دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبادیکھ۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted on August 9, 2013



بات شیخ رشید احمد تک رہتی تو شاید اس تحریر کی ضرورت ہی نہ پڑتی کیونکہ پے درپے شکستوں کے بعد اب انکی زبان عوامی سے زیادہ بازاری ہوگئی ہے اورجس پارٹی کووہ علی الاعلان تانگاپارٹی کہاکرتے تھے اس کےزیردست ہوکرالیکشن جیت تو گئے ہیں مگرذہنی شکست کے احساس سے اب تک نہیں نکل سکے ہیں ،اس لیے جناب شیخ کی بات تو جانے ہی دیجیے ۔
ہاں ! ڈاکٹر قدیرخان نےجو بات کہی کہ ہماری سیاسی جماعتوں نے دودھ جلیبی بیچنے والوں کو صدارتی امیدوار بنادیاہے اس پر کافی گنجایش موجودہے ،خیال یہی تھاکہ مذکورہ بیان ڈاکٹرصاحب سے منسوب کردیاگیاہے لیکن کئی روز گذرنے کے باوجودتردیدنہ آئی تو یقین کرنا پڑا۔
ڈاکٹرصاحب ہمارے ایٹمی سائنسدان اورانتہائی قابل احترام سیاسی شخصیت ہیں ملک کے متعدد حلقوں کی خواہش کے باوجودبھارت کی طرح ہم اپنے ایٹمی سائنسدان کومنصب صدارت پرفائز نہیں کرسکے ،اس کے باوجود بھی ڈاکٹر قدیرخان کو عوام محسن پاکستان سمجھتے ہیں ،نہ جانے کیوں بعض غیر متعلق ایشوز پربیانات دےوہ خوداپنے بارے میں لوگوں کو رائے زنی کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ڈاکٹرصاحب موصوف کا حالیہ بیان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور اس سے قوم کے ان گنت افراد کے دلوں میں موجو د ان کی قدرومنزلت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، انتہائی احترام کےساتھ اختلاف کی جرات کررہے ہیں کہ یہ بیان ان کے شایان شان نہیں ۔
خیر ! ڈاکٹرصاحب پر ہی کیا موقوف دیگرمحترم صحافتی وسیاسی شخصیات بھی آئندہ پانچ سال کےلیے منتخب صدر پاکستان (تیس جولائی کی رسمی کارروائی کےبعدان کاایوان صدر کا راستہ تو صاف ہوچکاہے )سے متعلق ایسی ہی چھینٹے بازی میں مصروف ہیں (خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے صحافی سلیم صافی تویوں لگتاہے کہ باقاعدہ مہم چلارہے ہیں )حالآنکہ خیال یہی تھاکہ پاکستان کے باشعوروجمہوریت پسند اہل سیاست وصحافت ممنون حسین سمیت تین بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے صدارتی امیدوار کے طورپرنامزدشخصیات کا مثبت خیرمقدم کریں گے یہ تو بالکل علیحدہ بات ہے کہ کامیاب کوئی ایک ہوا لیکن جمہوریت اورسیاسی کارکنوں کی اس سے بڑی سیاسی فتح کیا ہوگی کہ تینوں جماعتوں نے سیاسی کارکن رضاربانی وممنون حسین اورممتازقانون داں جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کو نامزد کیا ،تینوں کاتعلق کسی اعلی حکمران طبقے سے نہیں نہ ہی ان کی نامزدگی کےلیے کوئی دباؤ استعمال کیا گیا اس سے کم ازکم یہ توثابت ہواکہ پاکستان میں اب بھی میرٹ پر نامزدگیاں ہوسکتی ہیں وہ ملک کے انتہائی اعلی منصب کےلیے ،
یہ ابھی کونسی پرانی بات ہےکہ ایک وزیراعظم کے فارغ کیے جانے پر اس کی کابینہ کےایسےوزیر کووزیراعظم نامزدکیاگیاجس پر بدعنوانی کےسب سے زیادہ الزامات تھے اب تو خداکا شکرہے کہ پیپلزپارٹی نے اپنی جماعت کی ایک متین وفہیم شخصیت کو نامزد کیا۔
آئیے ڈاکٹرقدیرخان کے بیان کی طرف جو اس لئے بھی بے بنیاد ٹہرنا کہ ممنون حسین کا تعلق کا تعلق دودھ جلیبی کے کاروبارسے تو ہےہی نہیں ۔۔۔۔ وہ توکراچی کے مقبول مگردرمیانے درجے کے تاجرطبقے سے تعلق رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب وخیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے اکثرسیاستدان اورقلمکار ممنون حسین اوران کے خاندانی پس منظرسے زیادہ واقف نہیں ۔۔۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہوکہ ممنون حسین ایک خاموش طبع اوردھن کے پکے سا سی کارکن ہیں ۔۔۔ جومعلومات اب تک ان کے بارے میں میڈیا میں آچکی ہیں وہ اس قدرناکافی بھی نہیں کہ محض سنی سنائی پرچھینٹے بازی کی جائے اوردھول اڑاکرایک خاندانی سیاسی شخصیت کا چہرہ دھندلانے کی کوشش کی جائے۔
ممنون حسین نے 1965میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرزکیاتھا اوربہ قول ان کے برادربزرگ اخترحسین ان دنوں پاکستان میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم متعارف کرائی گئی تھی اورغیرملکی اساتذہ اس کے مضامین پڑھایاکرتے تھے جبکہ اس سے پہلے ممنون حسین درس نظامی کی تعلیم بھی لے چکے تھے اورقرات میں بھی امتیازرکھتے تھے ۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کپڑے کی تجارت کو ترجیح دی ۔ کاروبارکے انتخاب کے حوالے سے مزید بات ہم آگے کریں گے لیکن اس سے پہلے ڈاکٹرقدیرخان صاحب سے چند سوالات کی جسارت کی اجازت دیجیے ۔۔۔ اول تو ممنون حسین کا تعلق دودھ جلیبی کے کاروبارسے ہے نہیں ۔ اگرہوتا بھی تو دودھ جلیبی کے کاروبارکی اس قدرتحقیرکرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ کیایہ کوئی غیرشرعی ،معیوب اورغیرطیب تجارت ہے ؟کیا مسلمانانِ برصغیر میں سے کارہائے نمایاں انجام دینے والی شخصیات کے والدین عام طور پرتجارت و زراعت پیشہ نہیں تھے اور کیا ڈاکٹر صاحب ہم سے زیادہ بہتر طور پر نہیں جانتے کہ برصغیر میں تجارت پیشہ مسلمان صرف ایسے شعبوں میں کامیاب تھے ۔۔۔ جو ہندو بوجوہ اختیار نہیں کرتے تھے ۔۔۔ کیا ڈاکٹر قدیر صاحب بتانا پسند کریں گے کہ ان کے دادا مرحوم کس پیشے یا تجارت سے وابستہ تھے ۔۔۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ سائنس کے شعبے سے وابستہ نہ ہوں گے ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب یقیناً یہ بھی جانتے ہوں گے کہ مسلمانانِ برصغیر کا ایک طبقہ انگریز کی نوکری کو حرام سمجھتا تھا ۔۔۔اس لیے تعلیم حاصل کرکے بھی وہ سرکارکی نوکری کے بجائے تجارت کو ترجیح دیتے تھے ۔۔۔ ممنون حسین کا خاندان بھی مسلمانوں کے ایسے ہی گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور اب یہ روایت اس قدر مستحکم ہوگئی کہ قیام پاکستان کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی ان کےخاندان کے کسی فرد نے سرکاری نوکری نہیں کی ۔۔ تجارت کو ہی ترجیح دی ۔۔۔ ان کے والد حاجی اظہر حسین جو کہ تجارت سے وابستہ تھے بلکہ ممنون حسین کے والد ہی کیا آگرہ کے اکثر مسلمان اس پیشے سے رزق حلال کماتے رہے بلکہ دہلی تک ان کا کاروبار پھیلا ہوا تھا ۔۔۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) اجمل میاں کا خاندانی کام جوتے کی تجارت تھا۔سابق گورنر سندھ ، سابق وزیر داخلہ معین الدین حیدر کا سسرالی خاندان بھی آگرہ میں اسی تجارت سے وابستہ تھا۔۔۔ حلال تجارت کو ہمارے مذہب میں بڑی اہمیت دی گئی ہے۔۔ ایماندار تاجر کا مرتبہ عابد کے برابر فرمایا گیا ہے ۔۔ ڈاکٹر صاحب نے نہ معلوم کیوں تجارت کو تحقیر کا نشانہ بنایا ، کیا تاجروں کو اعلیٰ سرکاری منصب پر پہنچنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ؟ ۔۔یقینا تاجر طبقے کا بھی یہ حق ہے خواہ وہ دودھ جلیبی ہی کیوں نہ بیچتے ہوں۔۔۔۔۔اب ذرا ان لوگوں کے لئے بھی جو واقعی لاعلم ہیں ، محض سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔۔ ممنون حسین صاحب جن دنوں سندھ کے گورنر تھے تو اپنی تقاریر میں حفیظ جالندھری کا یہ شعر پڑھتے تھے ۔۔۔
شعروادب کی خدمت میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
دو چار برس کی بات نہیں،یہ نصف صدی کا قصہ ہے
درحقیقت ممنون صاحب نصف صدی سے سیاست میں سرگرم ہیں ۔۔
اچانک کسی نے ان کا نام پرچی پر لکھ آگے نہیں بڑھا دیا۔۔۔۔ انیس سو ستانوے کی لیاقت جتوئی کی کابینہ وہ سماجی بہبود کے مشیر تھے ۔۔۔ انیس سو ستانوے میں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر منتخب ہوئے ، بس یہیں سے ان کی سیاسی زندگی نے ایک اہم موڑ لیا۔۔۔
کراچی کا امن، اسی کی دہائی کے وسط سے ہر آنےوالی حکومت کے لیے مسئلہ بنا رہاہے۔جون 99 کے تیسرے ہفتے میں کراچی چیمبر آف کامرس کی جانب سے ایک تقریب میں وزیراعظم نوازشریف مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے اور ممنون حسین میزبان۔اس تقریب میں میزبان نے روایت کےمطابق خطبہ استقبالیہ پیش کیا مگر یہ سپاس نامہ راویت سے ذرا ہٹ کر تھا، جس میں تاجروں کے مسائل کےساتھ شہریوں کے مسائل اس عمدگی اور دردمندی کے ساتھ بیان کیے گئے کہ میاں نوازشریف جو بھاری مینڈیٹ کے ساتھ ملک کے وزیراعظم تھے، متاثر ہوئے بغیرنہ رہ سکے۔ وہ دو تہائی اکثریت کے باجود کراچی کے حالات سے پریشان تھے خصوصاً حکیم سعید کی شہادت کے بعد سندھ کابینہ برطرف کرکے گورنر راج نافذ کر چکے تھے مگر گورنر سندھ معین الدین حیدران کی توقعات پر پورے نہ اترسکےتھے ۔ وزیراعظم مختلف آپشن پر غور کر رہے تھے کہ ممنون حسین کی تقریر سپاس ان کے دل پر اثر کر گئی اگلےروز اسلام آباد پہنچتے ہی انہوں نے ممنون حسین کووہاں طلب کیا اورانہیں ان کی نئی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ ممنون حسین نے 12 اکتوبر99 تک گورنر کے فرائض بخوبی انجام دیے اور پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے از خود استعفیٰ نہ صرف صدر رفیق تارڈ کو پشچ کر دیا بلکہ پرویز مشرف کی بغاوت کے خلاف بیان داغ دیا ،اس کے بعد میاں نواز شریف پر چلنے والے طیارہ سازش کیس کے دوران ہرپیشی پرآنے والے لوگ بدلتے رہے بلکہ غائب ہوتے رہے مگرممنون حسین مستقل رہے ۔
بیگم کلثوم نواز جن دنوں پرویز مشرف کے خلاف اور اپنے شوہر کو بچانے نکلیں تو ممنون حسین ان کے ساتھ ساتھ رہے کراچی میں ان کی میزبانی کا اہتمام کرتے رہےایسے وقت میں وہ مسلم لیگ ن سے چمٹے رہے جب پارٹی چھوڑنے پر مراعات کی بارش ہورہی تھی ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی ۔ صدارت کےلیے قرعہ فال جب سندھ یاکراچی کے نام نکلاتواس قدر مضبوط اعصاب کے مالک سیاسی کارکن کے ہوتے ہوئے کسی اور پرنظر کیسے ٹھہرتی ۔میاں نوازشریف اپنے مشکل وقت کے ساتھی کو کیوں ترجیح نہ دیتے ۔اب اسے سلیم صافی جیسے میرے محترم بھائی جیل کی میزبانی کا حق اداکرنا کہیں تو کہتے رہیں ۔
صحافت میں معروضیت بہت اہم ہے منفی پہلوؤں پر بات کی جاتی ہے لیکن مثبت اورروشن پہلو کو دانستہ چھپانے کی کوشش نہیں جاتی اگر کوئی یہ کہتاہے کہ میاں نوازشریف نے کوئی تابعدارصدر تلاش کرلیاتواٹھارہویں ترمیم کے بعدکیا کسی اسمبلی توڑ صدر کی گنجایش موجود ہے صدرکا ایک آئینی کردار ہے ممنون حسین بہ طور گورنر سندھ احسن طریقے سےیہ آئینی کردارنبھاچکےہیں ناقدین آخر بے اختیار صدر ثابت کرکے ممنون صاحب سے کون سا غیرآئینی کام کرانے کے خواہشمندہیں کہ وہ انہیں بااختیار ،آنکھیں دکھانے والے اورمضبوط صدر نظرآئیں ۔