امریکہ ۔۔۔۔۔۔انسانی حقوق کا علمبردار

Posted on July 16, 2013



پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی جج رچرڈ برمن کی جانب سے 86سال کی سزاسنائے جانے کے بعد بدنام زمانہ راکس ویل نامی مقام پر قید رکھی گئی ہیں۔امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع جیل نما طبی مرکز جسے خواتین کے لئے بدنام زمانہ جیل کی شہرت حاصل ہے قیدیوں کی پراسراربیماریوں اور اموات کے باعث انتہائی مشکوک شہرت رکھتاہے۔ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ امریکہ صنفِ نازک کا کیسا احترام کرتی ہے۔جھوٹے دلائیل پرکائروں کی نسل پرست جیوری نے معصوم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو نا کردہ گناہوں کی مجرم قرار دیکر اپنی آلودہ ذہنیت اورکھلے تعصب کا برملا اظہار کر دیا۔جس سے امریکہ کا داغ دار چہرہ ،جس کو فی زمانہ یہودیت کا انفیکشن لگا ہواہے تمام دنیا نے دیکھ لیا ہے۔ یہ تعصب اور مکر و فریب امتِ مسلمہ گذشتہ پندرہ صدیوں سے دیکھ رہی ہے۔

چند عرصہ پہلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکی جیل میں حملہ کر کے تشدد کیا گیا جس کے بعد انہیں لہو لہان جیل میں چھوڑ دی گیا اور ان کے وکیل کے آنے پر تین دنوں کے بعد علاج کیا گیا ،کیا انسانی حقوق یہی درس دیتا ہے کہ مظلوموں کے ساتھ ایسا سلوگ کرنا چاہیے؟اس سوال کا جوا شاہد امریکہ کے پاس نہ ہو کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ عافیہ بے گناہ ہے جسے سزا سنا کر جیل میں بند کر دیا گیا مگر ادھر پاکستان میں ہم لوگ اتنے بے حس ہو گئے کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے قاتل کو بغیر کوئی سزا دیئے حکمرانوں نے خود الوداع کیا مگر اب امریکی صدر باراک ابامہ عافیہ صدیقی کی رہائی میں کیونکہ اہم کردار ادا کر رہا۔ہمارے حکمرانوں نے تو ریمنڈ دیوس جیسے قاتل کی بھی رہائی میں اہم کردار ادا کیا جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی تو ایک بیچاری بے گناہ پاکستانی شہری ہے جسے امریکہ نے سازش کے تحت گرفتا ر کر لیا اور دنیا سے یہ حقیقت ڈھکی چھپی بھی نہیں کہ وہ بے گناہ ہے البتہ انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ کے کالے کرتوت ابھی مکمل طور پر منظر عام پر نہیں آئے جسے اب جلد ہی پوری دنیا بھی واقف ہو جائے گی۔