ہم نے بھی عید منانی ہے

Posted on July 24, 2013



تحریر: انجینئر زوہیب اکرم

رمضان سے پہلے تک میں فروٹ اور سموسے پکوڑے بیچنے والوں کو انتہائی مظلوم سمجھتا تھا ، جو بیچارے بڑی مشکلوں سے گزارا کرتے ہیں لیکن کل جب افطاری لینے ایمپریس مارکیٹ پہنچا تو خیالات میں تھوڑی سی تبدیلی آئی کہ مظلوم صرف غریب اور ظالم صرف امیر اور حکمران نہیں فرق صرف یہ ہے کہ کس کو کتنا موقع ملتا ہے۔
ہوا یوں کہ صدر میں واقع پارکنگ پلازہ کے سامنے ٹھیلے سے سموسے خریدتے ہوئے مجھے لگا کہ قیمت معمول سے کچھ زیادہ ہے اور سموسموں کا سائز پہلے سے بھی چھوٹا ۔وجہ پوچھی دکان دار سے تو اس نے روکھے لہجے میں جواب دیا ۔”بھائی ہم نے بھی عید منانی ہے ہمارے بھی بچے ہیں ۔“
میں نے پوچھا تم نے عید منانی ہے تو کیا مطلب تمھیں اپنی مرضی سے قیمت کم زیادہ کرنے کا اختیار کس نے دیا ؟
ہنس کر کہنے لگا”بابو لینا ہے تو لو ورنہ کہیں اور جا کے انٹرویوکرو ۔۔ یہی تو مہینہ ہے کمائی کا۔“
یہ یقیناً ایک عام سی بات تھی قریباً ہر دہاڑی دار ایسے ہی سوچتا ہے ۔ اور رمضان کی برکت کو کمائی میں ڈھالنے کے لیے ایسے جملے کہتا ہے لیکن میں نے بھی سوچ لیا کہ افطاری تو لینی ہے لیکن کم از کم اس کو یہ احساس ضرور دلانا ہے کہ لٹیرے صرف وہ ہی نہیں جن کو ہم روز ٹی وی پر لڑتا دیکھتے ہیں ، یا جن کا نام لے لے کر لوڈشیڈنگ کے وقت ان کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ل
ٹیرا وہ بھی ہے جو بغیر ریٹ لسٹ کے مرغی ، گوشت اور دالوں کی قیمت رمضان کی برکت کے نام پر بڑھاتا چلا جا تاہے ۔ڈاکو وہ بھی ہے جو دن کے وقت رکشے کا کرایہ سو روپے لیتا ہے لیکن لیٹ نائٹ دو سو روپے ۔ اس سسٹم کی خرابی کا ذمے دار وہ بھی”ہم نے بھی عید منانی ہے“ کہہ کر سفید پوش طقبے کی افطاری کھاجاتا ہے ۔
یہ سب باتیں جب میں نے اس سموسے والے کو سنائیں تو وہ گھور کر کہنے لگا۔
”اوہ بھائی یہ تقریر افطاری کے بعد کرلینا۔ دھندے کا ٹائم مت خراب کر۔ لینا ہے تو لے ورنہ آگے نکل۔“
سب کچھ ویسا ہی تھا ، افطار کے وقت کی افراتفری ، لوگوں کا ٹھیلوں پر لپکنا، دکان داروں سے الجھنا ، تھیلے بھر بھر کر افطاری خریدنا ناجائز مہنگائی کے باوجود۔ میں ایک طرف ہٹ کر سوچنے لگا۔ خرابی آخر ہے کہاں۔ کیا ظلم اربوں کی کرپشن کرنا ہے ؟ کیا ناانصافی کے لیے حکمران ہونا ضروری ہے ۔۔ آپ کیا کہتے ہیں ؟ ضروری نہیں کہ سب ایسے ہوں ۔ لیکن جو ایسے ہیں سوال بھی انہی پر اٹھنا چاہئے۔