“پاکستانی میڈیا یا “ٹروجن ہارس

Posted on August 10, 2013



” میڈیا یا “ٹروجن ہارس”

دیو مالائی کہانیوں میں ذکر ہے کہ جب یونانی فوجیں ٹرائے نامی شہر کو دس سال تک محاصرہ میں رکھنے کے باوجود فتح کرنے میں ناکام ہو گئیں تو انہوں نے ایک جنگی چال چلی۔ انہوں نے ایک بہت بڑا لکڑی کا گھوڑا (ٹروجن ہارس)تیار کیا اور اپنے بہترین فوجی اس میں بٹھا دئے اور باقی فوجی چپکے سے شہر کی فصیل سے دور چلے گئے۔ٹرائے شہر کے باسیوں نے سمجھا کا شائد یونانی ناکام لوٹ گئے اور پسپا ہوتے ہوئے گھوڑا پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔وہ اسے مال غنیمت سمجھ کر شہر کے اندر لے آئے ۔ رات کو جب سارا شہر سو چکا تو یونانی فوجی ٹروجن ہارس (لکڑی کے گھوڑے )سے باہر نکل آئے اور شہر کے دروازے کھول دئے۔ یونانی فوج واپس آئی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔ آج جب میں پاکستانی میڈیا کے شرمناک کردار کو دیکھتا ہوں تو آنکھوں کے سامنے وہی ٹروجن ہارس اپنے
سپاہیوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ دیو مالائی داستان پنے آپ کو دوہرا رہی ہے

مشرف دور تک انڈیا اورامریکی سامراج جب پاکستان کو مکمل طور پر اپنے زیر نگیں کرنے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے بھی اپنا ٹروجن ہارس آزاد میڈیا کی شکل میں تیار کیا اور اس میں تربیتو یافتہ بکاؤ صحافیوں کو بٹھا کر پاکستان پر مسلط کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ھم بھی اس ٹروجن ہارس کے اندر بیٹھے سپاہیوں (صحافیوں) کو نہ دیکھ پائے۔نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔کوئی “امن کی آشا ” نامی چابی سے نظریہ پاکستان کا آہنی گیٹ کھول رہا ھے۔تو کوئی لبرل خیالات کے بیلچے سے اس کی اسلامی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔کسی نے صوبائیت کا نیزہ اٹھا رکھا ہے تو کوئی لسانیئت کے ہتھوڈے سے ارض پاک کی فصیلوں پر مسلسل ضربیں لگا رہا ہے ۔پوری قوم خود غرضی کی مدہوش کر دینے والےگولی کھا کر اور جہالت کی ململی چادر اوڑے خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ دشمن سر پر کھڑا ہے۔ قوم اگر جلد خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئی اور درپیش خطرات کا بر وقت ادراک نہ کیا تو انجام شائد اب ذیادہ دور نہہیں ہ

وائے ناکامی کہ متائے کارواں جاتا رہا ۔۔۔ اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا