فلم یا ٹریلرَِ

Posted on August 17, 2013



فلم یا ٹریلر

پرسوں وفاقی دارلحکومت میں ایک تنھا شخص نیں پورے ملک کو پانچ گھنٹے اپنی توجھ کا مرکز بنائی رکھا۔سکندر اپنے گھر سےسیر و تفریح کیلےلاھور گیا، اور پھر مری سے ھوتا ھوا اسلام ؔاباد ؔا پھنچتا ھے جھاں اسکی ؔاخری منزل کلثوم پلازھ ھوتی ھے، جھاں وہ میڈیا ،پولیس،اور عوام کو کئی گھنٹوں تک الجھاے رکھتا ھے،
سوال یھ پیدا ھوتا ھے کھ کیا سکندر خود اپنی مرضی سے ؔایا تھا یا اسے بھیجا گیا تھا۔ یھ نفاز شریعت کیلئے تنھا ھی گھر سے نکل ؔایا ، یا اسے یھ بتانے کیلئے بھیجا گیا تھا کھ ٹریلر دیکھ لو فلم ابھی باقی ھے۔۔
اس مین کوئی شک نھیں کھ بحثیت قوم ھمیں تربیت کی اشد ضرورت ھے، پھر چاھے وہ بے لگام میڈیا ھو،حواس باختھ پولیس،یا تماشائی عوام۔۔سبھی اپنی اپنی جگھ انتھائی غیر زمھ داری کا مظاھرھ کرتے ھین۔میڈیا کی لائیو کوریج نیں ایس معاملے کو اور الجھا دیا۔ھر چینل ایک دوسرے سے سبقت لینے کیلے ھر طرح کا ھتھکنڈا استعمال کر رھا تھا۔کسی نیں شناختی کارڈ کی کاپی پیش کی تو کوئی سسر کا ایٹرویو پیش کر رھا ھے، اور کوئی گھر تک پھنچ گیا۔
دنیا مین سر پھرے لوگوں کی کمی نھی ھے، بھت سے ملکوں میں ایسے واقعات پیش ؔا ئے ھیں،
لیکن کیا وھ ملک ایسے معا ملات سے ایسے ھی نبرد ؔازما ھوتے ھیں؟؟؟
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسی دن کیلئے تیار کیا جاتا ھے،لیکن ھمیں ایسے ھی موکوں پر اکثرمایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ھے،
سکندر والے معاملے میں پولیس کو سھی معنوں میں بے بس کرنے والے ،عوام کا ھجوم اور شطر بے مھار میڈیا تھا۔ورنھ شائد یھ ڈرامھ پانچ گھنٹے پر محیط نھ ھوتا۔اور ھم دنیا کے سامنے تماشا بننے سے بچ جاتے،گو کھ یھ تماشا بننا ھمارے لئیے کوئی نئی بات نھی ھے۔۔
مجھے میڈیا کے کردار پر شبھ نھیں ھے،لیکن میڈیا کے لائح عمل پر شرمندگی ضرور ھے۔
میڈیا عوام اور حکومت کے درمیان ایک رابطے کا زریعھ ھوتا ھے،خبر کو پرکھنا اور عوام تک سھی خبر پھنچانا میڈیا کی ذمھ داری ھے لیکن انتھیائی افسوس سے کھنا پڑتا ھے کھ ھمارے بھت سے چینلز ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے چکر مین اپنے ھی ملک کی جگ ھنسائی کا بائث بنتے ھیں۔۔
اخر کب تک ھمارا یھی طرز عمل جاری رھے گا،اور دنیا ھم پر ھنستی رھے گی؟؟؟ؔاخر کب تک۔۔
ھمیں لائح عمل طے کرنا ھو گا،ھمیں تیار ھونا ھو گا ایسے حالات پر قابو پانے کیلئیے۔۔
ورنھ جگ ھنسائی جاری رھے گی۔۔۔