Nazia From Fata(Rock Climber) میں ہوں نازیہ فرام فاٹا

Posted on July 30, 2013



ملالایوسف زئی کے کردار سے ہرکوئی واقف ہے اور اس میں کوئی شق نہیں کہ اس نے بہادری کا مظاہرہ کیا لیکن سوال یہ ہے پاکستان میں صرف ملالا ہی ایسی ہے جس نے جراتمندانہ کرداری ادار کیا، نہیں بالکل ایسا نہیں ہمارے ملک میں ایک لمبی فہرست ہے جس میں ایسے لوگ ہیں جنکا کردار ہمارے ملک کے لئے بہت اہم ہے ، اسمیں اگر میں صرف خواتین کا ہی تذکرہ کروں توسیاست میں سب سے پہلے مادر ملت فاطمہ جناح جنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان کے لئے وقف کی ، اور قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ پاکستان کو مستحکم کرنے کے کردار اداکیا، اس کے بعد دیکھا جائے تو عالم اسلام کی پہلی خاتون محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام ہے جو آج وفات کے چھ سال بعد بھی دنیا کی طاقتور ترین خواتین کی لسٹ میں شامل ہیں، ان کے ساتھ ساتھ انکی والدہ بیگم نصرت بھٹو کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، پاکستان کی پہلی خاتون سپیکر فہمیدہ مرزا،سابق وفاقی وزیر حناربانی کھر اور تسنیم اسلم نے کردار ادا کیا، اس کے ساتھ ساتھ دیگر فیلڈزمیں بھی پاکستانی خواتین اپنا ثانی نہیں رکھتیں، صحافیوں میں خواتین کی ایک لمبی لسٹ ہے ،اس طرح ادب سے وابستہ خواتین بھی ہیں جیسے الطاف فاطمہ، بانو قدسیہ، بشریٰ رحمان، فہمیدہ ریاض، اور حسینہ معین کے نام سرفہرست ہیں، پروین شاکر نے شاعری اور عابدہ پروین نے گائیکی میں نام کمایا۔ سماجی بہبود میں کام کرنے والی خواتین بھی اہمیت کی حامل ہیں ، نمیر ہ سلیم بھی ہمیں یاد ہونی چاہیئے جنہوں نے فضا میں پاکستان کاجھنڈا لہرایا، شرمین عبید چنائے نے بھی پاکستان کی غربت دکھاکر خوب نام کمایا، یہاں پر عارفہ کریم کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے جس کی انگلیوں نے وہ کر دکھایا جو قسمت والے ہی اپنے ملک اور اپنے لئے کرتے ہیں، اور آئی ٹی کی دنیا میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھ کر امر کر گئی، یہ تو وہ تمام خواتین ہیں جن کو تقریباََ پرکوئی جانتا ہے لیکن پاکستان کا نام روشن کرنے والی خواتین جو کہ کسی بھی ملک وقوم کا اثاثہ ہیں انکو نہ صرف یہ معاشرہ بلکہ حکومتیں بھی اہمیت نہیں دیتیں اوراس حقیقت سے منہ پھیر لیا جاتا ہے کہ شائد دراصل یہی خواتین ہیں جن کے بلبوے پر پاکستان کا ایک روشن پہلو سب کے سامنے جاتا ہے، اسمیں اگر ہم تذکرہ کھیل کا کریں تو اس میں ہم اگر اپنے میڈیا کا کردار دیکھیں تو وہ بھی فرق کرتا ہوا نظر آتا ہے ، اس میں کرکٹ کے بخار سے تو ہر کوئی واقف ہے لیکن دیگر کھیلوں جن میں ہم اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اس کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا ، میں یہاں تذکرہ کروں گا چند کھلاڑیوں کا جنہوںنے ملک کا نام روشن کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی لیکن انکو اہمیت دی گئی تو بس وقتی اگر ان پر دیر پا توجہ دی جاتی یا ان کی سرپرستی حکومت لیتی تو نہ صرف وہ ترقی کرتیں بلکہ اس سے ہمارے ملک جسکو صرف دہشت گردی اور خون ریزی سے پہچانا جاتا ہے ان کی وجہ سے مثبت پہلو بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے، جی ہاں میں کھیلوں کی دنیاکا تذکرہ کررہا ہوں پاکستان میں بہترین نام موجود ہیں جنہوں نے نا صرف اپنے آپ کو منوایا بلکہ پاکستان نام روشن کرنے کے لئے دن رات ایک کردیئے، ملالا یوسف زئی مشہور ہوگئی کیونکہ وہ قلم اور دہشت گردی سے جڑی تھی لیکن نازیہ پروین جس نے سیکنڈز میں پہاڑوں کو مات دے دی، نسیم حمید جس نے اپنے ساتھ دوڑنے والیوں کو پیچھے چھوڑا ، کرلا خان جو سکوائش کے میدان میں اترتی ہے تو جیت اس کے سینے پہ لگے سبز ہلالی پرچم کا مقدر بن جاتی ہے، ثنا میر جس نے عرصہ دراز سے گرین شرٹس کی کرکٹ ٹیم کی باگ دوڑ سنبھال رکھی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کرن بلوچ ایسا نام ہے جس نے ویسٹ انڈیز کی گیند بازوں کی ایسی دھلائی کی کہ دنیا میں نمبر ون جگہ بنا ڈالی۔۔ رباب رضا اور کرن خان جب پول میں کودتی ہیں تو پانی ان سے پنا ہ مانگتا ہے کہ یہ تو ہمیں پیچھے چھوڑ کے جانے کہاں چلی جائیں گی۔ کرن خان کا انٹر ویو کرنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ وہ پاکستان اور اپنی گیم سے کتنا پیا ر کرتی ہے، اس سے بات کر کے اور اس کی کاکردگی دیکھ کے ایسا لگتا ہے جیسے وہ دنیا میں آئی ہی جیتنے کے لئے تھی، ٹیبل ٹینیس کا تذکرہ آئے تو غالیہ محسن کانام پاکستان کانام روشن کرتا ہوادکھائی دیتا ہے، اسی طرح شبانہ اختر جب جمپ لگاتی ہے تو زمین چھوٹی اور جمپ لمبی ہوجاتی ہے،یہی نہیں میں مشکور ہوں پاک فوج کی چوبیس خواتین افسران کا جنہوں نے پاکستان کو دنیا کے ان تین سے چار ممالک میں لاکھڑا کیا ہے اس سلسلے میں خواتین نے پیراٹراپنگ کی ،او ر جہاز سے کامیاب چھلانگ لگا کر ایک سنگ میل عبور کیا ، اس میں کیپٹن سعدیہ ، کیپٹن کرن اشرف اور کیپٹن فوزیہ کے نام سر فہرست ہیں، اب میں چلوں کا اپنے ٹائیٹل کی جانب اور بتاوں گاکہ فاٹا سے تعلق رکھنے نازیہ پروین کا جس نے پہاڑوں کو اپنا گراﺅنڈ بنا رکھا ہے اس تئیس سالہ اسپورٹس گرل نے کیئریر کا آغاز دو سال پہلے کیا لیکن اس نے جیت اور شہرت میں پہاڑوں کو بھی چھوٹاکر ڈالا، متعدد ٹائیٹل جیتے اور ناصرف اپنی صنف بلکہ صنف مخالف مردوں کو بھی ناکوں چنے چبوا دیئے ، اور سب سے کم وقت میں بڑے بڑے پہاڑوں کو اپنے پاوں اور ہمت سے پچھاڑ ڈالا۔۔ یہی نہں نازیہ کے پاس ایک ہی وقت میں تین گیمز کھیلنے اور تینوں میں ٹائیل رکھنے کا اعزاز بھی ہے باسکٹ بال اور ہینڈ بال میں بھی کسی کو سامنے ٹکنے کی جرات نہیں نازیہ کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اس پہاڑی لڑکی کو پاکستان ایسوسی ایشن آف فری فلائینگ کا بھی ایلیمنٹری پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور پیراگلائینڈنگ میں بھی مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ نازیہ پر ناز کرنے کودل کرتا ہے۔ نازیہ کی ایک خواہش ہے کہ وہ دنیا کی بہترین کوہ پیما بنے جس کے لئے میں حکومت سے گزارش کرتا ہوں اس کو مواقع فراہم کرے ، اور میڈیا سے بنتی کرتا ہوں کہ سچائی اور حقیقت کی رپورٹنگ کر کے پاکستان کے اس مثبت پہلو کو اجاگر کرے تاکہ دنیا بھر کا میڈیا بھی جب ہمارے میڈیا کو دیکھے تو وہ بھی مثبت پہلو کو دکھانے پر مجبور ہوجائے۔۔ نازیہ ہمیں تم پر فخر ہے کہ تم میرے پاکستان کو پہاڑوں کی بلندیوں سے بہت اونچا لے کر جانا چاہتی ہو۔۔ ناز تم فاٹا کی آن اور پاکستان کی شان ہو۔۔