اے پی سی سے قبل میری نوازشریف اور جنرل کیانی سے ملاقات ہونی چاہیے : عمران خان

Posted on July 19, 2013



اے پی سی سے قبل میری نوازشریف اور جنرل کیانی سے ملاقات ہونی چاہیے : عمران خان

حکومت بتائے امریکہ کے ساتھ کیا انڈرسٹینڈنگ ہے اور کیا آئی ایم ایف کا پیکیج مفاہمت کا حصہ ہے فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جائے ، فوج سول قیادت کے ساتھ ہم آہنگ ہے ؟

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آل پارٹیز کانفرنس اور حکومت کی جانب سے اسکے التواء کے حوالے سے تفصیلی بیان جاری کر تے ہوئے کل جماعتی اجلاس سے قبل وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ ایک خفیہ نشست کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا ہے ۔ گزشتہ روز مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دو ماہ قبل بسترعلالت سے وزیراعظم نواز شریف،آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور اپنے درمیان ملاقات کی درخواست کی تھی۔ اسکا مقصد سادہ اور واضح تھا کہ حکومت بشمول فوج کی جانب سے دہشتگردی کیخلاف جنگ اور ڈرون حملوں پر امریکہ سے کئے گئے وعدے /مفاہمت اور فرقہ وارانہ دہشتگردی پر خفیہ اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے موقف کی حقیقت تک پہنچا جا سکے ۔اسکی وجہ یہ تھی کہ یہ محسوس کیا گیا کہ شاید قومی سلامتی جیسے حساس مسئلے کو آل پارٹیز کانفرنس جیسے کھلے اجلاس میں بیان کرنا ممکن نہ ہو لیکن اس کیساتھ سیاسی قیادت کو بھی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں حکومت کی جانب سے امریکہ سے اب تک کئے گئے وعدوں اور فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وجوہات کے حوالے سے حقائق سے آگاہ کرنا بھی ضروری تھا کیونکہ لمبے عرصے تک حکومتوں نے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے سے گریز کیا اور عوام سے صریحاً جھوٹ بولا جاتا رہا، جسے حقیقت بتایا جاتا رہا وہ یا تو وکی لیکس اور امریکی مصنفین کے ذریعے منظر عام پر آیا جیسا کہ صدر زرداری کی ڈرون حملوں پر امریکی حکومت سے خاموش مفاہمت ہویا اسفند یار ولی خان کا وہ بیان کہ امریکہ سوات میں فوجی آپریشن کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ نہیں چاہتا۔دو اے پی سیز کے انعقاد کے بعد طالبان نے بیان دیا کہ مذاکرات اسی وقت اہمیت اختیار کریں گے جب فوج بھی سیاسی قیادت کے ساتھ ہم آہنگ ہو گی ۔ آج یہ بھی اہم ہے کہ موجودہ حکومت سیاسی قیادت کو بتائے کہ امریکہ کے ساتھ اسکی کیا انڈرسٹینڈنگ ہے ،بتایا جائے کہ کیا بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے ملنے والا پیکیج پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے جڑے رہنے کے حوالے سے مفاہمت کا حصہ ہے ۔ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ کیا فوج سول قیادت کے ساتھ ہم آہنگ ہے کیونکہ اس کے علاوہ مذاکرات یا دہشتگردی سے نمٹنے کا کوئی بھی معاہدہ بار آور نہیں ہو سکتا۔فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جائے

Source
http://dunya.com.pk/index.php/pakistan/2013-07-19/177516#.UemIjm3F9LM