“دے مار ساڑھے چار”

Posted on August 8, 2013



کچھ یاد نہیں آتا یہ بے ہودہ محاورہ یا بازاری جملہ کب سنا تھا لیکن اتنا یادہے کہ یہ کسی بھی معاملے کی شدت بیان کرنے کے لیئے کالم میں استعمال ہوتا تھا کوئی ایسا ۔۔ چھوڑو۔۔ جس کو سب اندر باہر سے جانتے ہوں اپنے کہانی سناتے ہوئے ہمیشہ یہی ٹیپ کا بند استعمال کرتا تھا۔ ۔۔۔بس تیرے بھائی نے سیٹی بجائی وہ سامنے سے آرہی تھی سیٹی کی آواز پر اس نے تو نہیں دیکھا لیکن اس کے بھائی آ گئے بس پھر کیا تھا ۔۔ دے مار ساڑھے چار؛؛

ایسے موقع پر گزک کا محاورہ بھی یاد آتا ہے۔ پیلی ہو رہی ہے گزک۔ ہری ہو رہی ہے۔ چھوڑیں پھر کبھی لیکن امریکیوں کو پہلی بار خوف سے پیلا ہوتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر وہی۔۔۔ دے مار ساڑھے چار۔۔۔۔ ہوا یہ کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری اور القاعدہ عرب پنسولا کے سربراہ کی ایک گفت گو کا الیکٹرانک ٹکڑا ملا ہے۔ (یہ ٹیلی فون کال نہیں ہے) جس میں ڈاکٹر الظواہری نے کہا ہے کہ اب کچھ کرنا چاہیئے۔ یہ سننا تھا کہ امریکی ایجینسیوں نے زمین اور آسمان کے ایسے قلابے ملائے کہ ۔۔۔۔ دے مار ساڑھے چار۔۔ کا عملی منظر نامہ سامنے آ گیا۔ سب ہی الرٹ ہو گئے۔ یمن سمیت کئی مسلم ممالک میں سفارت خانے کئی کئی دن بلکہ آٹھ اگست تک بند کر دیئے گئے۔ بری، بحری اور فضائی نگرانی سخت کر دی گئی۔ تمام مصنوعی سیارے حملہ آور کو تلاش کرنے میں لگ گئے اور یہ بھی بات ہونے لگی کہ امریکی سیکیورٹی نیٹ ورک کو ملنے والی ٹیلی فون کالز میں کس جملے کو ۔۔خطرے کا سبب قرار دیا جائے۔۔

ہم پاکستانی بہت حساس قوم ہیں جب بھی ہمارے ٹیلی فون ٹیپ ہوتے ہیں تو ہم چلا اٹھتے ہیں۔ ہمارے ججز کو بھی غصہ آ جاتا ہے۔ آزادی صحافت پر حملہ ہو جاتا ہے لیکن امریکا میں تو ہر فون ٹیپ ہوتا ہے، نیشنل سیکیورٹی کے نام پر وہاں نہ صحافی، نہ ججز کوئی بھی غصہ سے بے قابو نہیں ہوتا بلکہ کانگریس میں دونوں جماعتوں کے درمیان ذرا سی طعنہ زنی کے بعد قومی مفاد میں مک مکا ہو جایا کرتا ہے۔

ویسے ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے اداروں کو ٹیلی فون ٹیپ کر کے کیا حاصل ہوتا ہو گا۔ مہینے سے پہلے پیسے ختم ہونے کا دکھڑا، سی این جی پمپ بند ہونے کا رونا۔ گوشت کی قیمت میں اضافے کی شکایت، پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا شکوہ اور زیادہ سے زیادہ افواہیں۔۔؛؛؛؛ اس سے زیادہ خطرناک باتیں تو ہم اینکرز اور صحافی کر لیتے ہیں لیکن ٹیلی فون پر نہیں۔ ٹی وی پر۔۔ ٹیلی فون پر فون ٹیپ کرنے کا خطرہ ہوتا ہے نا۔۔۔۔

خیر چھوڑیں۔۔ ہمارے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے شکوہ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کو طالبان سے بات کرنے سے روک رہے ہیں۔ اس سے پہلے عمران خان اور مولانا فضل الرحمان میں ۔۔ دے مار ساڑھے چار۔۔۔ اس وقت ہوئی جب مولانا نے عمران خان کو یہودی یا یہودی ایجنٹ قرار دیدیا اور عمران خان نے بین السطور ان کو امریکی ایجنٹ کہہ ڈالا۔۔۔

اس سے قطع نظر ایک لال بجھکڑ دور کی کوڑی لائے اور پوچھنے لگے کہ آخر تحریک انصاف طالبان سے بات چیت کرنے پر اتنا اصرار کیوں کر رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔ امن قائم کرنے کے لیئے۔۔۔ ہم نے دست بدستہ عرض کی کہ اتنے پولیس والے مر چکے ہیں، بنوں جیل کے بعد ڈی آئی خان جیل پر بھی حملہ ہو چکا ہے۔ حالات خطرناک ہیں۔ لگتا ہے حکومت کو طالبان سے زیادہ اپنے اوپر توجہ رکھنی چاہیئے۔ لال بجھکڑ نے سگریٹ سلگاتے ہوئے آنکھ ماری اور بعد ازاں افطار ڈنر کی طرف بڑھ گئے۔

سوال یہی ہے کہ اگر طالبان ہم سے بات کرنے پر رضامند ہوتے تو ڈی آئی خان جیل کا واقعہ کیوں ہوتا۔ کے پی کے میں دھماکے کیوں ہوتے اور طالبان رضامند نہیں تو پرویز خٹک اپنی حکومت سے یہ کیوں نہیں کہتے کہ عوام کی حفاظت کرو۔ تحریک انصاف نے بہت وعدے کیئے تھے۔۔۔ ڈرون تک کا وعدہ وفا نہیں ہوا۔۔۔

مرگلہ ہلز کے واقعے سے پہلے ہمیں یقین تھا کہ اگست کے پہلے ہفتے میں اے پی سی بھی ہوجائے گی۔ عمران خان کی آرمی چیف اور وزیر اعظم سے خفیہ ملاقات بھی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ الٹا 6 آگست کے الیکشن 30 جولائی کو کرالیے گئے اور شرمناک ایک گالی بن گئی۔
کاش کوئی منٹو کے افسانے بھی پڑھ لے پھر اسی پر بس نہیں وزیر اعظم گھبرائے گھبرائے کراچی آئے بابا کے مزار پر گئے ان کے چہرے پر بے حد بوکھلاہٹ تھی بار بار پیشانی پر ہاتھ رکھ رہے تھے، بقول شاہین صہبائی کے انہیں شاید اندازہ ہو چلا تھا کہ میں نے پنگہ لے لیا ہے۔ ابھی بھی امید تھی کہ دہشتگردی کے خلاف جامع پالیسی بس آجائے گی ابھی۔۔۔۔۔ لیکن پھر وزیراعظم گوادر سے براستہ کراچی جدہ چلے گئے۔ اب 8 اگست کو آئیں گے۔۔ پھر عید کی تعطیلات۔
کہاں گئی نیکٹا یا ہماری پالیسی برائے انسداد دہشتگردی کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ صفحہ ہی غائب ہوگیا جس پر وزیراعظم اور آرمی چیف ایک ساتھ تھے۔
وزیراعظم بھی چپ چپ ہیں حالانکہ موسم اچھا ہے۔

پیپلزپارٹی پرپرزے نکال رہی ہے۔

کیا ہونے والا ہے ؟ اسمبلی میں۔

کیا پھر وہی دے مار ساڑھے چار۔