پاکستان کے موجودہ حالات کیا اللہ کی ظرف سے سزا ہیں؟

Posted on August 6, 2013



رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے آخری عشرے میں اللہ پاک سے خصوصی دوائیں مانگی جاتی ہیں اور یہ ہمارا یقین بھی ہے کہ اللہ ہماری دعاؤں کو قبول کرتا ہے لیکن ان دعاؤں کی قبولیت کا عملی کوئی اشارہ نہیں ملتا کیونکہ ہم دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ پاکستان کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرما، اور پاکستان دن بدن کمزور اور ناکام ہوتا نظر آتا ہے،ہم امن اور سکون مانگتے ہیں لیکن پاکستان میں اتنا ہی ذیادہ انتشار بڑھتا ہے، ہم اچھے حکمران مانگتے ہیں لیکن ہمیں ٹچری ملتے ہیں، اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہیں جن میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی اور ہم اسے اللہ کی سزا سمجھتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اشرف المخلوق کا درجہ دیا ہے اور اسے یہ اختیار بھی دے دیا ہے کہ وہ اپنا اچھا برا سوچ سکے اور اللہ نے اپنی رضا کے بارے میں علم دے دیا ہے کہ کونسا راستہ اللہ کو پسند ہے اور کونسا نا پسند، اب اللہ کی مدد اسے ہی ملے گی جو اللہ کے دئے ہوئے علم کی روشنی میں اپنی ذندگی بسر کرے اور جو اللہ کی پسند کو مد نظر رکھ کر اپنے روزمرہ کے معمولات نبھٹائے گا اسے پریشانیوں کا سامنہ نہیں کرنا پڑھے گا اور وہ اسکی خوشحال ذندگی ہو گی لیکن جس نے اللہ کے بتائے ہوئے نظام حیات کے برعکس کیا وہ پریشانیوں میں گھرا رہے گا اور وہ اسے اللہ کی سزا کہے گا جو سراسر غلط ہے،
اللہ تعالی کا علم قرآن ہے، جو اللہ پاک نے اپنے پیارے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا، اور ہمیں یہ بتا دیا گیا ہے کہ اس پاک کلام میں بتائے گئے اصولوں کے مطابق اپنی ذندگیاں گزاری جائیں اور اس تعلیم کے لئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری کائنات کے لئے معلم بنا دیا گیا، اور اسطرح وہ اختیار ہمارے پاس آگیا کہ ہم نے خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا راستہ صحیح ہے اور کونسا غلط۔اور غلط صحیح کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے واضع بتا دیا کہ کونسی چیزیں ہمیں اللہ کے قریب کریں گی اور کونسی چیزیں ہمیں اللہ سے دور کر یں گی،انسانی دنیا کی یہ واضع مثال ہے کہ اگر آپ کسی کی بات مانتے ہیں،کسی کا احترام کرتے ہیں کسی کی دل آزاری کرنے سے ڈرتے ہیں، کسی کا کہا فورن مانتے ہیں اور کوئی کام اسکے حکم کے بغیر نہیں کرتے تو وہ شخص بھی آپکی ہر آسائش کا خیال رکھتا ہے اگر اس فانی دنیا میں ایسا ہوتا ہے تو وہ رب جس نے یہ سارا علم عطا کیا ہے وہ کیسے ہم سے محبت نہیں کرے گا، وہ کیسے ہماری دعائیں قبول نہیں کرے گا، وہ پاک اللہ ہماری کیسے آسائشیں پوری نہیں کرے گا جب ہم ہر کام اسکے حکم کے مطابق کریں گے، ہم ہر وقت یہ سوچ کر کام کریں گے کہ کوئی ایسا نہ ہو جس سے اللہ ناراض ہو،لیکن آج جب ہم ہر کام اللہ کی رضا کے خلاف کر رہے ہیں، جب ہماری ذندگی کا ہر ایکشن اللہ کی بتائی ہوئی تعلیمات کے خلاف ہے، جب ہم ٹوٹلی اللہ اور اسکے رسول کی بتائی تعلیمات کے خلاف کر رہے ہیں اور اسکے نتیجے میں ہمیں پریشانیوں نے گھیرا ہوا ہے اور ہم اسے اللہ کی طرف سے سزا کہتے ہیں، جو کہ ایک الزام ہے اپنی ناکامیوں کا اور اسے ہم نااعوزباللہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں،
ہر وہ کام جو اللہ کو خوش کرنے کے لئے کیا جائے، وہ عبادت میں شمار ہوتا ہے، ہر وہ کام جسے اللہ کی بتائی ہوئی تعلیمات کے مطابق کیا جائے اس میں کامیابی ہی ہوتی ہے، آج ہر مسلم جانتا ہے کہ ہمارا دین ہم سے کیا چاہتا ہے ہمیں ذندگی کیسے گزارنے کا کہا گیا ہے لیکن ہم ان ساری تعلیمات کے برعکس چلتے ہیں اور پھر نتائج پر شکوہ کرتے ہیں، ہم سچ نہیں بولتے، ہم حرام کھاتے ہیں، ہم لوگوں کے حقوق کا خیال نہیں کرتے، ہم انصاف نہیں کرتے، ہم رزق حلال پر یقین نہیں رکھتے، ہم ملاوٹ کرتے ہیں، ہم ہر معاشرتی برائی کرتے ہیں اور پھر کامیابی کی توقع بھی رکھتے ہیں،
اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ذندگی بسر کرنی پڑے گی، اگر دنیا کو جنت بنانا ہے تو اسلام کے سنہری اصولوں پر گامزن ہونا پڑے گا،اگر ہم ہر کام نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائی ہوئی تعلیمات کے مطابق کرنے لگیں تو نہ صرف ہماری دنیا اچھی ہو گی بلکہ آخرت بھی یقیناء اچھی ہو گی کیونکہ اسلام کے سنہری اصول دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں!!!!