ایشیائی ممالک اور ھم

Posted on July 30, 2013



پاکستان بھی دنیا کے ‎‌اسی نقشے پر ھے جس پر چائینہ، جاپان،کوریا،ملیزیا اور ترکی ھیں۔ اور تقریبا ان کے یوم آذادی بھی پاکستان کے ساتھ ھی ھیں۔ سواۓ ترکی کے باقی ورلڈ وار ٹو کے بعد اسٹیبل ھوۓ ھیں۔ لیکن یہ سارے ملک آج جہاں کھڑے ھیں ھم اسکا بمشکل ٹوینٹی پرسینٹ ھیں،ہاں پاپولیشن بڑھانے میں ھم نے ضرور کوشش کی ھے اور اس کے خاطر خواہ ثمرات بھی مل رھے ھیں۔
چائینہ نے ورلڈوار ٹو کے بعد 1949 میں اپنی ڈویلپمنٹ کا آغاز کیا۔یعنی ھم سے دوسال بعد۔ آج چائینہ کہاں کھڑا ھے اور ھم کہاں ھیں۔
جاپان نے ورلڈ وار ٹو کےبعد پندرہ اگست 1945کو انکنڈیشنڈ سرنڈر کیا، اسکی انڈسڑی اور انفراسٹرکچر ٹوٹل تباہ ھوگیا تھا، اور اس نے 1947 میں اپنا نیا آئین بنایااور اپنی ترقی کی نئی منزل کی طرف گامزن ھوا۔ آج جاپان کہاں کھڑا ھے اور ھم 1947 میں آزاد ھونے کے بعد کہاں کھڑے ھیں۔جاپان بھیک دینے والوں کی صف میں کھڑا ھے اور ھم آج بھی بھیک لینے والوں کی صف میں کھڑے ھیں۔
کوریا 1945 کو قائم ھوا،اور اس کی پوزیشن کا بھی اندازہ لگا لیں اور اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں۔
ملیزیا 1946 میں اسٹیبلڈ ھو گیا تھا لیکن 1960 تک ایمرجنسی کی وحہ سے کوئی خاطر خواہ موو نہ ھوئی،لیکن پھر 1980 میں ڈاکڑ مہاطیر محمد کی قیادت میں اس نے دنیا کی تیز ترین ترقی کر کے پوری دنیا کو دانت کے نیچے انگلی دبانے پر مجبور کردیا۔ آج ملیزیا سب کے سامنے ھے اور ھم بھی چھپے ھوۓ نہیں۔
ٹرکی کو بھی 1923 میں اتاترک نے ٹیک اور کیا اور آج کہاں پہنچ رہا ھے اور ھم کہاں رینگ رھے ھیں۔
اب اگر ان ممالک کے نیچرل ریسورسز کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کریں تو ھم کسی لحاظ سے کم نہیں،بلکہ ھم کئی ایک سے ذیادہ ھیں۔ ھاں ھم اگر کم ھیں تووہ ھے لیڈر شپ کا فقدان، ان کو نیک اور محب وطن لیڈر ملے اور ھیں مکار چمگادڑ ملے،ان کے لیڈروں کے پاس وژن تھا اور ھماروں کے پاس دولت لوٹنے کی حوس۔ ان کے لیڈروں نے پالیسیاں بنائی اور ھماروں نے لوٹنے کے طریقے دریافت کیۓ۔ان کے لیڈروں نے ڈیلور کیا اور ھمارے مردہ ضمیروں نے کھوکھلے نعرےاور بیان دئے۔ ان کے لیڈروں نے قوم کو علم کی روشنی دی اور ھمارے سیاسی بونوں نے جہالت کے اندھیرے دۓ۔ ان کے لیڈروں نے ریپوٹیشن اور ووٹ کیلۓ پریکٹیکل ایکشن دکھاۓ اور ھمارے ان مگرمچھوں نے پریکٹیکل کام کی بجاۓ نام کی تختیاں لگانے اور اشتہاری مہم چلانے پر زور رکھا،ان ملکوں کی حسب اقتدار اور حسب اختلاف نے ہدف ملک کی ترقی رکھا اور ھمارے والوں کا ہدف اکھاڑ اور پچھاڑتھا اور ھے،ان ملکوں کی عوام کام دیکھتی ھے اور ھمارے عوام جلسے دیکھتے ھیں،ان کی عوام لیڈر کے دنیا سے جانے کے بعد نئی قیادت ڈھونڈتی ھے اور ھماری عوام لیڈر کے مرنے کے بعد اسکا مزار ڈھونڈتی ھے،ان کی عوام لیڈر کو آینہ دکھاتی ھے اور ھماری عوام لیڈر کی پوجا کرتی ھے۔ ان ملکوں کے ہدف ھیں اور ہمارا کوئی ہدف نہیں،ان کے پاس کوئی بھی کارکردگی کے بنا پر پارٹی کو لیڈ کرسکتا ھے، اور ہمارے پاس خاص خاندان ھیں جن کو یہ حق حاصل ھے،ان کے پاس پارٹی ھیڈ پر بھی تنقید جائز ھوتی ھے اگر وہ غلطی کرتا ھے۔ ھمارے پاس پارٹی ھیڈ کے صرف قصیدے پڑھے جاتے ھیں خواہ وہ ملک ھی توڑ دے،ان کے پاس چیک اینڈ بیلنس ھے اور ہمارے پاس اندھیرنگری،یہ اپنے لیڈرون کو ایک دفعہ آزماتے ھیں، اگر وہ ڈیلور کرنے میں ناکام ھو تو دوسرے الیکشن میں ریجیکٹ کر دیتے ھیں لیکن ھم بار بار ان ھی کھوٹے سکوں کو آزماتے ھیں۔ ان کے ہاں لیڈروں کے بیرون ملک اثاثے،کاروبار اور گھر نہیں ھوتےاور ھمارے ہاں بیرون ملک اثاثے، کاروبار،گھر والے ھی اصل لیڈر ھوتے ھیں۔ یہ ھے ھمارہ تقابلی جائزہ۔
پاکسان اسلام کے نام پر بنا اورھم مانتے بھی ھیں۔ وہ اور بات ھے کہ اسلام کا کوئی رنگ نظر نہیں آتا،میں مسجد میں صرف آذان اور نماز کو اسلام نہیں سمجھتا،یا اسلامی تہوار منانے سے اسلامی ملک نہیں بنتا جبتک کہ ھماری ذندگی کے ھو شعبے میں اسلام کی تعلیمات موجود نہ ھوں۔ ہماری سیاست، ہماری معاشرت، ہمارا کلچرالغرض ھم ھر فیلڈ میں اسلامی تعلیمات کو عملی جامہ پہنائیں۔ اور یہ مشکل نہيں ھے بلکہ بہت آسان ھے۔ اس سے کسی کے حقوق پر ضرب نہیں لگتی،اس کے چند بنیادی اصول ھیں جنہیں ملحوظ خاص رکھا جاتا ھے۔
ایز آ بزنس مین ھم نے سچ بول کر، جائز پرافٹ کما کر، خالص چیزیں بیچ کر،مزدور کو اس کی جائز مزدوری دے کر نہ صرف اپنا بزنس کامیابی سے چلا سکتے ھیں بلکہ دنیا اور آخرت بھی سنوار سکتے ھیں۔ اللہ بھی ھم سے راضی رہے گا، اور یہی ہماری ذندگی کا مقصد بھی ھے۔ اور آپ کبھی کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلائیں گے، بزنس بھی امپرو ھو گا، کیونکہ یہ اللہ پاک کا فیصلہ ھے۔
ایز آ پولیٹیشین:- یہ وہ خوشنصیب لوگ ھوتے ھیں جن کو اللہ بہت ریسپیکٹ سے نوازتا ھے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق انھیں ملک کو اپنے گھر کی مانند سمجھنا چاھیے اور عوام ان کے گھر کی فرد ھے جسکی ہر بنیادی ضرورت کا خیال رکھنا ان کا فرض ھے،انہیں انتہائی ایمانداری اورخلوص نیت سے ایسی پالیسیاں بنانی ھوتی ھیں،جس سے اس گھر کاھر فرد خوشحال ھو،جس طرح ایک خوشحال اور امیر گھر کی اور گھر میں رہنے والوں کی ھر انسان عزت اور احترام کرتا ھے اسی طرح ھر ملک آپ کے پاکستان کی اور پاکستانی عوام کی ریسپیکٹ کرے گا،لیکن یہ اسی وقت ھو گا جب آپ کے پولیٹیشین ایماندار،رزق حلال کھانے والے، اللہ کا خوف رکھنے والے،اپنی تنخواہوں پر گزارا کرنے والے اور اس ملک کے آمین ھونگے۔
ایز آ ٹیچر:- ھمیں اسلام یہ سبق دیتا ھے کہ یہ لوگ قوم کے معمار ھیں۔ انہیں قوم کے بچوں کو انتہائی اعلی میعار کی تعلیم دینی ھے،ان کا ہدف ایک ھی ھو، کہ ھمیں اپنی قوم کو سپیرئیر نیشن کا درجہ دلوانا ھے، اور ان معماروں کی ضروریات ذندگی کو پورا کرنے کیلۓ ان کی بہترین تنخواہیں ھوں تا کہ ان کی فل کنسنٹریشن صرف قوم کے بچوں کا مستقبل بنانے پر ھو۔
ایز آ ورکر ایٹ آل لیول:- انتہائی ایمانداری سے کام کریں،اور ہر آدمی کے ذیہن میں ایک ھی بات ھو کہ ہمارے گھر کا کام ھے، اسے خلوض نیت سے کرنا ھے۔
جب ہمارے سارے ادارے اپنی حدود و قیود میں رہ کر اپنی پوری حب وطنی کے ساتھ کام کریں گے تو یہ ھو ھی نہیں سکتا کہ ناکامی آپ کے نزدیک پٹھکے،یہی وہ چیزیں ھیں جو ایڈوانس نیشن کر رہی ہیں۔لیکن ہمیں تو ہمارادین اس کا حکم دیتا ھے،اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرنے سے ھو ھی نہیں سکتا کہ پاکستان ترقی نہ کرے،کیونکہ اللہ نے اسے بے حساب قدرتی وسائل سے نوازا ھے۔
اگر پورا یورپ سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد سکریچ سے اپنے آپکو آجکی انتہائی ایڈوانس پوزیشن میں لا سکتا ھے تو ھم کیوں نہیں۔ بس مخلص اور ایماندار لیڈرشپ کی ضرورت ھے چمگادڑوں کی نہیں۔
پاکستان کی بدحالی کا ذیادہ تر زمہ دارعوام ھیں،کیونکہ یہ ان نااہل حکمرانوں کو بار بار اس ایوان میں لے آتے ھیں جس کے وہ قابل نہیں، دنیا کے زیادہ تر ایڈوانس کنٹریز کی قیادت مڈل کلاس سے بیلانگ کرتی ھے، اور ھمارے پاس فیوڈل لارڈزاور بزنس ٹائیکون ھیں۔ جب تک عوام ان کو مایوس نہیں کریں گے یہ عوام کو مایوس کرتے رھیں گے۔۔۔