Akher kyun??

Posted on August 15, 2013



بھولنے کی عادت


ماشااللہ سے پاکیستانی قوم کے عصاب بھت مضبوط ھٰین،ھم سب کچھ اتنی تیزی سے بھول جاتے ھین کے ھمین یھ بھی یاد نھی رھتا کے ھمارے ساتھ بیتی کیا تھی،ھر سال سیلاب ؔاتا ھے ،ؔادھا مئلک ڈوب جاتا ھے ،لوگ گھر سے بے گھر ھو جاتے ھین،ھر طرف افرا طفری کا سمان ھوتا ھے ،بھت سے لوگ سیلاب اور بعد مین ؔانے والی بیماریون سے مر جاتے ھین ،لیکن ادھر سیلاب گیا ،ادھر ھمارے گھر گاون پھر سے بسنے شروع ھو گیے،
بات گھر گاون بسنے اور سیلاب کی تباھ کاریون کی نھی ھے،بات ھے ھمارے ردعمل کی،ھمارا ردعمل ھمیشھ زبانی کلامی ھی ھوتا ھے۔ نھ جانے ھم نے کبھی ٹھوس اقدامات کیون نھی اٹھاے ،
الیکشن ؔاتے ھین ،ھم اپنے ووٹون سے خود ھی اپنے نما ئندے چنتے ھین ،پھر جب تک وہ ھوتے ھین انکی کرپشن ،نا اھلی، اور چور بازاری کا رونا روتے ھین ،ان کے جانے کے بعد کوئی دوسرا ؔا جاتا ھی،اور وھی سلسلھ پھر سے شروع ھو جاتا ھے۔
بلوچستان جل رھا ھے،کراچی مین ٹارگٹ کلنگ جاری ھے،ڈیرھ اسماعیل خان جیل پر حملے کے بعد قیدی رھا کروا لیے جاتے ھین،سکھر مین ؔائی ایس ؔاٰی کے ھیڈ کوارٹر پر حملھ اور چلاس مین پاکیستان ؔارمی کے کرنل اور کپٹن کو شھید کرنا ابھی کل کی ھی بات ھے،لاہن ؔاف کنٹرول پر جھرپین بھی جاری ھین ،پاک فوج حالت جنگ مین ھے،
لیکن پھر بھی کل یوم ؔازادی کے موکے پر لگ رھا تھا جیسے یھ کسی بھی کسم کے مسلے سے دو چار نھی ھین،
اور تو اور زیارت مین قائداعظم کی رہائش گاھ پر ھملھ کر کے اسے تباھ کر دیا جاتا ھے،ھمارے قائد کی تصویرون کو پھاڑا جاتا ھے،انکئ بے حرمتی کی جاتی ھے پاکیستان کا جھنڈا اتار کر ؔازاد بلوچستان کا جھنڈا لھرا دیا جاتا ھے۔
لیکن نا تو ھماری قوم نے کوئی خاص رد عمل ظاھر کیا ،اور نا ھی حکومت نے کوئی اھم قدم اٹھایا۔
چوھدری نثار نے بیان دیا کے کم سےکم وقت مین عمارت کو دوبارھ تعمیر کیا جائے گا۔لیکن خواص بھی چونکھ عوام مین سے ھی ھوتے ھین ایس لیئے وہ بھی بھول گئے۔
اؔج اس واقعے کو تقریبن 2مھینے ھو چکے ھین عمارت کی تعمیر تو کجا ابھی تک ملبھ بھی صاف نھین کیا گیا۔
شائد ھمیشھ کی طرح ھم یےواقع بھی بھول جائین گے۔۔