Column in Daily Din “Dastaan Mumlikat e Khudadad Pakistan” by Jahid Ahmad.

Posted on July 24, 2013



پاکستان میں کرپشن کی داستان تحریر کی جائے تو داستانِ امیر حمزہ اور الف لیلی بھی خفیف معلوم ہونے لگیں گی۔ کرپشن کی اس پاکستانی داستان میں ایسے ایسے پائے کے بدعنوان سامری جادوگر وں کا ذکر ہو گا جنہوں نے اس اس معیار کے کرپشن، منافع خوری اور بد نیتی سے بھر پور منتر پڑھے کہ پیسہ غریب عوام کی جیبوں ، قومی خزانے اور اداروں کے بینک کھاتوں سے نکل نکل کر ان کے قدموں میں ڈھیر ہونے لگا۔ اس داستان میں بیان ہو گا ایسے ایسے تباہ کار ، خوفناک اور انا پرست جنوں بھوتوں کا جنہوں نے اپنی طاقت، اختیارات اور زورِ بازو کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور جس قومی ادارے و املاک میں قدم دھرا وہاں بربادی مچا دی۔ پھر ذکر ہو گا ایسے ایسے چالاک، مکار اور عیار چھلاووں کا جنہوں نے ذاتی مفادات کی خاطر سادہ لوح قوم کو بیوقوف بنائے رکھنے کا بیڑا اٹھائے رکھا ۔ پر اس داستان میں اچھائی کی جیت نہیں ، برائی اول تا آخر اچھائی پر حاوی ہی رہے گی! پریاں، رعایا، بونے ہمیشہ ان سامری جادوگروں، جنوں، بھوتوں اور چھلاووں کے رحم و کرم پر پسنے، ظلم برداشت کرنے اور سسکنے پر مامور رہیں گے۔ یہ ہو گی داستانِ مملکتِ خدادِ
پاکستان!!!
داستان کی دنیا سے باہر آ کر بات کریں تو ماہِ رمضان میں اوپن مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قلت نظر آ رہی ہے۔ اس مصنوعی قلت کے محرکات جاننے کی کوشش کریں تو اوپر سے لے کر نیچے تک تاجر برادری کی اعلی ترین بد عنوانیت سے بھر پور منافع خور ذہنیت آشکار ہونے لگتی ہے۔ ان محرکات کا تجزیہ نچلی سطح سے شروع کریں تو پتہ چلتا ہے کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا اس لئے کمیاب ہے کہ دکاندار رمضان بازار سے 20کلو آٹے کا تھیلا قریباٌ650 روپے میں خرید کر لاتا ہے ، اب دوکان پر یہ تھیلا اپنی مخصوص پیکنگ اور پرنٹنگ کے باعث کھلے عام نہیں بک سکتا تو یہ دکاندار حضرات اس تھیلے کو چاک کر کے کھلی حالت میں 750 روپے فی 20 کلو کے حساب سے فروخت کرتے ہیں اس کے علاوہ کھلے آٹے کی قیمت 1 روپیہ فی کلو زیادہ ہی ہوتی ہے یوں یہ دکاندار اس آٹے پر4 سے 5 روپے فی کلو زائد کماتا ہے جبکہ دوسری طرف مستحقین رمضان بازاروں میں قطاروں میں لگے آٹے کے حصول کی خاطر خوار ہوتے رہتے ہیں۔اس کے اوپر چلیں تو یہ دکاندار حضرات اکھٹے دس دس آٹے کے تھیلے کیسے حاصل کر لیتے ہیں؟ تو اس کا جواب ہے 100 روپے کے ایک یا دو پتے جو یہ صاحب اس آٹے کے ٹرک پر مامور حکومتی اہلکار یا پولیس والے کی جیب
میں ڈال دیتے ہیں!!!
اس کے اوپر مل مالکان کی باری آتی ہے جن کے گندم کے موجودہ سٹاک کی قیمت گندم کی سپورٹ پرائس بڑھنے کی وجہ سے اچانک 3.70 روپے فی کلو گرام گندم بڑھ گئی ہے۔ اس سال گندم کی سپورٹ پرائس 1200 روپے فی 40 کلو گرام ہے جو پچھلے سال 1052 روپے فی 40 کلو گرام تھی۔عام طور پر فلور ملیں ایک سے ڈیڑھ لاکھ گندم کی بوریوں کا سٹاک ہر وقت برقرار رکھتی ہیں جن کا اوسط وزن 101 کلو گرام فی بوری ہوتا ہے تو اس طرح مل مالکان کو گندم کی سپورٹ پرائس بڑھنے سے 3.73 کڑوڑ روپے سے 5.60 کڑوڑ روپے کا سیدھا مالی فائدہ حاصل ہو گیا۔ مل مالکان صاحبان اس وقت رمضان پیکیج کے تحت گندم کی پسائی میں مصروف ہیں اور آٹا رمضان بازاروں میں ترسیل کر رہے ہیں ، ان کی اپنی پیداوار بند ہے کیونکہ انڈسٹریل ایریا میں بجلی صرف 10 گھنٹے کے لئے آ رہی ہے جبکہ ان 10گھنٹوں میں رمضان پیکیج ہی پیسا جا سکتا ہے اور اسی لئے اوپن مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کے اوپن مارکیٹ تھیلے کی قلت نظر آ تی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اب یہ مل مالکان حضرات 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے باوجود کسی قسم کی کوئی شکایت یا ہاہا کار مچاتے کیوں سنائی نہیں دیتے تو جناب اس کا سبب یہ ہے
کہ بیٹھے بیٹھائے گندم کے موجودہ سٹاک کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا جس کے باعث آٹے کی فی کلو قیمتِ فروخت میں 4 سے 6روپے کا اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ آٹے کی بائی پروڈکٹز میدا، فائن اور چوکر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جو ان فلور ملوں کا اصل منافع ہوتا ہے تو فی الوقت یہاں پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومتی گندم کی ایک بوری کے عوض فلور مل پانچ 20 کلو آٹے کی بوریاں رمضان بازار میں ترسیل کرنے کی پابند ہیں، پیکنگ، لوڈنگ اور ترسیل کا خرچہ فلور مل کے ذمہ ہے جبکہ بائی پروڈکٹز فلور مل کا استحقاق ہے۔ میدے کی قیمت 3700 روپے فی 84 کلو گرام، فائن کی قیمت 5400 روپے فی 84 کلو گرام اور چوکرکی قیمت 660 روپے فی34 کلو گرام ہے۔ مزید برآں یہ بھی گارنٹی نہیں ہے کہ حکومت کی جانب
سے فراہم کی گئی گندم کی مکمل پسائی ہو بھی رہی ہے یا نہیں؟ حکومت کس طرح اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ فلور ملیں سبسیڈائزڈ گندم کو 100 فیصد پیس کر آٹے کی شکل میں رمضان بازاروں میں ترسیل کر رہی ہیں جبکہ ان کی پیکنگ، لوڈنگ اور ترسیل کی تمام تر کاروائی فلورملوں کے اپنے ہاتھوں میں ہے ، حکومت کو تو صرف کاغذی کاروائی پوری چاہیے اور انسپکشن ٹیمیں فلور ملوں میں بھیج کر حکومت مل مالکان کو ناراض نہیں کرنا چاہے گی!!!
اگر فلور مل آٹے کی 500 بوری ٹرک پر لوڈ کرنے کے بجائے 300 یا 400 بوری لوڈ کرے اور رمضان بازار میں اس ٹرک پر مامور حکومتی اہلکار کی جیب میں عیدی ڈال کر آٹے کی 500 بوری کی مکمل ترسیل کے پروانے پر دستخظ کروا لے تو کاغذی کاروائی بھی مکمل ہو جائے گی، سب کچھ ٹھیک بھی ہو جائے گا اور فلور مل بھی دن دگنی رات چوگنی
ترقی کرے گی!!!
موجودہ حالات میں بیشتر فلور ملیں رمضان پیکیج سے خوب لطف اٹھا رہی ہیں، حکومت کو دعائیں دے رہی ہیں اور منافع خوری نت نئے طریقوں سے عروج پر ہے۔ حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر مکمل سکوت ہے، تاجر حضرات نے حکومت سے دورانِ انتخابات بہت تعاون بھی کیا ہے تو شاید اب رمضان کے اس با برکت مہینے میں تھوڑا سا محضوض ہونے کا حق ان کا بھی تو بنتا ہے۔ عوام کی خیر ہے یہ تو بس عوام ہے، اس کو بے آواز طور پسنا اور سسکنا خوب آتا ہے!عوام کے لئے بری خبر یہ بھی ہے کہ بجلی کا ٹیرف بڑھنے اورود ہولڈنگ جی ایس ٹی کے نفاذ کی صورت میں آٹا مزید اونچی پرواز کرے گا اور عوام ان آٹے کے تھیلوں کو دور سے دیکھ دیکھ کر خیالی روٹیاں پکا پکا کر کھائیں گے! مہنگائی کے اس طوفان کو قابو کرنے اور غریب کی سانسوں کے تار باندھ رکھنے کے لئے انتہائی موئثر پرائس کنٹرول میکانیزم کے عملی نفاذ کے ساتھ ساتھ بے جا منافع خوری و کرپشن کو لگام دینے کی ضرورت ہے !!!
رمضانِ کریم، اناج حاجتِ گناہگار شکمِ زیست، عوام غریب، منافع خور با عزت و تکریم، حکومت با اختیار پر بے دید، داستانِ مملکتِ خدادادِ پاکستان یوں روشِ پائیہ تکمیل!!!