فری میسن ’’ ایک دجالی تنظیم‘‘

Posted on August 8, 2013



یہودی اس دنیا کے سب سے مکار او ر ظالم قوم ہیں۔ تاریخ عالم میں جتنے بھی فسادات اور کشت و خون رونما ہوئے ہیں انکے پیچھے یہودیوں کی ہی مکر و فریب کار فرما رہی ہیں۔ دنیا میں یہودی تتر بتر اور در بدر کی زندگی گزار رہے ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف انکے مکر و دجل ہے جو طشت ازبام ہونے پر یہودی اس علاقے سے اپنا بوریا بستر گول کرتے رہے ہیں ۔ گو کہ یہ خود در بدر اور منقسم زندگی گزارتے ہیں تا ہم اقوام عالم کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے اور دنیا کو اپنے انگلیوں پر نچانے کی خواہش انکے دل میں ہر وقت موجود رہتی ہے ۔ یہودی دنیا پر اپنا تسلط جمانے کے لئے آخری حدوں تک جا سکتے ہیں اور جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے شاہوں کے تخت الٹ دئیے، علماء اور اکابرین و سیاستدانوں ، بڑے بڑے فوجی سپہ سالاروں کا قتل کرایا، کاروبار پر اپنا تسلط جمانے کے لئے طرح طرح کے قاعدے اور قانون وضع کئے ۔ یہودی ہر وقت اپنے قومی تحاریک اور کوششوں کو نہایت ہی مخفی رکھتے ہیں اور کسی کو معمولی بھنک بھی لگنے نہیں دیتے۔ بھیس بدلنا انکا محبوب مشغلہ رہا ہے اور یہ بڑے آسانی سے بھیس بدل کر اپنا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی خفیہ تنظیمات بنائے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مختلف ممالک میں انکے مختلف نام اور شناخت ہوتے ہیں تا ہم انکا مرکز و محور ایک ہی ہوتا ہے۔خفیہ یہودی تنظیم ’’ کہل‘‘ کو سب سے قدیم یہودی خفیہ کہا جاتا ہے۔ یہودیوں کی ایک اور خفیہ تنظیم ’’ محبان صیہون ‘‘(The Lovers of Zion) تھی، جبکہ عالمی سطح پر ایک معروف تنظیم ’’ فری میسنز‘‘ ہے ۔1887ء میں روس میں ’’ محبان صیہون‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس تنظیم کے ذریعے دنیا بھر کے یہودیوں کو ’’ ارض موعود‘‘ پر یورش کرنے کا اذن عام دیا گیا تھا اور انہیں راستے کے تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ’’واضح‘‘ ہدایات دی گئیں تھیں۔ فری میسن دنیا کے بیشتر ممالک میں سر گرم عمل رہی ہے اور پاکستان سمیت بیشتر اسلامی ممالک میں اسکی شاخیں موجود تھیں اور ’’ فری میسن لاجز‘‘ قائم تھے۔ اس دجالی خفیہ تنظیم کے حوالے سے انکشافات منظر عام پر آنے کے بعد بیشتر اسلامی ممالک میں اس تنظیم پر پابندی لگائی گئی، اسکے دفاتر سیل اور سرکاری تحویل میں لئے گئے۔ 1960ء میں دجالی تحریک کے پاکستان میں موجود دفاتر کو بند کیا گیا اور اس پر پابندی لگائی گئی۔ تب سے اب تک لاہور میں موجود فری میسن لاج لاوارث ہے اور کھنڈر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ پاکستان میں فری میسن لاج کے حوالے سے ایک کیس بھی عدالت میں زیر سماعت رہی ہے۔ نامور لوگ اس تحریک میں شامل تھے۔ فری میسن ہے کیا چیز؟؟ بظاہر فری میسن سماجی رابطے اور فلاحی خدمات یعنی ہسپتال، سکول و دیگر رفاہی کاموں کے حوالے سے ایک تنظیم ہے جسمیں بیس برس سے اوپر کے افراد ممبر بن سکتے ہیں۔اسے خفیہ خیراتی سلسلے کے طور پر چلایا جاتا ہے جسمیں خیرات دینا ممبران پر لازم ہے۔ اس تنظیم کے اثاثوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اثاثے کروڑوں، اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالروں کے ہیں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس تنظیم کی کوشش رہی ہے کہ پر کشش اور انسانی ہمدردی کا نعرہ لگا کر دنیا کے اہم شخصیات کو نہایت متاثر کن انداز میں اس تنظیم کا ممبر بنایا جائے تاکہ وہ تنظیم کے خفیہ سرگرمیوں کے سلسلے میں اپنے اپنے شعبہ ہائے زندگی میں راستہ ہموار کریں اور تنظیم کے لئے ممد و معاون ثابت ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک امریکی صدر جارج واشنگٹن بھی اس تنظیم کے ممبر رہے ہیں۔
یہودیوں کو اپنے عالمی ایجنڈے کی تکمیل میں صرف اسلام اور مسلمان ہی رکاوٹ نظر آتے ہیں۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے یہودی مسلمان ممالک میں مسلمانوں ہی کی نگرانی مختلف تنظیمات کا قیام عمل میں لاتے ہیں اور انکے ذریعے مختلف کام کرواتے ہیں۔ بیچارے مقامی خواتین و حضرات کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتاکہ وہ کیا کر رہے ہیں مگر درحقیقت وہ کسی ایسے مقامی تنظیم کا حصہ ہیں جو کسی نہ کسی طرح اعلیٰ سطح پر پہنچ کر ’’ فری میسن ‘‘ کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ اسکی مثال سلطنت عثمانیہ کا زوال اور ٹکڑے ہونا ہے۔ترکی میں اس وقت ایک مقامی تنظیم بنی جسکا نام ’’انجمن اتحاد و ترقی‘‘ یعنی (Committee of Union & Progree)، اس تنظیم نے مسلمانوں کے مرکز خلافت عثمانیہ کو پارہ پارہ کر دیا۔ اس تنظیم کو مکمل طور پر ایک غیر ترک اور غیر مسلم خطوط پر قائم کی گئی تھی اور اسکا کنٹرول بھی غیر ترک اور غیر مسلموں کے ہاتھوں میں تھی اور ’’ فری میسن ‘‘ کے ہاتھوں میں انکے ڈور تھے۔ چونکہ فری میسن ایکسپوز ہو چکی ہے اسلئے اسکا نام شاذو نادر ہی سننے میں آتا ہے مگر اسکے بنائے ہوئے طریقوں پر چلنے والے دیگر ادارے در اصل ’’ فری میسن ‘‘ ہی ہیں۔ بعض با خبر ذرائع کا ماننا ہے کہ ترقی پذیر ممالک بالخصوص اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں کام کرنے والے بین الاقوامی امدادی اداروں کے تانے بانے بھی کسی نہ کسی طرح فری میسن سے ملتے ہیں اور اگر بغور جائزہ لیا جائے تو فری میسن کے جو مقاصد اور دلچسپی کے شعبے ، کام کرنے کے انداز اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کے مختلف طریقے ہیں وہ انہی غیر ملکی اداروں میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اچھا اب بات یہ ہے کہ فری میسن کے مقاصد کیا ہیں اور اسکے کام کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ فری میسن کودیگر مذاہب سے نمٹنے کیلئے جو لائحہ عمل دیا گیا وہ کچھ اس طرح کا ہے:
i لوگوں کو مذہب سے بیگانہ اور بد ظن کیا جائے ۔ مقامی مذاہب کا تنقیدی مطالعہ کرکے انمیں سے منفی نقاط یوں ترتیب دئیے جائیں کہ انہیں پھیلاکر انتشار کی صورت پیدا کی جاسکے۔ عوام کے ذہنوں میں مذہب کی ایسی بھیانک تصویر بٹھائی جائے کہ وہ اگر مذہب دشمن نہ بن سکیں تو کم از کم لبرل اور سیکولر ضرور بن جائیں۔
ii مختلف مذاہب کے مقتدر اور معتبر شخصیات کو آپس میں لڑایا جائے ۔ مذہبی کتابوں کے اوراق پھاڑ کر راتوں کو عام جگہوں پر یوں پھیلا دئے جائیں کہ یہ مخالف فرقے یا مذہب کی کارستانی دکھائی دے۔
iii جن مذاہب یا فرقوں کے درمیان پہلے سے چپقلش چلی آرہی ہو اسکو تیز تر کر دیا جائے ، ممکن ہو تو نمایاں اور معتبر افراد کو ایسے طورپر قتل کر دیا جائے کہ مخالف فریق اس ذمہ داری سے نہ بچ سکے۔
اس تنظیم کی شاخیں دنیا کے تقریباً ہر ملک کے اہم شہروں میں قائم کی گئیں۔ مقامی آبادی کے ممتاز لوگوں کو اس کی رکنیت کے دائرے میں لانے کے لئے تدابیر اختیار کی جائیں۔ یہودیوں کے خفیہ سرگرمیوں کے حوالے سے تمام باتیں یہودیوں کے خفیہ دستاویز جسے دنیا یہودی پروٹوکول کے نام سے جانتی ہے، میں درج ہیں۔ اس دستاویز کی ایک کاپی فری میسن کے اعلیٰ عہدیدار یہودی خاتون کے گھر سے چوری ہوئی اور 1902ء میں دو روسی اخباروں نے اسے شائع کر دیا ۔ بعد میں شواہد سے پتہ چلا کہ یہودیوں کے خفیہ سرگرمیوں اور تنظیمات کے حوالے ہونیوالے انکشافات کا آغاز منحرف ہونیوالے یہودی جیکب بریف کے دور سے ہوا۔
فری میسن تحریک اب بھی دنیا بھر میں مصروف عمل ہے مگر جن ممالک میں اسے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے وہاں اسکا نام بدل دیا گیا ہے مگر ہر جگہ اس میں عورتوں کیلئے دروازے اب بند ہیں کیونکہ ابتدائی راز ایک عورت ہی نے منکشف کیا تھا۔بظاہر مخیرانہ سرگرمیوں میں مصروف عمل غیر سرکاری تنظیموں میں سے بیشتر ’’ فری میسن ‘‘ کے مقاصد کی تکمیل کر رہی ہیں۔ اپنے رضاکاروں کے حوالے سے فری میسن کا ماننا ہے کہ ’’ ہماری انتظامیہ کو اپنے گرد و پیش کی ان تمام قوتوں کو مجتمع کرنا ہو گا جنکے درمیان رہ کر ہمیں اپنے فرائض انجام دینا ہیں۔ ہمارے ملازمین و معاونین کے گرد ماہرین قانون بھی ہونگے، مشتہرین بھی اور ماہر منتظمین بھی ہوں گے۔ انمیں سفارت کاری کے ماہرین کے علاوہ خصوصی سکولوں کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کے افسران بھی شامل ہونگے۔ یہ افراد سماجی ڈھانچے کے تمام اسرار و رموز کے شناور ہوتے ہیں اور ان تمام زبانوں سے بھی واقف ہونگے جو سیاسی سوچ کے اظہار کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ لہذا ہر تفویض کردہ کام کو اچھی طرح انجام دے سکیں گے۔ ہم انہیں انسانی فطرت کے خفیہ پہلوؤں اور ان حساس تاروں سے بھی آشنا کردیں گے جنہیں چھیڑ کر وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ یہ تار غیر یہودیوں کی افتاد طبع، انکے رجحانات و میلان، انکی کمزوریوں اور خوبیوں اور انکے طبقاتی مزاج کی تفصیلات سے متعلق ہوں گے‘‘۔فری میسن کے اجتماع گاہوں یعنی فری میسن لاجز کے حوالے سے یہودی پروٹوکول میں درج ہے کہ ’’ جبتک ہم اپنی سلطنت میں داخل نہیں ہوجاتے اس وقت تک ہم اسکے بر عکس رویہ اختیار کرینگے۔ ہم دنیا کے تمام ممالک میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں فری میسن اجتماع گاہیں قائم کرینگے ۔ ایسے تمام مقامی افراد کو اس تنظیم میں شامل کر لیا جائیگا جو عوام میں نمایاں حیثیت رکھتے ہوں یا آئندہ اہمیت حاصل کرنیوالے ہوں۔یہ اجتماع گاہیں (لاجز ) ہمارے لئے جاسوسی کے سب سے اڈے اور لوگوں کو متاثر کرنے کا ذریعہ ہونگے۔ ان اجتماع گاہوں کو ایک مرکزی انتظامیہ کے تحت لایا جائیگا جس کا علم ہمارے سوا کسی کو نہ ہو گا اور ان اجتماع گاہوں میں ہمارے نمائندے شامل ہونگے جو انتظامیہ کیلئے پردہ کا کام دینگے اور جو نعرے اور پروگرام دیں گے انکے ذریعے ہم ایسی گرہ دینگے جو انقلابی اور لبرل عناصر کو آپس میں مضبوطی سے باندھ دینگی۔ ان میں معاشرے کے ہر سطح کے لوگوں کو شامل کیا جائیگا۔ غیر یہودی فری میسن لاجز میں جذبہ تجسس کیوجہ سے داخل ہوتے ہیں یا اس امید میں آتے ہیں کہ شاید اسطرح وہ کوئی فائدہ اٹھا سکیں۔ انمیں سے کچھ لوگ اپنے بے بنیاد اور نا قابل عمل خیا لات کااظہار کرنے کے شوق میں آپھنستے ہیں۔ ایسے لوگ تحسین اور تعریف سننے کے بھوکے ہوتے ہیں‘‘ ۔ فری میسن تنظیم کے ممبرا ن کے حوالے سے پروٹوکول میں لکھا گیا ہے کہ ’’ خفیہ تنظیموں میں شامل ہو نے کے خواہشمند افراد عموماً چالاکیوں سے روزی کمانے والے لاابالی ، بے فکرے اور بے دھڑک قسم کے لوگ ہوتے ہیں لہذا انہیں اپنے مقصد کیلئے استعمال کرنے میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی‘‘۔ فری میسن کے غیر یہود رضاکاروں کے حوالے سے تنظیم کا کہنا ہے کہ ہم انہیں مقامی غیر یہود سیاسی، سماجی اور کاروباری اداروں، تنظیمات اور جماعتوں میں شامل کرینگے اور انہیں ایسی تربیت دی جائیگی کہ ہونگے وہ غیر یہود مگر کام وہ ہمارے مفادات اور مقاصد کے لئے کرینگے اور اپنے تئیں انہیں پختہ یقین ہو گا کہ وہ (غیر یہود) بالکل صحیح اور قومی مفاد اور تقاضے کے مطابق کام کرتے ہیں، انہیں اپنے کام میں کوئی برائی اور شک کا ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہو گا بلکہ وہ بھرپور اور توانا انداز میں اپنے ہر اس کام کا دفاع کرینگے جو وہ ہمارے لئے کرتے ہیں، انہیں پختہ یقین ہو گا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہی سب سے بھلی ہے ، درست ہے اور سب سے بڑھکر ہے‘‘
1858ء میں یہودیت سے منحرف ہونے والے شخص جیکب بریف نے مختلف شواہد سے ثابت کیا کہ صیہونیوں کی قدیم خفیہ تنظیم ’’ کہل‘‘ روس میں سر گرم عمل ہے اسکے بعد پھر کیا تھا روس میں یہودیوں پر افتاد ٹوٹ پڑی۔ روس میں قدیم یہودی تنظیم ’’ کہل‘‘ کے ایسے دجالی سرگرمیوں کا پتہ چلنے کے بعد زار روس کے دور میں انکے خلاف زبردست ایکشن لئے گئے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا تو یہودی خفیہ تنظیموں نے سیاسی اصلاحات کا نعرہ لگایا اور یہ نعرہ اتنا خوش کن تھا کہ روس میں کسی کو شبہ نہیں ہو سکا کہ اس انقلاب کے نعرے کے پیچھے اصل میں کون ہیں۔ روس کے یہودیوں نے زار روس(الیگزینڈر) سے معاملات طے کرنے کی کوششیں کی مگر جب ناکامی ہوئی تو زار روس کو خاندان کے دیگر افراد سمیت قتل کر دیا گیا۔ روس میں پھیلنے والے ’’ کمیونزم‘‘ کی تحریک در حقیقت یہودیوں کی ہی تحریک تھی جو انہوں نے خفیہ انداز میں شروع کی تا کہ روس میں انقلاب اور اصلاحات کے نام پر اپنے پنجے گاڑے جائیں۔ ’’بالشوازم‘‘ بھی یہودی کی ایجاد ہے جو کہ کمیونزم کے لبادہ اوڑی ہوئی تھی۔ روس کے کمیونزم کے داعی اور روح رواں کارل مارکس اور لینن بھی دراصل یہودی ہی تھے جنہوں نے کمیونزم کے پردے میں پناہ لی تھی۔ بالآخر کمیونزم کے ذریعے یہودیوں کو فتح حاصل ہوئی۔
فری میسن جیسے دجالی تنظیم کے حوالے سے مختلف اوقات میں دنیا بھر میں لکھے گئے آرٹیکل اور مضامین چھاپے جاتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پوری دنیا کو فری میسن کے حوالے سے مکمل آگاہی اور معلومات ہیں مگر یہودی لابی اتنا مضبوط اور طاقتور ہے کہ باوجود سازشوں کا علم ہونے کے انکے خلاف مضبوط اور توانا تحریک نہیں چل سکی جو یہودیوں کے ان سازشوں کا ناکام بنا سکے۔ ہمارے ملک پاکستان کے موجودہ حالات کو اگر دیکھا جائے تو یہودی پروٹوکول میں درج ’’ فری میسن ‘‘ کے حوالے سے موجود ضابطوں کے عین مطابق جاری ہیں۔ فرقہ واریت، معاشی و معاشرتی عدم تحفظ اور عدم استحکام ، سرکاری و نجی اداروں میں موجود بے پناہ کرپشن ، لوٹ کھسوٹ ۔۔۔۔ یہ سب کچھ عین فری میسن کے ترتیبات کے مطابق ہیں۔ اکثر غیر ملکی ادارے جو ہمارے ملک میں کام کرتے ہیں وہ انہی خطوط پر قائم اور سرگرم ہیں۔ ٹھیک ہے کہ فری میسن کا وجود پاکستان میں عیاں نہیں مگر اس کے انڈے سے نکلے ہوئے چوزے بھرپور انداز میں کام کرتے ہیں۔ یہودیوں کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ کسی بھی طرح دنیا پر اپنا تسلط جمائیں، اقوام عالم کو اپنے جبر و استبداد کے پنچے میں جکڑے رکھیں اور ایسے حالات اور موقع تریب دیں کہ باوجود کوشش کہ دنیاکے غیر یہود ان کی ریشہ دوانیوں سے بچ نہ سکیں۔ اس مقصد کے لئے یہودیوں کی خفیہ تنظیمات بالخصوص ’’ کہل‘‘ جو کہ سب سے قدیم خفیہ تنظیم بتائی جاتی ہے، کے علاوہ ’’ محبا ن صیہون ‘‘ کے علاوہ ’’ فری میسن ‘‘ مصروف عمل رہے ہیں اور اب بھی انتہائی خفیہ طور پر سرگرم عمل ہیں۔