Column in Daily Din “Urdu Lughaat aur lafz Sharamnaak” by Jahid Ahmad.

Posted on August 6, 2013



ڈکشنری یا لغت الفاظ کا ایسا دخیرہ ہوتا ہے جس میں موجود الفاظ کو کسی خاص ترتیب سے درج کیا جاتا ہے اور ہر لفظ کے مقابل اس کا مطلب،استعمال، ترکیبِ گرائمر و تلفظ بیان کیا جاتا ہے جس سے اس لفظ کی تشریح تکمیل پاتی ہے۔لغت کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قدیم ترین لغت اکادیین زبان کی ہے جو 2300 ق م میں مرتب کی گئی، اسی طرح پہلی چینی لغت قریباٌ 300ق م میں ترتیب پائی، پہلی سنسکرت کی لغت چوتھی صدی عیسوی میں مرتب کی گئی،عربی لغت کی ترتیب کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا، نویں صدی عیسوی میں آئرش زبان کی اولین لغت ترتیب دی گئی، ہندوستان میں امیر خسرو نے 1320 ء میں ہندی اور فارسی زبان پر مبنی الفاظ کی لغت مرتب کی، پہلی انگریزی لغت 16ویں صدی عیسوی میں ترتیب دی گئی ، جبکہ ہندی اور فارسی کے ساتھ ساتھ اردو کی لغت بھی 18 ویں اور 19 ویں صدی میں مرتب ہونے لگی تھیں۔یہ تمام لغات صدیوں کا سفر طے کر کے اہلِ زباں، اہلِ علم، اہلِ ذوق اور استادوں کے ہاتھوں میں پنپتے ہوئے بتدریج رو براہ ہوتے پائیہ تکمیل تک پہنچیں۔
موجودہ دور میں اردو کی مستند ترین لغات میں سے ایک فرہنگِ آصفیہ کے نام سے جانی جاتی ہے جو مولوی سید احمد دہلوی نے مرتب کی جبکہ دوسری نور اللغات ہے جس کے مولف مولوی نورالحسن نیر کاکوروی ہیں ۔ ان دونوں مستند لغات سے لفظ’ شرمناک ‘ کا صحیح مطلب جاننے و جانچنے کی سعی کی تو یہ تصدیق با مہر ہوئی کہ شرمناک کے لفظی معنی کسی فعل کے نتیجہ میں ندامت ہونے یا عزت جاتے رہنے کے ہیں ۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں!!!
یکم اگست کو عمران خان صاحب کی توہینِ عدالت نوٹس کے تحت سپریم کورٹ طلبی میں اور کچھ ہوا یا نہیں پر یہ بحث ضرور چھڑ گئی کہ آیا لفظ شرمناک گالی ہے یا نہیں؟ہم تو آج تک یہی سمجھتے آئے تھے کہ عدلیہ کا کام آئین و قانون کی تشریح ہے پر اب ہمیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ عدلیہ الفاظ کی نئی تشریح کرنے اور لغت کی تصیح کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے!!! اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب پاکستان کی تمام اردو لغات میں الفاظ کے مقابل کم سے کم دو دو مطالب درج ہونے چاہییں، ایک اس لفظ کا لغوی معنی اور دوسرا اس کا عدالتی معنی!

ہم تو یہ بھی سمجھتے تھے کہ کم از کم کتاب کی حد تک ہی سہی پر آئینِ پاکستان کے مطابق تمام پاکستانی برابر ہیں، ان کے حقوق برابر ہیں اور قانون کا اطلاق بھی برابر ہے پر کتابی باتیں کتابی ہی ہوتی ہیں وگرنہ صدرِ پاکستان کو استثنی کیونکر حاصل ہوتا اور اگر حالیہ عام و صدارتی انتخابات کے تناظر میں عمران خان کو عدلیہ پر تنقید کے باعث توہینِ عدالت کا نوٹس ملتا تو پھر پاکستان کی ایک اکثریت کو بھی یہی نوٹس ملنا چاہیے تھا جس میں عام اشخاص سے لے کر خواص و اعلی سیاسی شخصیات بھی شامل ہوتیں۔ توہینِ عدالت کا پٹارا کھولا تو وطنِ عزیز کا طول و عرض اس کی زد میں آئے گا!!!
عدالت کی عزت و توقیر اپنی جگہ پر عدلیہ کو بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ بھی اسی معاشرے اور

نظام کا ایک حصہ ہے جو باقی دوسرے اداروں کی طرح گرتے پڑتے اپنی ساکھ بہتر کرنے میں مصروفِ عمل ہے ، ایسی صورتحال میں اگر عدالت بڑے بڑے طوفان میل فیصلے صادر کرے گی تو اس کو ذرا کھلے دل کے ساتھ تھوڑی بہت تنقید بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ عدلیہ اتنی حساس نہ بنے کہ کسی کہ منہ سے نکلا تنقید کا ایک لفظ بھی اسے گالی محسوس ہو! عدلیہ کا ماضی اتنا بے داغ و اجلا تو ہر گز نہیں ہے کہ کیچڑ کی اڑی پڑی ایک چھینٹ سے بد نما دکھائی دینے لگے! پی سی او کے تحت حلف، ڈکٹیٹر کو آئینی تحفظ بخشنا، ارسلان کیس سب اس کے ماضی کا اٹوٹ انگ ہیں پر ان تمام باتوں کے باوجود عدلیہ کی عزت قائم رکھی جا رہی ہے اور اس عزت کا قائم رہنا اشد ضروری بھی ہے تو عدلیہ کو بھی ایسے چھوٹے موٹے معاملات سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے جو اس کے کردار کو متنازعہ بنا دیں۔ اس ملک میں توہینِ عدالت سے کہیں ضخیم و ثقیل مسائل موجود و توجہ طلب ہیں!!
کوئی بھی شخصیت یا ادارہ لوگوں کو سزا کے خوف سے اپنی عزت کرنے کا پابند نہیں کرا سکتا ، عزت اعمال اور کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہے خوف کی بنیاد پر نہیں ۔ سزا کا خوف صرف زبان مقفل رکھنے پر مجبور کر سکتا ہے ، زبان بند رہے گی تو دل میں قدورتوں کی بیل پروان چڑھنے لگے گی اور پھر نفرت بن کر بغاوت کی صورت میں معاشرے میں انتشار پیدا کرنے کا باعث بنے گی! ایسا تو فرعونیت کے دور میں ہوا کرتا تھا اور پاکستان 65 سالوں میں فرعونیت کے کئی دور بھگت چکا ہے۔ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے، کسی نئی فرعونیت کا
نہیں!!!

عمران خان نے عدالت کے روبرو یکم اگست کی سٹیٹمنٹ میں عدلیہ سے اپنی محبت اور عزت کا اعتراف کیا ، عدلیہ کے لئے کاٹی آٹھ روزہ قید بھی یاد کروائی اور معاملے کو یہ کہہ کر ختم کرنے کی کوشش بھی کی کہ ان کی تنقید کا محور ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران تھے پر عدالت اس محاذ کو ختم کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دی۔عدالت شاید ان سے بھی دیگر سیاستدانوں کی روش پر غیر مشروط معافی نامہ کی امید رکھتی ہے پر جہاں تک بات ہے عمران خان کی تو ان کی جانب سے عدلیہ سے غیر مشروط معافی مانگ کر اس معاملے کو رفع دفع کر دینا ممکن نہیں لگتا، خان صاحب کچھ فرق انسان ہیں!! پاکستانی عوام اس شخص کو کئی دہائیوں سے جانتے ہیں! کرکٹ کھیلی تو اپنے اصولوں پر، فلاحی کام کئے تو اپنے طریقہ پر،سیاست کی تو اپنے انداز پر! شکست سے یہ ڈرتا نہیں، گر کر اٹھنا اس کو خوب آتا ہے، اصولوں کا پکا ہے، نڈر و بہادر ہے، فیصلہ ساز شخصیت کا حامل ہے، جوشیلہ ہے، کسی حد تک جذباتی بھی ہے، جیتنا آتا ہے، کامیاب ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کی ووٹوں کے حساب سے دوسری بڑی جماعت کا لیڈرہے اور لوگ خصوصاٌ نوجوان اس سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ یہ ہار کر بھی جیت جائے گا۔ عدلیہ سے چلتے اس تازہ ترین تنازع میں اگر یہ اپنے موقف پر قائم رہے جس کی قوی امید بھی ہے تو چت اور پٹ دونوں عمران خان کے ہیں جو اس کی شہرت کو مزید دوام بخشیں گے!!!

کسی قومی رہنما کے لئے ایوان کی کرسی کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی ! نا اہلی اس کو صرف ایوان میں قدم رکھنے سے روک سکتی ہے عملی سیاست سے نہیں ، قید اس کو صرف کسی کوٹھری تک محدود کر سکتی ہے اپنے پیروکاروں کے دلوں سے باہر نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں نہ انتشار کی کمی ہے نہ انتشار پھیلانے والوں کی! یہاں مذہب ، فرقہ بندی، یہود و نصار، ملکی سالمیت، سیاست، وزارت کے نام پر انتشار پھیلانے والے بے بہا موجود ہیں تو کم از کم عدالت کو ایسے کسی انتشار کا موجب نہیں بننا چاہیے جو انقلاب کی شوقین عوام کے دلوں میں جلنے والی تحریر سکوائر جیسی چنگاری کو ہوا دے کیونکہ پاکستان کسی تحریر سکوائر کا متحمل نہیں ہو سکتا!!!