشوروں اور دیگر لوگوں نے مل کر کام کیا جن میں مولانا الطاف حسین حالی،علامہ محمد اقبال،سر سید احمد خان،بابائے اردو مولوی عبدلحق اور دیگر شامل ہیں۔ان لوگوں نے اردو کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی ہیں اور ہمیشہ اردو کو ترجیح دی۔14اگست 1947کو پاک و ہند کی تقسیم کے بعد اردو کو پاکستان کی مادری زبان کا درجہ دے دیا گیا اور اسے سرکاری زبان کی اہمیت حاصل ہوئی ۔اردو زبان اصل میں تمام زبانوں کے الفاظ کا مجموعہ ہے،اس میں باقی تمام زبانوں کے الفاظ شامل ہیں ۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم دن بدن اپنے بزرگوں کی روایات بھولتے جا رہے ہیں جیسے اردو کو فروغ دینے میں بزرگوں نے اہم کر دار ادا کیا تھا مگر اب ہم اردو کی جگہ انگریزی زبان کو سامنے لانے میں کوشاں ہیں جو کہ درست نہیں ہے،ہمیں صرف اور صرف اردو زبان کو فروغ دینا چاہیے جبکہ باقی تمام زبانوں کو ایک مضمون کے طور پر پڑھنا چاہیے مگر اس کے برعکس ہو رہا ہے،جس طرح ہمارے اداروں میں اردو کی جگہ انگریزی زبان نے لے لی ہے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے،کہا جاتا ہے کہ انگریزی زبان کے بغیر ملکی ترقی نا ممکن ہے جو کہ بالکل غلط ہے کیونکہ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنی زبان کو ترجیح دی اور انگریزی کو ایک عام سی زبان کا درجہ دیا، دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے زبان چینی ہے جو 1.2 بیلن لوگ بولتے ہیں ۔ دوسرے نمبر پر ہسپانوی زبان ہے جبکہ تیسرے نمبر پر انگریزی زبان ہے جو کہ 307 ملین لوگ بولتے ہیں۔

چین کے صدر پاکستان تشریف لائے تو انہوں نے اپنی زبان میں ہی خطاب کیا اور اپنے ملک کی نمائندگی کی۔کیا کبھی ہمارے کسی بھی سیاستدان نے بیرون ممالک جا کر اپنی مادری زبان اردو میں خطاب کیا؟نہیں کیا آج تک سبھی انگریزی میں خطاب کرتے رہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں انگلش کو نہ صرف ایک مضمون کی طرح پڑھایا جا رہاہے بلکہ اس زبان پر اس طرح ترجیح دے جا رہی ہے جیسے صدیوں سے یہ ہماری مادری زبان چلی آرہی ہے جبکہ حقیقت میں ہمیں انگریزی کو صرف ایک مضمون کے طرز پر ترجیحی دینی چاہیے اور اپنی مادری زبان اردو کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہیے۔آج کل نوجوان نسل نہ صرف انگریزی بولنے اور سیکھنے کو ترجیح دے رہی ہے بلکہ مغربی طرز زندگی کی جانب راغب ہو رہے ہیں ،ان کا رہن سہن،کھانا پینا،بننے سنورنے کا طریقہ بشرط کہ ان کی زندگی کا ہر عمل جس کوآج کی نوجوان نسل جدت کا نام دے رہی ہے سب مغربی ثقافت کا حصہ ہے نہ کہ ہمارے اسلامی معاشرے کا۔

قارئین،آخر میں گزارش کرنا چاہوں گا کہ خدارا اردو زبان کو فروغ دیں اور انگریزی کو اردو پہ ترجیح مت دیں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلش بین الاقوامی زبان ہے مگر چین کی مثال سب کے سامنے ہے جو بغیر بین الاقوامی زبان سیکھے ترقی کرتا جا رہا ہے اس طرح ہمیں بھی چین سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اپنی قومی زبان کو بین الاقوامی زبان پر ترجیح دینی چاہیے۔