الطاف حسین ایک بار پھر برطانوی میڈیا کی زد

Posted on July 31, 2013



”جیو ٹی وی چینل کو اپنے اسٹاف کی بھرتی سے متعلق ایک چھوٹی سی مشکل درپیش تھی، اور اُس وقت تک ایک کردار کی جگہ پوری نہ ہوسکی تھی۔ دراصل یہ چینل اپنے معروف طنزیہ پروگرام کے لیے ایسے لوگوں کو تلاش کررہا تھا، جن کی شکلیں ملکی سیاستدانوں سے ملتی جلتی ہوں۔ لیکن اُس کردار کو ادا کرنے کے لیے ایک واحد شخص بھی پورے کراچی سے دستیاب نہیں ہوسکا تھا۔

جیو ٹی وی کو اپنے طنزیہ پروگرام کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کے کردار کے لیے اُن کا ہمشکل درکار تھا، اور اس کردار کے لیے کسی کے رضامند نہ ہونے کی وجہ یہ خوف تھا کہ اگر الطاف حسین کو اس کی پرفارمنس پسند نہیں آئی تو اُس اداکار کو قتل کردیا جائے گا۔
ایم کیو ایم کے حوالے سے بے چینی پاکستان کی حد تک ٘محدود نہیں ہے۔ برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈ کے ایک رکن، جنہوں نے حال ہی میں کھل کر اس پارٹی پر تنقید کی تھی، کہا کہ ”اگر اب میں کراچی گیا تو مجھے قتل کردیا جائے گا۔“
اسی منصب کے حامل ایک اور فرد نے بھی اسی طرح کی پریشانی کا اظہار کیا ”صرف ایک وجہ ہے کہ میں اس حوالے سے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتا، مجھے اپنے بچوں کی فکر ہے۔“
یہ اُس رپورٹ کے ابتدائی پیراگراف ہیں جو کل برطانیہ کے معروف اخبار گارڈین کی میں شایع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کے حوالے سے جب ایم کیوایم کے رہنما واسع جلیل سے کل بروز پیر 29 جولائی کو ڈان اخبار نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ گارڈین اخبار کی رپورٹ متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف”بے بنیاد“ اور ”جھوٹے“پروپیگنڈے پر مبنی ہے، جس کا مقصد یہ کہ کسی طرح ایم کیوایم کے امیج کو خراب کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقریروں کے جو حصے اس رپورٹ میں دیے گئے ہیں، وہ مکمل طور پر سیاق و سباق سے ہٹ کر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم اپنی لیگل ٹیم سے اس معاملے پر مشورہ کررہی ہے۔
گارڈین نے لکھا ہے کہ بیس سال سے زیادہ کے عرصے سے الطاف حسین اپنی جماعت کو لندن کے مضافاتی علاقے ایجویر سے چلارہے ہیں۔ وہ پاکستانی پراسیکیوٹرز کی پہنچ سے دور ہیں۔انہیں برطانیہ میں تقریباً کوئی نہیں جانتا۔ ان کے چالیس لاکھ سے زیادہ وفاشعار حمایتی یہاں سے ہزاروں میل دور رہتے ہیں۔
کراچی کو ہم شاید دنیا کا واحد شہر کہہ سکتے ہیں کہ جہاں امریکہ نے برطانیہ کو انٹیلی جنس کے حصول میں ”لیڈ رول“ کی اجازت دے رکھی ہے۔ کراچی میں امریکہ کا قونصل خانہ اب ایکٹیو انٹیلی جنس حاصل نہیں کرتا بلکہ یہ کام برطانیہ کے حوالے ہے۔ کراچی کی انٹیلی جنس کے حوالے سے برطانیہ کا سب سے بڑا اثاثہ ایم کیو ایم ہی ہے۔ ایم کیو ایم کے تعاون کی وجہ سے برطانیہ کو کراچی کی انٹیلی جنس کا حصول کوئی مشکل نہیں۔ برطانیہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ایسا شخص موجود ہے جس کی جماعت کے نمائندے پاکستان کی وفاقی کابینہ میں موجود ہوتے ہیں۔
برطانوی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے گارڈین کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا لندن میں قیام کسی برطانوی سازش کا حصہ نہیں۔
گارڈین تسلیم کرتا ہے کہ یہ سازش نہیں بلکہ ایک پالیسی ہے۔ ماضی میں پاکستان کی کئی حکومتوں نے انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن برطانیہ نے اس پر توجہ نہیں دی۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے ایک مرتبہ برطانوی حکومت سے کہا تھا کہ ان کو کیسا لگے گا کہ اگر کوئی شخص پاکستان میں بیٹھ کر برطانیہ میں لوگوں کو تشدد پر اُکسائے۔
لندن کی پولیس یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر کراچی میں لوگوں کو تشدد پر اکساتے ہیں۔ برطانوی پولیس کو ایک انتہائی بڑے مواد کی چھان بین کرنی ہے۔
گارڈین کا کہنا ہے کہ لندن میں الطاف حسین کے قیام کے دوران دو مرتبہ برطانیہ کی عدالتوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کرتی رہی ہے۔
کراچی کے ایک پولیس افسر نے 2010ء کے دوران برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہوئے یہ وجہ بیان کی تھی کہ اُن کو ایم کیو ایم طرف سے کراچی میں خطرہ ہے۔
اُن کی درخواست پر برطانوی جج لارڈ باناٹائن نے انہیں سیاسی پناہ دینے حکم دیا تھا۔ لارڈ باناٹائن اس مقدمے کے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ ایم کیو ایم دو سو ایسے پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرچکی ہے، جنہوں نے اُس کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا تھا۔
اس وقت لندن میں برطانیہ کی پولیس ایم کیو ایم کے ایک لیڈر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کر رہی ہے۔ گارڈین کا کہنا ہے کہ میٹرو پولیٹن پولیس کے بارہ افسران مکمل طور پر اس مقدمے پر مامور ہیں اور اب تک سینکڑوں لوگوں کے بیانات قلمبند کر چکے ہیں۔
2010ء میں عمران فاروق کے قتل کے بعد گارڈین میں چھپنے والے ایک مضمون میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات کے دوران پولیس کو بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
گارڈین کی کل شایع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قتل کی تفتیش کے دوران عمران فاروق کے گھر سے برطانوی پولیس کو ایسے کاغذات بھی ہاتھ لگے ہیں جو پاکستان میں گرفتار ہونے والے ایم کیوایم کے کارکنوں کے بعض ایسے بیانات کی تائید کرتے ہیں کہ انہیں ہندوستان میں تشدد کی تربیت دی جاتی ہے۔
جب گارڈین کے نمائندے نے اس حوالے سے انڈیا کا موقف جاننا چاہا لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس ایم کیو ایم کے دفاتر پر چھاپے کے دوران ایک لاکھ پچاس ہزار پونڈ اور مشرقی لندن کے علاقے مِل ہل میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی رہائشگاہ سےڈھائی لاکھ پونڈ کی رقم قبضے میں لے چکی ہے۔ پولیس تاحال یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتنی بڑی رقم وہاں کیسے پہنچی۔
گارڈین کی رپورٹ کادعویٰ ہے کہ الطاف حسین کےخلاف تحقیقات انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں کچھ حکومتی عناصر بھی ایسے ہیں جو ایم کیو ایم کو تحفظ دیناچاہتے جبکہ گارڈین کے مطابق ملک کا سب سے بڑا انٹیلی جنس ادارہ آئی ایس آئی اس جماعت پر اپنا کنٹرول قائم رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن پاکستان میں حالیہ انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے تو سیاسی قوت کے لحاظ سے ایم کیو ایم کچھ کمزور پڑتی محسوس ہورہی ہے، اور اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نواز شریف کی حکومت ایم کیو ایم کو تحفظ دینے کے حوالے سے گزشتہ حکومتوں کے برعکس کچھ زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
گارڈین کے مطابق برطانوی پولیس پچھلے چند ہفتوں کے دوران متحدہ کے قائد الطاف حسین کےخلاف جو کارروائیاں کرچکی ہے، ان میں سے سب سے زیادہ اہم الطاف حسین کے گھر اور دفاتر پر چھاپوں کےعلاوہ ان کے بھانجے اشتیاق احمد کی گرفتاری بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اشتیاق احمد کو کس الزام کے تحت گرفتار کیاگیا تھا، برطانوی پولیس اس سوال کا جواب دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اشتیاق احمد ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔
گارڈین لکھتا ہے کہ پاکستان میں یہ خیال بھی عام ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے الطاف حسین کوتحفظ فراہم کررکھا ہے۔ اس خیال کو ثابت کرنے کے لیے جو دلیل دی جاتی ہے، وہ الطاف حسین کی برطانوی شہریت حاصل ہونا ہے۔ ایک برطانوی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر گارڈین کو بتایا کہ 1999ء کے دوران ایک ”دفتری غلطی“ کے نتیجے میں الطاف حسین کو برطانیہ کی شہریت اور پاسپورٹ حاصل ہوا تھا۔

گارڈین کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ دریافت کرنے پر بھی ہوم آفس نے اس ”دفتری غلطی“ کی وضاحت نہیں کی۔

Source

http://urdu.dawn.com/2013/07/30/altaf-focus-of-british-media-again/