Response to criticism – کپتان جی! سادے کے سادے ھی رھو گے

Posted on July 14, 2013



Response to criticism – کپتان جی! سادے کے سادے ھی رھو گے

کیا آپ نے کبھی کسی کو پانی میں مدھانی پھیرتے دیکھا ھے ؟
میں تو پچھلے دو دن سے انگلیاں دانتوں میں دباۓ یہ مناظر دیکھ رہا ہوں
اب ان دانشوروں کو کون سمجھاۓ کہ پانی میں چاھے تمام عمر بھی مدھانی پھیرتے رهو، لسی اس میں سے تب بھی نہیں نکلنی
بات ہو تو بتنگڑ بنے ، رائی ہو تو پہاڑ بنے
پھر بھی اگر آپ مصر ہیں تو آپ کی “ہٹ دھرمی ” کو سلیوٹ تو بنتا ھے

نجانے کون سی وجدانی اور کشفی طاقتوں کی بدولت ان پر یہ راز آشکار ھوا کہ اے پی سی ملتوی ھونے کی واحد وجہ صرف اور صرف عمران کی لندن روانگی ھے،. اور پھر اس پر یہ اصرار بھی کہ ان کی اس بونگی کو یونیورسل ٹرتھ بھی مان لیا جاے

چلیے آپ کی “ناراضگی “کے خوف سے یہ بات بھی تسلیم کر لیتے ہیں لیکن میری قوم کے یہ “سکہ بند ” دانشور کیا یہ بتانا پسند کریں گے کہ اس اے پی سی کے انعقاد سے وہ کون سی توپیں چل جانی تھی جو اس سے پہلے ہونے والی درجنوں اے پی سیز سے نہیں چل سکیں .. آپ کی ٹوپی میں ایسے کون سے کبوتر نکلنے والے تھے جنھیں دیکھ کر دوسرے ممالک کے حکمرانوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ..آپ کی باتوں سے ظاہر تو کچھ یوں ہو رہا تھا جیسے واشنگٹن سے لے کر برلن تک اور ماسکو سے لندن تلک تمام عالمی طاقتیں اس اے پی سی کے خوف سے تھر تھر کانپ رہی ہیں .

سچ تو مگر یہ ہے جناب واعلیٰ کہ جب ایک بھکاری کے ہاتھ میں کشکول ہوتا ہے تو اس کے پاس اس کشکول کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا ..آپ جتنا مرضی سر جوڑ کر بیٹھ لیں ، جتنی لمبی گول میز کانفرسیں کر لیں، ھونا وہی ھے جو سائیں کا دل کرے گا..گداگر کو مطالبات پیش کرنے کی اجازت دنیا کے کسی قانون میں نہیں ہے ..آئی ایم ایف کے ایک چیک کی خاطر ہلکان
ہونے والے ڈرون روکنے کی باتیں کیونکر اور کس منہ سے کر رہے ہیں

غلطی شائد عمران کی بھی تھی ، وہ اس قوم کو جگانے کی کوشش کر رہا ھے جو شائد صور اسرافیل سے بھی جاگنے والی نہیں
بندہ اس سے پوچھے تمہیں ساٹھ دن اس ملک کے ہسپتال میں علاج کروانے کے بعد ہی یہ خیال کیوں آیا کہ تم لندن کے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے چل پڑے ..آج تک کون سے رهنما نے اپنا علاج پاکستان سے کروایا ھے جو آپ کو حب الوطنی کا یہ اٹیک ھوا تھا . خوامخواہ ساٹھ دن برباد کئے

اگر تم بھی دوسرے لیڈروں جیسے ہوتے جو ایک چھینک آنے پر ھی باہر کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں تو شائد آج تم پر اتنی تنقید نہ ہو رہی ہوتی
کپتان جی ! آپ سادے کے سادے ہی رھو گے