Eid

Posted on August 10, 2013



سوچ رھا ھوں کہ ھر طرف عید مبارک عید مبارک کا شور ھے

دو دو پیسے میں مذھب کو نیلام کرنے والے یہ دلال، ایوانوں کو طوائف کا کو ٹھا بنانے والے یہ سیاستدان، مفلس عوام کی دھنستی ھوئی، سسکتی، تڑپتی، بلکتی ہوئی جھونپڑیوں کو نیست و نابود کر کے ان پر اپنے محلات تعمیر کرنے والے یہ جلاد، ٹیلیوژن پہ بیٹھ کے دانشوروں کے روپ میں نماز اور روزے کو کمرشلائز کرنے والے یہ بے ایمان سرمایہ دار، داڑھیوں اور چولوں والے یہ دین کے تاجر، مسجدوں میں بیٹھ کر عقیدوں کا سودا کرنے والے یہ ملاء، اسلامی تشخص کا جنازہ نکالنے والے یہ جھوٹے بھروپیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف انھی مٹھی بھر چنڈال کے چابک کے دباو میں کٹنے والی بھیڑ بکریوں کا یہ ھجوم جن کا بدن، روح اور عقل سب غلامی کے پرتوں میں مقید ھے، جو تماشا بننے اور تماشا تکنے میں محو ھے، جو جہالت کی تاریکی میں ٹامک ٹویاں مارنے میں مگن ھے، جو اس لا علمی اور جہالت کے پردے سے نکلنا نھیں چاھتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی صورت میں کیا عید اور کیا مبارک؟

فراز انجم
کینیڈا