Topics Articles پاکستان میں حکمران طبقے کاگٹھ جوڑ اور عوام

Posted on August 7, 2013



Aftab Ahmed

Journalist Working as Editor
پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر ایشوزپیدا کیے جاتے ہیں ،ذارئع ابلاغ اور اس ملک کے مراعات یافتہ و دانش سے محروم تجزیہ نگار وسیاستدان اپنے اپنے تجزیوں کی توپیں لے کر بیٹھ جاتے ہیں ۔یہ ہوگا اور کیا ہوگا کا ورد شروع کردیا جاتا ہے۔پاکستان اپنے قیام کے بعد سے ملٹری ،ملاؤوں اور جاگیرداروں کے اتحاد میں چلنے والا ملک ہے ۔جس میں ہمیشہ آرمی اور جاگیردار مضبوط رہے ہیں۔پاکستان میں کبھی قومی سرمایہ دار منظم نہیں ہوا ہے ۔جب کبھی بھی اس کو اقتدار ملاء ہے تو وہ جاگیردار ،ملٹری ،ملاؤوں اور سامراج گٹھ جوڑ کے باعث۔اس لیے وہ کوئی آزادنہ حثیت اختیار نہیں کرسکا ہے۔ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں قومی سرمایہ دار کبھی متبادل کے طور پر سامنے نہیں آسکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی پارٹی کی حکومت قائم ہو جا ئے عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔یہاں تک کہ سرمایہ دار اور جاگیرار ایک دوسرے کی ضدہیں کبھی ایک دوسرے کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے ہیں۔پاکستان میں کبھی سرمایہ داروں نے جاگیرداری کے خلاف پالیسیاں نہیں بنائی ہیں۔کیونکہ سرمایہ دار کا اقتدار بھی جاگیرداروں اور سامراجی سرمائے کے مرہون منت ہے ۔ اسی گٹھ جوڑ نے الیکشن میں بھی ایک ایسا مینڈیٹ ترتیب دیا ہے کہ سب کو تھورا تھوڑاحصہ دے کر ان کے منہ بھی بند کروا دیئے ہیں۔ان دنوں پاکستان میں آئے روز نت نئے ایشوز سامنے آتے ہیں۔صدر پاکستان کے انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے اعلٰی عدالت کی جانب سے فیصلہ ،اس کے بعد عمران خان کی طرف سے تنقید کے بعد توہین عدالت کا نوٹس،پھر فضل الرحمان کی طرف سے عمران خان پر یہودیوں کا ایجنٹ ہونے کے الزامات جواب میں تحریک انصاف کی جانب سے فضل الرحمان کے خلاف واویلا۔یہ سب وہ باتیں ہیں جن کا پاکستان کے عوام کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔بلکہ پاکستانی ریاست کے گہرئے ہوتے ہوئے بحران، زوال اور بجٹ کے بعد لگنے والے ٹیکسوں اوربڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کی ایشوز پیدا کر کے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی یہاں تک کہ ڈی آئی خان کی جیل سے طالبان 250ساتھیوں کو رہا کروا کر لے گئے۔جس کی وجہ اس ریاست اور اس کے اداروں بارے میں ملکی و بین الاقومی سطح پر ایک تاثر ابھر ا ہے کہ طالبان ریاستی اداروں کی مدد کے بغیر جیل تک کیسے پہنچے ۔اس واقعہ نے تو موجودہ نظام اور روس کو مار بھگانے والے ادروں کی حقیت واضح کردی ہے۔دوسری طرف قومی خزانے کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے موجودہ حکومت آئے روز 95فیصد غریب پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے میں مصروف ہے ۔اس پر سے توجہ ہٹناے کے لیے اس ملک کے حکمران طبقات اور ادارے نان ایشور پیدا کررہے ہیں۔حالانکہ یہ بات عام سی ہے کہ پاکستانی ریاست استحصالی ریاست ہے جس کا حکمران طبقہ 95 فیصد عوام کا استحصال کررہا ہے۔اور اب جہاں دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں سماجی و معاشی نظام زوال پذیر ہے وہاں پاکستان کا ریاستی نظام بھی زوال کی انتہا کو پہنچ چکا ہے جس میں اصلاحات کی تمام تر کوششیں ناکام ہوتی جارہی ہیں،کیونکہ نتائج کے لیے وقت درکار ہے۔جبؓ بحران حاوی ہے۔جو دن بدن گہرا ہوتا جارہا ہے ۔جس سے توجہ ہٹناے کے لیے اس ملک کی اشرافیہ اور ادارے مل جل لا حاصل بحث چھیڑے ہوئے ہیں ۔تاکہ عوام مصروف رہے۔پاکستان میں بعض معصوم لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ اورعمران خان انصاف کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ عدالتیں اور ادارے اسی استحصالی نظام کے تحت قائم ہیں اور یہ نظام 95فیصد عوام کا دشمن ہے اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام دشمن نظام کے ادارے عوام کو انصاف دیں گئے۔عوام کو انصاف اسی وقت ملے گا جب عوامی عدالتیں قائم ہوں گی،اس لیے یہ بات سمجھنا ہوگی کہ یہ ذرائع ابلاغ اور ادارے اسی نظام کے نمائندے ہیں ۔جس نے وسیع تر انسانوں کوجبر، غربت،جہالت اور پسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔اور عمران خان بھی اسی جاگیردار،ملاں،ملٹری اور سامراجی گٹھ جوڑکا حصہ ہیں۔اس لیے پاکستان کے عوام دوست و ترقی پسند دانشوروں کو چاہیے کہ عوام کی درست سمتوں میں راہنمائی کریں اور ان پر واضح کریں کہ یہ سب عوام دشمن ہیں۔او ر پاکستان کے وسیع تر عوام کو ان کیخلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔کیونکہ یہی ان کی سیاسی،سماجی و معاشی غلامی کا باعث ہیں۔