Column in Daily Din “Punjabi Filmain, Ramzan aur Sadarti intakhabaat” by Jahid Ahmad

Posted on July 29, 2013



فلمیں معاشرے کے رویوں کی عکاس ہوتی ہیں ۔ ہماری فلمیں خاص کر پنجابی فلمیں اتنی غیر معیاری اس لئے ہیں کہ ہماری معاشرہ بھی غیر معیاری و پستی کا شکار ہو چکا ہے۔ جیسا معاشرہ ویسی فلمیں ویسے ادارے اور بالکل ویسی ہی سیاست۔ مار دھاڑ،انا پرستی، بات بے بات جنگ و جدل، گنڈاسے، دشمنیاں، عشق بطور ضرورت، بڑھکیں، تکرار، ڈائیلاگ بازی، بدلے کی آگ اور انجام وہی انا پرستی کی جیت!!! ہمارے ملک میں بالکل سیدھا کام بھی جب تلک جلیبی کی طرح گھوم نہ جائے ہمیں مزا نہیں آتا۔ جب تک کسی کام میں مار دھاڑ کا تڑکا نہ لگ جائے، بڑھکوں کی مٹھاس شامل نہ ہو جائے ، جوڑ توڑ کے ہچکولے نہ آئیں، عشق معشوقی کی رائی نہ پڑ جائے، ڈائیلاگ بازی کا چٹخارہ حاصل نہ ہو تب تک کام کرنے کا سواد نہیں آتا۔
معاملہ تو سیدھا سا تھا، 6 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق صدارتی انتخابات منعقد ہونا تھے، پر وہی بات کہ ہمیں سیدھا کام سیدھے طور کرنا اچھا نہیں لگتا!!!
عدالتِ عظمی میں ن لیگ کی جانب سے صدارتی الیکشن کی تاریخ تبدیل کروانے کی غرض سے ایک اپیل دائر ہوئی اور عدالت نے یک مشت فیصلہ لیتے ہوئے خود سے ایک نیا نکور انتخابی شیڈول جاری کر کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس نئے شیڈول کے تحت صدارتی انتخابات 30 جولائی کو منعقد کرانے کا پابند کر دیا اور یوں ابتداء ہوئی ایک مزیدار گول گول چکر دار جلیبی کی تیاری کی!!!
ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی الیکشن کی تاریخ پیچھے لائی گئی ہے اور جس انداز سے عدالتِ عظمی نے اس معاملے پر یک طرفہ موقف سننے کے بعد فیصلہ صادر کیا ہے اس نے ہر ذی ہوش فرد کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ‘چیف جسٹس صاحب یہ کیا؟’۔ ذی ہوش افراد کی بات چھوڑئیے ، محترم اعتزاز احسن جیسے لوگ جنہوں نے عدلیہ کی آزادی کی خاطر اپنی ہی سیاسی جماعت کے مخالف کھڑے ہو کر پولیس کے ڈنڈے کھا کر اس تحریک کو کامیاب بنایا تھا وہ بھی انگشتِ بدنداں رہ گئے اور اس کا برملا اظہار صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کی پریس کانفرنس میں کر ڈالا ! شاید چیف جسٹس صاحب اپنے اس جاں نثار سپاہی کی بات سن رہے ہوں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) ان صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کر نے میں حق بجانب ہے پر ایسا محسوس بھی ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی ناعاقبت اندیشی ، انا پرستی ، اختلافات، باہمی مشاورت و گفت و شنید کی کمی اورباہمی تعاون کے فقدان کے باعث صدارتی انتخابات میں کامیابی جاصل کرنے کا موقع کھو دیا ہے۔ اگر یہ انتخاب اپنے مقررہ وقت پر ہوتا تو ن لیگ کو یقیناًجیتنے کے لئے محنت کرنا پڑتی ، بلوچستان کے 65 اور سینیٹ کے 104 الیکٹورل ووٹ انتہائی اہم ہوتے جس کے لئے ن لیگ کو کافی پاپڑ بیلنے پڑتے اور مجموعی طور پر 704 الیکٹورل ووٹوں میں سادہ اکثریت کے لئے ان کے پاس اپنی حمایتی جماعتوں کو شامل کرنے کے باوجود لگ بھگ 50 ووٹ کم تھے تو ایسی صورتحال میں حزبِ اختلاف جماعتیں مناسب لائحہ عمل کے تحت مشاورت کے ذریعہ ایک مشترکہ صدارتی امیدوار میدان میں اتارتیں تو ن لیگ کو کڑے مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا۔پر یہاں ن لیگ کی سیاسی معاملہ فہمی کی داد دینی پڑے گی کہ حزبِ اختلاف جماعتوں کے تتر بتر ہونے اور اپنے اپنے علیحدہ صدارتی امیدوار نامزد کرتے دیکھ کر یہ بھانپ لیا کہ قبل اس کے کہ حزبِ اختلاف جماعتیں حالات کی نزاکت سمجھ کر اکھٹی ہو جائیں تو یہی بہتر ہے کہ جلد از جلد انتخابات کرا دیے جائیں اور اس کاروائی میں ن لیگ بے شک کامیاب ہو گئی ہے جبکہ حزبِ اختلاف کی یہ پہلی بڑی ناکامی گردانی جا سکتی ہے۔
ویسے تو پاکستانی حضرات رمضان میں کوئی کام دام کرنے سے گریز ہی کرتے ہیں پر رمضان کا آخری عشرہ خاص طور پر کام کے حوالے سے انتہائی سست رو ہوتا ہے اور یہی عذر درخواست گزار نے عدالت کے سامنے پیش کیا اور جسے چیف جسٹس صاحب نے بلا جھجک قبول کرتے ہوئے اس قدر تیز رفتار فیصلہ سنایا کہ جس کی مثال نہیں ملتی اور کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان میں ہر درخواست گزار کو ایسا سبک رفتار اور من چاہا انصاف میسر ہو ! یقیناًعدالتِ عظمی اس قوم کی سستی و کاہلی سے خوب اچھی طرح واقف ہے لیکن پھر تو یہ انتخابات عید کے بعد کسی وقت پر ہونے چاہیے تھے، یوں بھی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 41 کے تحت صدارتی انتخابات 8 جولائی سے 8 اکتوبر کے درمیان کسی وقت بھی منعقد کیے جا سکتے تھے! اس بارے میں مزید بات کرنا مناسب نہیں کیونکہ چیف جسٹس صاحب پاکستان کے قوانین ہم ناقص العقل لوگوں سے بہتر جانتے ہیں اور کسی درخواست پر فریقین کی بات سنے بغیر فیصلہ دینے میں بھی کوئی مصلحت ہی ہو گی!!!
الیکشن کمیشن آف پاکستان سے کسی قسم کا شکوہ کرنا بے فائدہ ہے، ان سے تو پہلے ہی لوگوں اور بطورِ خاص خان صاحب کو بہت سے شکوے شکایتیں ہیں، پر ایک شکوہ تو بنتا ہے کہ انہوں نے کس حکمت کے تئیں 27 رمضان المبارک کے دن صدارتی انتخاب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا؟ خیر اب تو گیند عدالتِ عظمی کے کورٹ میں ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جان بخشی ہو گئی!
موجودہ حالات میں جبکہ تین سیاسی جماعتیں اس انتخاب کا بائیکاٹ کر چکی ہیں پاکستان تحریکِ انصاف اپنا صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد انتخابات میں اتار رہی ہے پر جیت ن لیگ کے جناب ممنون حسین کے کھاتے میں درج ہونے کو تیار ہے اور خاص طور پر اب جب ایم کیو ایم نے بھی ن لیگ کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے ۔ ممنون صاحب آپ کو کرسی صدارت کی پیشگی مبارک باد ہو۔ جناب ممنون حسین، پاکستان کے بارہویں صدر!!! سیاست کے ٹوئسٹ بھی نرالے ہیں، ن لیگ کے وفد کی نائن زیرو آمد، پھولوں اور نعروں سے استقبال، الطاف بھائی کا شریف برادران کو بھائی بنا لینا، ایم کیو ایم کا اختلافات بھلا کر جناب ممنون حسین کی حمایت کا اعلان، ن لیگ کا آگے بڑھ کر ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دینا! یہ سب کتنے نیک شگون ہیں، پاکستانی سیاست دان کتنے باشعور و کھلے دل کے ہو گئے ہیں ۔ کاش واقعی یہ محبتیں ، دوستیاں، وعدے ذاتی مفادات سے زیادہ ملکی مفادات کے مقصد سے جڑے ہوں، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومتِ پاکستان الطاف حسین بھائی کے خلاف چل رہی تفتیش میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد کرے گی یا نہیں!!!
73 سالہ صنعت کار ممنون حسین صاحب کی خوبی یہ ہے کہ وہ طویل عرصہ سے ن لیگ سے وابسطہ ہیں، بے ضرر قسم کے روایتی سوچ کے حامل با اعتماد انسان ہیں اور وزیرِ اعظم صاحب کی بنیادی ون مین شو والی شخصیت سے کسی طور متصادم نہیں ہیں، اس کے علاوہ ان کا تعلق چھوٹے صوبہ سندھ سے ہے اور پھر 1999 میں یہ گورنر سندھ بھی رہ چکے ہیں جبکہ گول گپوں و دہی بڑوں کی سنی سنائی باتوں کا ذکر کرنا ہر گز مناسب نہیں ہے ۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ نواز شریف
صاحب کے ساتھ ان کا دور خوب گزرے گا۔
گزشتہ صدارتی انتخابات میں خفیہ بیلٹنگ کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی گئی تھیں اور الیکٹورل کالیج نے الیکٹورل ووٹ کھلے عام دکھا دکھا کر بیلٹ بکسوں میں ڈالے تھے کہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت وعدے وفا کروانے میں کام آئیں پر اس دفعہ معروضی حالات کچھ فرق ہیں اور نواز شریف صاحب پر الیکٹورل کالیج زرداری صاحب کی نسبت زیادہ بھروسہ
کرتا ہے چنانچہ اس مرتبہ خفیہ بیلٹنگ خفیہ نظر آنے ہی کی امید ہے۔
ان انتخابات میں صدارتی امیدواروں کے بارے میں کہیں سے بڑھک ماری گئی تھی کہ اب تو دودھ جلیبیاں بیچنے والے بھی صدر بنیں گے تو محترم اگر دودھ جلیبیاں بیچنے والا شریف انسان نہ ہوتا اور آپ کے کارہائے نمایاں پر بھی روشنی ڈال دیتا تو کیا ہوتا؟ اپنی عزت اپنے ہاتھ ہوتی ہے! بہر حال دودھ جلیبی بیچنا کوئی معمولی بات نہیں ، گوالمنڈی میں کاڑھے دودھ کی دکان پر اتنا رش ہوتا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔
یہ انتخابات بھی ایک پاکستانی پنجابی فلم کی رو میں اپنے اختتام کی جانب گامزن ہیں، لڑائی جھگڑا، انا پرستی، جوڑ توڑ،تکرار، بڑھکیں، عشق بازی اور ایسا اختتام جو سب جانتے ہیں پر چلیے رمضان کے دن اسی چہل پہل و گہما گہمی میں اچھے گزر رہے ہیں۔