• BROWSE BY

Browse website with your favourite
Anchor/politician/Channel Or Program

  • BROWSE BY PROFILE
  • PROGRAMS AND TALKSHOWS
  • TV CHANNELS

BBC 2’s Documentary Against Altaf Hussain/MQM





Watch BBC 2’s Documentary Against Altaf Hussain/MQM

Dailymotion

Tune

Youtube

موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ اور دفتر پر چھاپوں میں قابل ذکر رقوم کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
لندن پولیس نے ایک تحریری جواب میں بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ اس سلسلے میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے

پولیس نے بتایا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر پہلا چھاپہ چھ دسمبر

سنہ دو ہزار بارہ کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت مارا تھا جس کے دوران دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔پولیس نے اس رقم کے بارے میں

مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لے لی گئی۔پولیس نے اٹھارہ جون دو ہزار تیرہ کو

شمالی لندن کے دو مکانات پر بھی چھاپہ مارا تھا۔ یہ چھاپہ پولیس اینڈ کرمنل ایکٹ کی دفعہ آٹھ کے تحت مارا گیا اور پولیس کے مطابق اس میں ’قابل ذکر‘

مقدار میں رقم قبضے میں لی گئی۔اتنی بڑی رقم کے برآمد ہونے کے بعد جس کی کا کوئی حساب بھی نہیں دیا جا سکا منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کیے

جانے پر غور کیا جانے لگا تھا۔پولیس کے مطابق وہ اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ رقم کہاں سے اور کن حالات میں ان جگہوں پر پہنچی۔خیال

رہے کہ لندن پولیس ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے سلسلے میں پہلے ہی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک

سال قبل کراچی میں دو اشخاص کی گرفتاریوں کو اہم قرار دیا ہے اور اس بارے میں پولیس پاکستانی حکام سے بھی رابطے میں ہے۔پولیس نے گزشتہ ماہ

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ ہر کینیڈا سے لندن پہنچنے والے ایک شخص کو بھی گرفتار کیا تھا جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس شخص کو کئی گھنٹوں کی

تفتیش کے بعد ضمانت پر ستمبر 2013 تک رہا کر دیا گیا تھا۔ڈاکٹر عمران فاروق کو سولہ ستمبر سنہ دو ہزار دس میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان کے قتل کو

تین سال مکمل ہونے والے ہیں۔مزید براں چند ماہ پہلے الطاف حسین کی ایک تقریر کے بعد لندن پولیس کو ہزاروں کی تعداد میں لندن میں مقیم پاکستانیوں اور

پاکستان سے بھی شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ان شکایات کے بعد لندن پولیس نے الطاف حسین کے مذکورہ خطاب کا متن ہوم آفس کو ترجمے اور تجزیے

کے لیے بھجوا دیا تھا۔پولیس نے تاحال اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ انھیں ہوم آفس سے اس تقریر کے بارے میں کیا مشورہ دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ ایم

کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے گزشتہ بیس سال سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر رکھی ہے اور وہ برطانوی شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں۔انہوں

نے گزشتہ ماہ کے آخر میں پاکستان میں اپنی جماعت کے کارکنوں سے ایک ٹیلیفونک خطاب میں کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ اور لندن کی میٹروپولیٹن پولیس

نے لندن میں واقع اُن کے گھر کا کئی گھنٹے تک محاصرہ کیا اور تلاشی کے دوران ان کے گھر سے سامان اٹھا کر لے گئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ

پولیس انھیں ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ملوث کرنے کی سازش کر رہی ہے اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت بڑی

صفائی سے ان کی جان لے سکتی ہے