عدلیہ کی کارکردگی اور توہین عدالت

Posted on August 4, 2013



اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم ایک اسلامی ریاست میں آزادی سے رہ رہے ہیں مگر افسوس کہ یہاں کچھ اعلی افسران اور معاشرے کے چندلوگ اسلامی اقدار کو روندتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔مثال کے طور پر اپنے ملک کےعدالتی نظام کو ہی دیکھ لیں کہ کیا انصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے جج صاحبان فیصلے سناتے ہیں اور کس حد تک ان کئے گئے فیصلوں پر عمل در آمد ہوتا ہےاور کیا تمام فیصلے اسلامی رویات کو مد نظر رکھتے ہوئے سنائے جاتے ہیں اس حقیقت سے آپ تمام لوگ بخوبی آگاہ ہیں کہ ہماراعدالتی نظام تباہی کے دہانے کی طرف جا رہا ہے کیونکہ جس طرح پاکستان میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے عدالتی نظام کی کارکردگی واضح دکھائی دے رہی ہے یہ جرائم اس وقت ہی کم ہونا شروع ہوں گے جب مجرم کو اس کے جرم کی قرار واقعی سزا ملے گی،جب چورکو سزا کے طور پر ہاتھ کاٹ دینے کا حکم ہوگا اسی طرح قتل کرنے والے کے متعلق نہ صرف پھانسی کا فیصلہ آئے ہو گا بلکہ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔پچھلے پانچ سالوں کے دوران صرف ایک مجرم کو پھانسی دی گئی اس سے اندازہ لگا لیں کہ جرائم کی شرح میں کیسے نہ اضافہ ہو۔
ہمارے ملک میں عدلیہ کی کارکردگی تقریبا صفر ہے اور اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں،بیشک یہ ایک کڑوی حقیقت ہے مگر ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ ہمارے عدالتی نظام میں بھی کچھ کا لی بھیڑیں موجود ہیں جو دوسروں کے کیس تو بڑی جلدی کھول دیتی ہیں مگر اپنے بیٹوں کے کیس کھولنے کی انہیں کوئی جلدی نہیں ان کالی بھیڑوں کی لاپرواہی کی انتہا تو دیکھیں کہ ان کویہ تک نہیں معلوم کہ ان کے بیٹے کے پاس اتنا پیسہ اور لگثری گا ڑی کہاں سے آئی،میرے خیال میں ایسے شخص کو تو عدلیہ کا اعلی ترین عہدہ دینا ہی نہیں چاہیے جوباپ ہونے کا فرض تو نبھا نہیں سکتا وہ ملک کے عدالتی نظام کا سب سے بڑا عہدہ کیسے سنبھالے گا یہ شاہد ایسا سوال ہے جس کا جواب کوئی نہیں جانتا۔
اب اگربات کی جائے توہین عدالت کی تو یہ اعزاز صرف پاکستان کو ہی حاصل ہے کہ یہاں عدالت اپنے آپ کو ایک مقدس گائے سمجھتی جبکہ دیگر ممالک میں عدلیہ کے متعلق آزادی اظہار رائے ہے اور ہر شخص عدلیہ کی کارکردگی کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے مگر پاکستان ہی شاہد وہ واحد ملک ہیں جہاں عدلیہ کے متعلق بات کرو تو توہین عدالت کا کیس بن جاتا ہے۔چند دن پہلے عمران خان نے عدلیہ کی کارکردگی کے متعلق اپنی رائے دی جس کے بعد ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس اشو کر دیا گیا اور عدالت میں پیشی کا حکم دے دیا گیااسی طرح کبھی ایک وزیر اعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوجاتا ہے کبھی دوسرے کو مگر جب کوئی پاکستانی اپنے ملک کے خلاف بات کرتا ہے تب عدالت کیوں نہیں نوٹس جاری کرتی کمزور پر تو ہر کوئی وار کرتا ہے مزا تو تب ہے جب طاقتور کے سامنے دلیری کا مظاہری کرتے ہوئے عدالت نوٹس جاری کرے۔ایسا نوٹس جاری کرنے کے بعد شاید آئندہ کے لیے چیف جسٹس صاحب کا کراچی جانا نا ممکن ہو جائے۔
ہمارپیارے نبی ﷺنے فرمایا تھا کہ وہ قومیں تباہ برباد ہو جاتیں ہیں جہاں کمزور کو سزائیں دی جائیں اور طاقتور کو چھوڑ دیا جائے۔اب اگردور خلافت کے حکمرانوں کا انصاف دیکھنا ہو تو یہ ایک واقعہ ہی کافی ہے جس میں عام انسان ہر حکمران اور جج کے خلاف بول سکتا تھا ایسا ہی واقعہ کچھ اس طرح سے ہے۔
امیر المومینین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حمص کے دورے پر تشریف لے گئےوہاں کے لوگوں نے گورنر سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے خلاف شکایت کا پنڈورا بوکس کھول دیا۔پہلی شکایت یہ کی کہ لوگوں کے معاملات نپٹانے کیلئے دن چڑھے آتے ہیں دوسری شکایت یہ کی کہ رات کو یہ کسی کی بات کا جواب ہی نہیں دیتےتیسری شکایت یہ کی۔کہ ہر مہینے میں ایک دن شام تک گھر سے ہی نہیں نکلتے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےحضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ سے جواب طلبی کی آپ نے ارشاد فرمایا کہ امیرالمومینین میرا دل تو نہیں چاہتا کہ حقائق سے پردہ اٹھاؤں لیکن اب اس کے بغیرکو ئی چا رہ کار ہی نہیں لہذا پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ میرے پاس کوئی خادم نہیں میں صبح آٹا خود گوندھتا ہوں پھر تھوڑا انتظار کرتا ہوں تاکہ اس میں خمیر پیدا ہو جائے پھر روٹی پکاتا ہوں۔ناشتہ کرنے کے بعد وضو کر کے لوگوں کے معاملات نپٹانے کے لیے چلا جاتا ہوں اس وجہ سے گھر سے نکلنے میں کچھ تاخیر ہوجاتی ہے ساتھیوں نے جو میری دوسری شکایت کی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ میں نے دن لوگوں کیلئے اور رات اپنے رب کے لیے مخصوص کر رکھی ہے میں رات کو اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف رہتا ہوں جہاں تک تیسری شکایت کا تعلق ہے کہ میں مہینہ میں ایک روزدن بھر کے لیے باہر نہیں نکلتا اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ میرے پاس پہننے کیلئے کپڑوں کا صرف ایک جوڑا ہے جو مہینے میں صرف ایک دفعہ دھوتا ہوں جب وہ خشک ہو جاتے ہیں تو دن کے پچھلے پہر زیب تن کر کے باہر آ جاتا ہوں۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا چہرہ اپنے متعین کردہ گورنر کے جواب سن کر خوشی سے تمتما اٹھا اورانھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو انکے اعتماد پر پورا اترنے کی توفیق عطا کی۔آخر میں عرض کرنا چاہوں گا کہ چیف جسٹس کو اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سر انجام دینی چاہیں اورپاکستان کے عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مثبت اقدامات کرنے چاہیں جس سے عام آدمی کو کم وقت میں سستا انصاف میسر ہو۔