اپنی مدد آپ

Posted on July 22, 2013



تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن افراد اور اقوام نے اپنی حالت سنوارنے کی کوشش نہیں کی وہ مٹ کر رہ گئی۔ پینسٹھ سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان مسلسل مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔احساس رکھنے کے باوجود اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو فنا ہو جاتا ہمارا مقدر بنے گا۔اقوام کو اٹھنے اور ابھرنے کے لیے ہمیشہ اپنے زورِ بازو سے کام لینا ہوتا ہے اور یہ قوت بے غرضی،قربانی،حب الوطنی اور جذبے کے ساتھ موثر ہوتی ہے۔

یقینِ محکم عملِ پہیم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیںیہ مردوں کی شمشیریں

کسی مصیبت کے وقت آپ کو کسی حمایتی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ خود ہی اپنے سب سے بڑے حمایتی ہیں۔ کوئی دوسراآپ کی اتنی مدد نہیں کر سکتا جتنی مدد آپ اپنی کر سکتے ہیں۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بیدار انسان یا گرو مل جائے وہ آپ کی مدد ضرور کر سکتا ہے۔اپنی مدد آپ کرتے وقت یہ نہ سوچیں کہ آپ اکیلے ہیں اور بے یارو مددگا ر ہیں۔ بس یہ اکیلا پن ہی آپ کو تبدیلی کا موقع فراہم کرے گا۔جو شخص یہ سوچتا ہے کہ اس صورتحال کا کوئی بدل نہیں اور ان ضرر رساں حالات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا’ وہ شخص غلط لائنوں پر سوچ رہا ہے۔ جس صحتمند شخص کے اندر کوئی مخالفت نہیں’ اس کی باہر سے بھی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا۔
اشفاق احمد، باباصاحبا۔ صفحہ نمبر 553

اپنی مدد آپ کرنیکامنفرد مظاہرہ:اگر آپ ایک مصور ہوں تو کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کا کام کوکسی معروف آرٹ گیلری تک پہنچنے میں دہائیاں لگ جائیں، ایسا ہی کچھ پولینڈ کے طالبعلم نے سوچا اور ایک منفرد حل نکالا۔پولینڈ کے جنوب مغربی شہر واروکلا میں اس نوجوان مصور اینڈریزج سوبپان کو جب مستقبل میں تاریکی نظر آئی تو اس نے معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔تو اس نے کیا کچھ ایسا کہ آرٹ گیلری میں جب محافظوں کی توجہ کسی اور جانب مبذول ہوئی تو اس نے خاموشی سے اپنی تصویر وہاں آویزاں کردی۔حیرت انگیز طور پر گیلری کے حکام بھی نئی تصویر سے 3 دن تک واقف نہیں ہوسکے، تاہم جب انہیں اس کا اندازہ ہوا تو وہ نوجوان مصور کی تخلیقی سوچ سے بہت متاثر ہوئے۔ان کے بقول اس سے ہمارے نوجوان نسل کے مصوروں کی انفرادیت کا اندازہ ہوتا ہے جو اپنا کام جلد سے جلد گیلری میں دیکھنا چاہتے ہیں۔تو ثابت ہوا کہ اپنی مدد آپ کرنے کا محاورہ ہر دور کا آفاقی اصول ہے بس حکام مہربان ہونے چاہیے۔

اسی طرح اپنی مدد آپ کے متعلق میں اپنے گاؤں کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ہمارے گاؤں میں بوائز پرائمری سکول کی عمارت کافی خستہ حال ہو گئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں نے بچوں کو یہاں تعلم حاصل کرنے کے لیئے بھیجنے کے بجائے دوسرے سکولوں کا رخ کر لیا جس کی وجہ سے سکول میں بچوں کی تعدادنہ ہونے کے برابر ہوگئی جبکہ تین ٹیچر اس سکول میں ملازمت پر تھے۔اس سنگین صورت حال کو دیکھتے ہوئے گاؤں کے لوگوں نے متحد ہو کر فیصلہ کیا کہ ہم خود اپنی مدد آپ کے تحت اس سکول کی عمارت کی مینٹیننس کرتے ہیں کیونکہ حکومت نے اس کام کے لیے کوئی گرانٹ نہیں جاری کی۔گاؤں کے لوگوں کو ڈر یہ تھا کہ اگر اس عمارت کو ٹھیک نہ کیاگیا تو یہاں پڑھنے والوں کی تعداد ختم ہو جاتے گی جس سے سکول ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔اسی ڈر سے گاؤں کے لوگوں نے عمارت کی مینٹیننس کے لیے متحد ہو کر پیسے اکھٹے کیے اور سکول کی عمارت ٹھیک کی جس کے بعد لوگوں نے اسی سکول میں اپنے بچوں کو داخل کرانا شروع کر دیا جو بند ہونے کے قریب تھا ۔اس سے ثابت ہوا کہ اگر ہم لوگ متحد ہو کر اور اسے اپنا کام سمجھ کر نہ کرتے تو جلد ہی اس سکول کا نام مٹ جاتا۔

اسی طرح اگر محلے کی سطح پر ہر فردگروپ کی صورت صفائی ستھرائی،غریبوں کی مدد اور ضرورت کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت کام کرے ،تو ہمارے معاشرے کو حکومت کے بغیر بھی سدھرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ پاکستان کو اس وقت بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی،لا قانونیت،مہنگائی،لوڈشیڈنگ۔بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے جرائم اہم ترین ہے جبکہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے عوام نے تمام دارومدار اور ذمہ داری حکومت پر ڈالی ہوئی ہے کہ یہ تمام مسائل صرف گورنمنٹ نے ہی حل کرنے ہیں۔ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے کیونکہ جب تک عوام اپنی بہتر ی کے لیے خود تگ و دو نہیں کرے گی تب تک یہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ہماری قوم کے حالات بدل سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہم سب کو (عوام اور حکومت)کو مل کر محنت کرنی ہو گی۔بقول اقبال

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا