تا ثیر ہی الٹی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted on July 24, 2013



امریکیوں کی زندگی بھی بہت مصروف ہوتی ہے- صبح اٹھتے ہیں تو بہت تھوڑا وقت ہوتا ہے ان کے پاس آفس پہنچنے کے لئے- سارا دن آفس میں سر کھپانے کے بعد رات کو جب گھر لوٹتے ہیں تو سمجھ نہیں آتا کہ یہ جو تھوڑا سا وقت ہے اسے بیوی کے ساتھہ گزاریں یا دوستوں کے ساتھہ – کسی پارٹی میں جائیں یا گھر میں رہ کر کوئی فلم دیکھہ لیں – ان کے ہاں مشینوں کا استعمال بہت زیادہ ہے – مگر مشینوں کا خرچہ کم نہیں ہوتا – ان مشینوں کو پالنے کے لئے گدھوں کی طرح دن رات کام کرنا پڑتا ہے – ایسے میں جب صدارتی الیکشن آتے ہیں تو ان کی حالت قابل دید ہوتی ہے – انہیں اپنا اگلا صدر چننا ہوتا ہے اور ان میں سے اکثر کو یہ تک نہیں پتا ہوتا کہ ان کا پچھلا صدر کون تھا – مگر بحرحال وہ ایک ذمہ دار قوم ہیں اور ووٹ ڈالنا اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں – ایسے معاملات میں میڈیا ان کی بہت مدد کرتا ہے اور اس طرح وہ میڈیا کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنے لئے اپنی مرضی سے ایک صدر چن لیتے ہیں – ہمارے میڈیا کی طرح ان کا میڈیا بھی ان سے پوچھتا ہے کہ “آپ نے ووٹ کس کو ڈالا”- اور اکثر امریکیوں کا جواب ہوتا ہے “گدھے کو” – گھبرائیے نہیں یہ باراک اوباما کی پارٹی کا انتخابی نشان ہے – ورنہ امریکی اتنے بھی گدھے نہیں ہوتے کہ پانچ سال دنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے اپنے کسی ہم جنس کے سوا کسی اور کا انتخاب کر لیں – جس طرح امریکہ میں گدھے کو ووٹ دینے کا رجحان ہے اسی طرح ہمارے ہاں شیر کو ووٹ دینے کا رجحان ہے – مگر جب یہ لیڈران آپس میں ملتے ہیں تو خصلتیں بدل جاتی ہیں –
کہتے ہیں کہ مغرب کا میڈیا بلیک کو وائٹ اور وائٹ کو بلیک کر سکتا ہے – ہمارے ہاں بھی جب میڈیا کو آزادی ملی تو بہت سے لوگوں کو فکر لاحق ہو گئی کہ اب ہمارا میڈیا بھی بلیک کو وائٹ اور وائٹ کو بلیک کیا کرے گا – مگر یہاں شائد تاثیر ہی الٹی ہے – ہمارا میڈیا اگر کوّے کو بھی کالا کہ دے تو عوام کا کوّا سفید ہو جاتا ہے –
پچھلی صدی کے آخر میں طالبان نے پاکستان میں بہت شہرت پائی – ملاّ عمر ایک ہیرو بن کے ابھرے – مگر پھر ایک حادثہ ہو گیا 11/9 کا حادثہ جس کا الزام القائدہ اور اسامہ بن لادن پر لگایا گیا اور جس کی وجہ سے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا –
اس کے کچھہ عرصے بعد ہمارے ہاں میڈیا کو آزادی ملی اور طالبان کی ہانڈی تقریبا‏‍ روزانہ بیچ چوراہے پر پھوٹنے لگی – قوم کو بارہا یہ بتانے کی کوشش کی گئی کے جن کو تم اچھا سمجھتے ہو وہ اتنے بھی اچھے نہیں ہیں – وہ خواتین اور ان کی تعلیم دونوں کے دشمن ہیں – خواتین کوسر عام کوڑے مارتے ہیں – ہمارے لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں اور ہمارے ملک میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں – پچھلے دس سالوں سے میڈیا لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ طالبان اچھے لوگ نہیں ہیں – مگریہاں تاثیر ہی الٹی ہے – دس سال کی اس محنت کا حاصل یہ ہے کہ عوام مصالحت پہ تیار ہو گئی ہے کہ کیوں نہ طالبان کو دو حصوں میں بانٹ لیا جاۓ – اچھے طالبان اور برے طالبان – اور اب اسلم رئیسانی کا مذاق اڑانے والا میڈیا خود یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ طالبان طالبان ہی ہوتے ہیں چاہے اچھے ہوں چاہے برے –
پھر ایک انتہائ اندوھناک واقعہ پیش آیا جب طالبان نے ایک معصوم بچی پر قاتلانہ حملہ کر دیا – جس میں وہ بچی الحمدللہ محفوظ رہی مگر پاکستانی قوم اس طویل ترین بریکنگ نیوز کی وجہ سے کافی دن تک دوسری خبروں سے محروم رہی – ہمارے میڈیا نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی تشہیر عبادت سمجھہ کر کی – اللہ ان کو اس کا اجر عطا فرماۓ – اب اصولا ہونا یہ چاہئے تھا کہ لوگ طالبان کے اس ظالمانہ قدم کے خلاف اٹھہ کھڑے ہوتے اور ملالہ یوسف زئی کو خراج عقیدت پیش کرتے مگر ۔۔۔۔۔ ہاۓ ۔۔۔۔ کیا کریں تاثیر ہی الٹی ہے – آج بھی اگر ملالہ کے بارے ہمدردی کے دو بول سننے ہوں تو ٹی وی ہی لگانا پڑتا ہے –
پچھلے دنوں جب ملالہ نے اقوام متحدہ سے خطاب کیا تو مجھہ جیسے پاکستانی کا سر فخرسے بلند ہو گیا – مگر یہ کیفیت بس اتنی دیر ہی برقرار رہی جتنی دیر میں ٹی وی دیکھتا رہا – جیسے ہی میں ٹی وی بند کر کے گلیوں بازاروں اور فیس بک وغیرہ پہ تھوڑا سا گھوما تو پتہ چلا کہ ٹی وی جسے قابل فخر سمجھتا ہے عوام کے لئے وہ قابل شرم ہے – اب ہم اتنے گئے گزرے ہیں کے اپنے بچوں کی حفاظت خود نہیں کر سکتے – برطانیہ کی حکومت ان کی حفاظت کرے گی اور انہیں پال پوس کے “اچھی” تعلیم دے کے ہمارے حوالے کرے گی اور پھر وہ پاکستان آکر “ہمارے” حقوق کے لئے آواز اٹھائیں گے –
2013 کے الیکشن میں میڈیا نے عوام کو ایک بہت بڑی تبدیلی کی نوید دی – ہر شخص اس گمان میں مبتلا ہو گیا کہ اس کے رہائشی حلقے کے سوا ہر حلقے میں ایک بہت بڑی تبدیلی آرہی ہے – ٹی وی میں معروف تجزئیہ نگار 20 یا 120 کا ریشو بتاتے تو لگتا کہ گویا کرکٹ میچ ہے اور آفریدی بیٹنگ کرنے آیا ہے – یا تو سنچری بناۓ گا یا صفر پہ آؤٹ ہو جاۓ گا – 10 مئی تک بہت سے لوگوں نے آنکھوں میں خواب سجا لئے – فیس بک کی پوسٹس میں عمران خان سر پہ پٹی باندھے وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے پاۓ گئے – مگر لگتا ہے ہماری عوام کی قسمت میں صرف آب و ہوا کی تبدیلی لکھی ہے – 12 مئی کی صبح ہنستے مسکراتے اینکر پرسنز کے چہرے لال بھبھوکا ہو رہے تھے – ہر ایک کا یہی خیال تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے- یہ تو اسکرپٹ میں نہیں لکھا تھا ۔
مگر کیا کریں تاثیر ہی الٹی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔