اپنی مدد آپ کے تحت ماڈرن ویلج بنائیں!

Posted on August 1, 2013



اگر ترقی یافتہ ممالک کی دو سو سال پرانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو وہ بھی ہماری طرح جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے، لیکن اس وقت کی جہالت میں اور آجکی جہالت میں آسمان ذمین کا فرق ہے، آج سمجھنے کے لئے بہت کچھ موجود ہے لیکن اس وقت اکیسویں صدی کی جدت نہیں تھی، اور نہ ہی سائینس نے اتنی ترقی کی تھی جسکو دیکھ کر آگے بڑھنے کا جوش پیدا ہوتا، نہ ٹیک اس مقام پر تھا جس پر آج ہے، تو ایسے حالات میں ان جہالت میں ڈوبے ہوئے ممالک (جو آج کی انتہائی ترقی یافتہ اقوام ہیں )نے اپنی خوشحالی کے لئے تعلیم کا انتخاب کیا، اسکی ذندہ مثال امریکہ کا 1647 کا ساٹن ایکٹ تھا، جو امریکہ کا پہلا ایجوکیشن ایکٹ بھی کہلاتا ہے، اس قانون کے مطابق ہر پچاس فیملی تک کے گاؤں میں ایک ایلمینٹری سکول لازم کر دیا گیا، اور ہر سو فیملی کے گاؤں میں ایک گرائمر سکول لازم قرار دیا گیا، اور ان سکولوں میں مذہبی تعلیم کو خاص اہمیت دی گئی تاکہ گناہوں سے بچا جائے، اور دوسری بات جس کا اس قانون میں خاص خیال رکھا گیا تھا وہ تھی کوالٹی آف ایجو کیشن، اس پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا، کہ اساتذہ کو انتہائی تعلیم یافتہ ہونا چاہیئے اور پڑھانے کے طریقوں پر مکمل عبور ہونا چاہیئے، اسی طرح اور ممالک کی بھی مثالیں ہیں،لیکن یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ اس ساٹن ایکٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ اگر کوئی آبادی سکول کو چلانے میں ناکام ہوئی تو اسے پانچ پونڈ سالانہ جرمانہ ادا کرنا ہو گا جو کامیاب سکولوں کی مزید بہتری پر خرچ کیا جائے گا،1647 میں بھی وہ لوگ اتنا شعور رکھتے تھے کہ پبلک کا پیسہ پبلک کی ویلفئر کے لئے ہے اور ہمارے پاس تو اکیسویں صدی میں بھی یہ شعور نہیں ہے،
ایڈوانس ممالک نے تعلیم کا یہ مشن ویلج لیول سے سٹارٹ کیا، کیونکہ ملکوں کی ذیادہ پاپولیشن تو گاؤں سے ہی تعلق رکھتی ہے،لیکن ہمارے پاس گنگا الٹی بہہ رہی ہے ، ہم نے پاکستان کے چند شہروں کو معیاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لئے چنا ہوا ہے اور رورل ایریا ہماری تعلیمی تر جیحات سے غائب ہے،آج ایڈوانس ممالک کے رورل ایریاز کو دیکھیں تو وہاں بھی آپکو اسی معیار کے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ملیں گی جیسے انکے شہروں میں ہیں، سپورٹس کے لئے بہترین گراؤنڈ بنے ہوئے ہیں، گاؤں میں اچھی لائیبریریاں ملیں گی جہاں گاؤں کے بچے بوڑھے جوان اخبار اور معیاری کتب پڑھتے ہیں، ان ممالک نے اپنے رورل ایریاز کو شہروں کی طرف بھاگنے سے صرف ان چیزوں کی بدولت روکا ہوا ہے اور آج بھی ایڈوانس ممالک کے وہ لوگ جو شہروں میں جاب کرتے ہیں وہ ویک اینڈ اپنے رورل ایریاز میں ہی گزارتے ہیں کیونکہ گاؤں میں شہروں کی نسبت ذیادہ سکون ہوتا ہے اگر بنیادی سہولتیں میسر ہوں!
اگر ہم پاکستان پر نظر دوڑائیں تو ہمیں جلدہی یہ احساس ہو جاتا ہے کہ پاکستان بننے سے لیکر آجتک ہماری حکومتوں نے تعلیم کے شعبے میں کوئی ترقی نہیں کی، اسکی نسبت پڑوسی ملک انڈیا نے اس فیلڈ میں بہت کام کیا ہے اور اسکے فوائد سے فیضیاب بھی ہو رہا ہے، آج انڈیا میں تعلیم پاکستان کی نسبت بہت سستی اور معیاری ہے۔ ہماری حکومتیں یہ جانتی ہیں کہ اگر پاکستانی قوم کو معیاری اور سستی تعلیم دے دی گئی تو انکے اقتدار ختم ہو جائیں گے، کیونکہ شعور بیدار ہونے کے بعد عوام احتساب کرتی ہے، اور ڈیلیور کرنے والے کو اپنا لیڈر مانتی ہے، یہ وجہ ہے کہ پاکستانی حکمران رورل ایریاز کی تعلیم سے غافل ہیں، پاکستان کے کتنے ڈسٹرکس ہیں جن میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں،سپورٹس کمپلیکس نہیں، عوامی پارکس نہیں، اچھے اور معیاری ہسپتالز نہیں کیوں اسلئے کہ انّپڑھ عوام نے ان چیزوں کی کبھی ڈیمانڈ ہی نہیں کی،
پاکستان میں ہر بارہ تیرہ گاؤں کے لئے لڑکوں اور لڑکیوں کا ڈگری کالج ہونا چاہیئے، اور ڈسٹرک لیول پر یونیورسٹیاں ہونی چاہیئں۔جو آج نہیں ہیں، کہتے ہیں وہ ملک اتنا ذیادہ خوشحال ہوگا جتنی ذیادہ اس میں یونیورسٹیاں ہونگی۔
جیساکہ ہم پاکستان کی پینسٹھ سالہ ذندگی میں یہ حقیقت اچھی طرح جان چکے ہیں کہ ہماری حکومتیں تعلیم کے معاملے میں کبھی بھی سیریس نہیں ہونگی، یہ لنڈا ٹائپ حکمران اپنے بچوں کو تو آکسفورڈ و اور ہاورڈ جیسی یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہین لیکن بے وقوف عوام کے لئے ٹاٹوں والے سکول بھی نہیں اور اگر ہیں تو انکا معیار ایسا کہ غریب کا بچہ مڈل سے آگے جانے سے قاصر اور اگر کوئی چلا جائے تو میٹرک میں بیٹھ جائے گا اور اگر میٹرک کلیئر کر لیا تو پھر یونیورسٹیوں اور کالجز کی شارٹیج کی وجہ سے میرٹ میں آؤٹ ہوجائے گا، لیکن اگر کالجز اور یونیورسٹیاں ذیادہ ہونگی تو ہر بچے کو چانس مل سکے گا اور اسطرح پاکستان کی ترقی کا پہیہ بھی چل پڑے گا،،،
اپنی مدد آپ کے تحت ہم معیاری سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں تو نہیں بنا سکتے لیکن بنے ہوئے سکولوں کے ڈسپلن کو امپروو کر سکتے ہیں، ان سکولوں کو چیک کر سکتے ہیں، ان سکولوں کے ڈسپلن کو بہتر کرنے کے لئے پریشر ڈال سکتے ہیں، ان سکولوں میں پڑھائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے سکولوں کے سٹاف پر پریشر ڈال سکتے ہیں، بچوں کی مثبت ایکٹیوٹیز کو بوسٹ کیا جا سکتا ہے، بچوں کو نیگیٹو ایکٹیوٹیز سے دور رہنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے،
اگر ہر گاؤں کے لیول پر با شعور لوگوں کی کمیٹیاں بن جائیں، جو اپنے گاؤں میں واقع سکول کے ڈسپلن پر نظر رکھیں،سالانہ ریزلٹ کو چیک کریں، اور ایسے اساتذہ جو تعلیم دینے میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں انھیں اٹھا باہر پھینکیں،لیکن یہ کام انتہائی ایمانداری سے ہو، اس میں صرف اپنی جنریشن کا بھلا منظور نظر ہو، بچوں کی سکول ٹائم کے بعد کی ایکٹوٹیز پر بھی نظر ہو، بچوں کی مثبت سرگرمیوں کے لئے گاؤں میں چھوٹی لائبریری بنائی جائے جس میں ہر بچے کا ایک گھنٹے کے لئے جانا لازم ہو، وہاں انھیں پڑھنے کے لئے اخبار ملے، اور معیاری غیر نصابی کتب بھی ہوں جیسے ہسٹری ، اسلامی، کلچرل بکس ہوں کیونکہ انکے پڑھنے سے بچوں کے نالج میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ انکے مائنڈ کی ایکسرسائز بھی ہوتی ہے، اور ان انتظامات کے لئے گاؤں کے مخیر حضرات کو سامنے آنا ہو گا، وہ کتابیں خرید کر رکھیں، اخبار کا بل پے کریں اور ان کاموں کی سپرویژن کے لئے گاؤں کے اساتزہ بہترین رول پلے کر سکتے ہیں، یاد رہے کہ گاؤں کا ایک بچہ وہ کسی بھی گھر سے تعلق رکھتا ہو، اسکے خراب ہونے کا نقصان پورے گاؤں کا ہے، کیونکہ وہ ایک بچہ باقی بچوں کو خراب کرے گا اور با‍قی میں آپکا بچہ بھی ہو سکتا ہے،بچوں کی جسمانی تربیت کے لئے معیاری گیم کا شوق ابھارا جائے بجائے کہ بچے گلیوں اور چوراہوں میں کھڑے ہوں انھیں کسی کھیل کی طرف راغب کیا جائے اور سپورٹس مٹیریل بھی مخیر حضرات ہی کے زمے ہو گا، یہ مخیر حضرات کون ہیں ، آجکل ہمارے ملک میں روزگار نہ ہونے کی وجہ سے گلف اور یورپ میں ہر گاؤں کے ہر گھر کا بندہ بیٹھا ہوا ہے اور وہ کم از کم اتنا کر سکتے ہیں جس سے انکے گاؤں کے بچوں کے لئے کتابیں، اخبار اور سپورٹس کا انتظام کر سکتے ہیں ، اور وہ بچے بھی مستفید ہوں گے جو یہ سب کچھ افورڈ نہیں کر سکتے،جو بھی جتنا بھی کنٹریبیوٹ کر سکے ضرور کرے،اسطرح آپ گاؤں کے بچوں کو توڑا بہتر انداز میں رہنے کا ماحول دے سکتے ہیں اور اسکے نتائج ضرور بہتر ہونگے، کیونکہ اللہ کسی کی نیک سوچ اور محنت کو ضائع نہیں کرتا،
گاؤں میں چند گھروں کاا امیر ہونا گاؤں کی خوشحالی نہیں ہوتا بلکہ خوشحالی تب ہوتی ہے جب ہر گھر خوشحال ہو ، اور ہر گھر کا بچہ اچھی تعلیم حاصل کر رہا ہو، ہر گھر کے پاس اسکی بنیادی ضروریات آسانی سے پوری ہو رہی ہوں،اگر ہر انسان سچے جذبے سے اس مشن کے لئے نکل پڑے کہ ہمیں تعلیم کو اس ملک کے گھر گھر تک پہنچانا ہے تو یہ ممکن ہے اور اسطرح ایک بہترین سوسائٹی بھی جنم لے گی، جو حر فیلڈ میں خودکفیل ہو گی اور اس پاکستان کو ایک پرامن اور خوشحال ملک بنا دے گی۔
آج ویسٹ ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں بہت آگے چلا گیا ہے لیکن اسکے باوجود وہ اپنے سکولوں میں موبائل پر پابندی لگا رہا ہے، پرونو ویب سائٹس کو سختی سے بین کر رہا ہے تاکہ اسکی نئی جنریشن تعلیم سے دور نہ ہو اور ایک ہم ہیں کہ اپنے پرائمری سکول بچے کو بھی ٹچ سکرین موبائل دینے پر بضد ہیں، اور انکے انٹر نیٹ یوزر ہونے پر فخر کرتے ہیں اور کبھی یہ نہیں سوچا کہ انکا مشن تعلیم ہے انٹرنیٹ نہیں، انہیں موبائل کی نہیں بلکہ کردار کو تعمیر کرنے والی کتابوں کی ضرورت ہے۔یہ سارے شوق تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی پورے ہو سکتے ہیں لیکن عمر اور وقت ضائع ہونے کے بعد دوبارہ موقع نہیں ملے گا!!!!