وقت ابھی بھی گیا نہیں

Posted on July 31, 2013



وقت ابھی بھی گیا نہیں

July 31, 2013

ایک اور منزل مقصو د پار ہوگئی اور ممنون حسین صاحب ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ میاں صاحبان کوصدارتی سیٹ کے لئے ایک ایسا بے ضرر انسان درکار تھا۔ جو اعلی کوالٹی کے ٹائی سوٹ کوٹ پہن کر صدارتی محل کی سیٹ پر بیٹھ کر ملاقاتیوں سے مصافحہ کرتا رہے اور اپنی صدارتی مدت شکرگذاری کے ساتھ ہاتھ باندھ کر گذاردے۔ میاں برادران کی سیاسی میتھامیٹکس صدر کے انتخاب کے حوالے سے بالکل بھی بری نہیں، ان کی سیاسی ابجد میں بیشک دوسرے معاملات کے حوالے سے بہتر حل نہ ملتے ہوں مگر یہ معاملہ یا مسئلہ حل شدہ یا طے شدہ ہے۔اس سے پہلے بھی اسی نشست کے لئے انتخاب اپنے حساب سے اعلیٰ کیا گیا تھا۔ہاں وہ الگ بات ہے کہ وردی والے کے حوالے سے سیاسی پٹاری خالی پڑگئی اور معاملہ دربدری تک پہنچ گیا۔تاہم میاں صاحبان کی واپسی ٹارزن سے کم نہیں اور اب ان کی ملک کی سیاسی بساط پر گرفت اور جکڑ مضبوط ہوچکی ہے۔

مگر یہ بھی عجب ماجرا ہے ۔ پیارے پاکستان کوجب بھی آگے کی جانب جاتے دیکھیں، معاملہ لامحالہ پیچھے کی جانب جاتا ہی محسوس ہوتاہے۔ یہ پینسٹھ سال کی کرشمہ سازی ہے، جو آدمی کے عقل پرپردہ ڈالے رہتی ہے۔ سیاسی شعبدہ باز ہر بار رومال جھٹک کر کرشمہ دکھاتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں ، یہ جادو نہیں محض آپ کی نظر کا دھوکہ ہے اور نادار نسل کے لوگ پھٹی آنکھوں سے صورتحال کو تکتے ہی رہ جاتے ہیں۔ بولنا چاہیں تو الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ وہ تو بس پیدائشی تماشائی ہیں، جن کا کام چپ سادھے بیٹھنا ہے اور گرگٹ شو دیکھتے رہنا ہے۔ یہ بات بھی کیا عجب چیز ہے ، ہر بارکہاں سے کہاں نکل جاتی ہے۔ یہ بھی ایک طرح کی برائی ہے۔ کہنا کچھ چاہیں، کہہ کچھ جائیں لیکن کوئی بات نہیں ، اپنے موضوع کی طرف واپس پلٹتے ہیں۔

ویسے صدارتی انتخاب کے حوالے سے ایک بات قابل تعریف ہے اورقابل ذکر بھی۔ پہلی بارملک میںجمہوری انداز میں صدارتی انتخاب منعقد ہوا۔وگرنہ یا تو کچھ نکالے گئے یا مارے گئے۔ اب ایک صدرصاحب سامان باندھے صدارتی محل کی طرف جاتی رنگین راہ پر گامزن ہوچکا ہے، تو دوسرا رخت سفر باندھنے کی تیاری میں ہے۔ جن کے لئے کہا جا رہا تھاکہ وہ گئے سو گئے ۔اب نہ واپس لوٹینگے مگر ان کی وطن واپسی نے ”کچھ بھی“ کہنے والوں کی ناکامیوں میں اضافہ کردیا۔لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ استثنیٰ کی عیاشی ختم ہونے سے شاید کئی دن قبل ایک بار پھر روانگی اختیار کرلیں، وگرنہ عدالتوں کے آسیب انہیں اس بار صرف ستائینگے نہیںاور اس بات کا اندازہ ان سے بہتر بھلا کس کو ہوسکتا ہے۔ صدر صاحب (جانے والے)اپنی ٹریول آٹنری اورشیڈول پہلے سے ہی جانتے ہیں اور خوب جانتے ہیں۔بہت سارے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقتدار کی پر امن منتقلی نے ان کے گارڈ آف آنر کے ساتھ روانگی کی راہ ہموار کردی ہے اور انہیں موجودہ حکومت توپوں کی سلامی کے ساتھ اللہ نگہبان کہے گی، تاہم بات اب صرف میاں برادران تک محدود نہیں ہے۔صدر صاحب (جانے والے) یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ مختصر مگر حادثات سے بھری ہماری ملکی تاریخ میںحاکم آتے تو شاہی سواری پر ہیں، تاہم ان کی واپسی کا راستہ اکثر اوقات کانٹوں سے بھر ا ہوا ہوتا ہے۔

ْقصہ کچھ یوں ہے کہ ملک کے بانی جناح صاحب کی گاڑی ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی مشکل سے چار میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعدپیٹرول کی کمی کے باعث کھڑی ہوگئی تھی۔جناح صاحب کی طبعیت بے انتہا خراب تھی۔ کسی بھی قسم کی تاخیرکی گنجائش نہیں تھی۔ بانی پاکستان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے مطابق ملک کے پہلے گورنر جنرل اور فادر آف دی نیشن کے چہرے پر مکھیاں بھنک رہی تھی اور وہ خود او ر ایک نرس باری باری ایک گتے کے ٹکڑے سے پنکھا جھلتی رہیں اور بیمار جناح صاحب کے چہرے سے مکھیوں کو ہٹانے کی کوشش کررہی تھی ۔بقول مادر ملت سخت گرمی اور حبس کا عالم تھا ،سانس لینا بھی دشوار تھا، یہ سب کچھ برداشت سے باہر تھا۔ جناح صاحب انتہائی کمزور اور نحیف ہوچکے تھے۔ اس لئے انہیں اپنی کار میں منتقل کرنا ممکن نہیں رہا تھا، کیونکہ وہ بیٹھ سکنے کی حالت میں نہیں تھے، تب مادر ملت نے جناح صاحب کے اے ڈی سی کو حکم دیا کہ وہ ان کی کار میں جاکر جلدی سے دوسری ایمبولینس لے آئیں۔ دوسری جانب کسی ایک نے بھی یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ جناح صاحب کی گاڑی ابھی تک گورنر جنرل ہاﺅس کیوں نہیں پہنچی۔

یہ کہانی نہیں ایک المیہ تھا مگر یہ تو محض ابتدا تھی۔ تین سال بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان کا بھرے مجمع میں قتل اور قتل کرنے والے کا قتل کئی سوالات چھوڑ گیا۔ جس کامعمہ حل نہ ہونا تھا سو نہ ہوا۔ پھر یکے بعد دیگرے وزیر اعظم صاحبان اور محترم صدور کو گھر بھیجنے کی روایتیں بھی اپنی نوعیت میں عجیب و غریب اور منفرد رہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک صدر(اسکندر مرزا )کے آفس میں چند وردی والے افسران پہلے سے لکھا ہوا استعفا لائے اوربزور بندوق دستخط کروائے اور صدر صاحب کوجلاوطن کردیا۔ یوں وردی والے خود حاکم اعلیٰ بن گئے مگر وہ بھی بہت بے آبر و ہوکر ہی کوچے سے نکلے۔ صدر ایوب اور پھر صدر یحییٰ خان، انگریزی روانی سے بولنے والے تمام عقل کل جرنیل صاحبان بھی عہدے سے ہٹنے کے بعد بے یارومددگار تھے۔پچیس سالوں کے اندر اندر ملک د و لخت ہوا مگر عقل پھر بھی نہ آئی اور دشت کی سیاحی جاری رہی۔نوے ہزار فوجی قیدیوں کے ہندستانی جیلوں سے آزاد کروانے والے ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم بھٹو صاحب ( وہ صدر بھی رہے)کوبھی تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ بعد ازاں اسے پھانسی پر لٹکانے والا صدر جنرل ضیا ءبھی ہوا میں تحلیل ہوا۔ بے نظیر بھٹو، اسحاق خان،نواز شریف ، رفیق تارڑ اور پھر محترم جناب پرویز مشرف صاحب بھی مکہ دکھاتے دکھاتے اور دانت 4بھینچتے بھینچتے ملکی تاریخ کے ظالم چرخے کے چکر میں آگئے۔ آجکل کئی کیسز کی پیشیا ں بھگتتے پھر رہے ہیں۔ اس دوران ایک منتخب وزیر اعظم ملک کی اعلی ٰ عدالت سے سزاوار بھی قرار پاچکے اور پانچ سال تک وزیراعظم رہنے کا خواب دل میں سنبھالے ملتان کی طرف جانے والی سویرے والی گاڑی میں روانہ ہوچکے۔ آجکل مختلف ٹی وی چ4-ینلز پر دہائیاں دیتے پھر رہے ہیں۔

اس بار بھی کو شش کے باوجود بات کہاں سے نکل گئی، مگر تاریخ اور فطرت کا سبق یہ ہے کہ جو کاٹو گے وہ بوﺅ گے۔ دگرگو ں حالات کے ذمہ داران آج خود بھی ان ہی حالات کی زد میں ہیں۔ مجموعی طور پر صورتحال ضبط اور ضابطے سے باہر ہوچکی ہے۔ ایسے میں نئے صدر کی آمد کی خبر محض ایک روایتی اطلاع ہے، جس میں عوام کی دلچسپی بس اعلان سننے کی حد تک کی ہے کہ ملک میںصدارتی انتخاب ہوچکا اور اب نئے صدر ممنون حسین ہیں۔

کہتے ہیں وقت کبھی جاتا نہیں۔اس لئےوقت ابھی بھی گیا نہیں