سسٹم کی تبدیلی

Posted on July 2, 2013 Articles



Conversation started today
12:56am
Hafeez Bandhani

ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے میری نظر میں سسٹم تب ناکام ہوتا ہے جب ریمنڈ ڈیوس آزاد ہوتا ہے، یہ ناکامی تب بھی سسٹم کو منہ چڑاتی ہے جب عدالت عظمی سزائے موت برقرار رکھے لیکن صدر ذاتی تعلقات کی بناء پر عام معافی کا اعلان کر دے، سسٹم کی ناکامیاں پاکستان کے ہر شہر میں بلا امتیاز دیکھی جا سکتی ہیں، چاہے وہ کراچی میں سیاسی پارٹیوں کے عسکری ونگز کی بھتہ وصولی کی صورت میں ہوں یا کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف جہاد کی صورت ہو، پشاور کی مساجد میں پھیلی بارود کی بو کی صورت میں ہو یا وانا اور وزیرستان میں ڈرون کی آزادانہ بم بلاسٹنگ ہو، ججز کے کارواں دھماکوں کا نشانہ بنیں یا علماء کو چن چن کر ٹارگٹ کیا جائے۔ ۔
یہ مثالیں چھوٹی نہیں لیکن پاک سرزمین میں ایسی مثالیں روز دیکھنے میں آتی ہیں،
یہ ناکامیاں تب مقدر بنتی ہیں جب انصاف کی فراہمی کا مرحلہ طویل تر ہوجائے جب ایک خط کے اوپر دوسرا خط لکھا جائے، جب عاقل بالغ مجرم کو گورنمنٹ ڈاکٹرز “بچہ” ڈکلئیر کریں، جب سیکیورٹی ادارے سرفراز کے لئے تو موت کا پیغام ہوں لیکن ٹارگٹ کلرز کو “مفاہمت” کی سیاست میں آزاد کر دیں، جب وزرائے اعظم 46 کروڑ کی گھڑی پہن کر عوام کو سادگی کا درس دیتے ہوں، جب سلمان تاثیر اور غلام احمد بلور کی موت کو تو شہادت کہا جائے لیکن کسی عالم کی کلنگ پر میڈیا شہادت کہنے کی جرات نہ کر سکے، جب عام شہری اور مراعات یافتہ طبقے کے درمیان “استثنی” کا فرق ہو تو ایسے میں سسٹم ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے اسٹیٹ ناکام کہلاتے ہیں،
پھر اس ملک کے ادارے بھی آپس میں لڑتے ہیں اور ان کے سربراہان بھی، ایسے میں وکلاء چیف جسٹس کو، فوجی جوان آرمی چیف کو اور پارلیمنٹ خود کو نجات دہندہ سمجھتی ہیے لیکن ناکامی کی وجوہات تلاش نہیں کرتی اس صورت میں دعاؤں کی نہیں ایک کڑوی کسیلی دوا کی ضرورت ہوتی ہے جو اگر وقت پر نہ لی جائے تو مریض کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے،
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ ۔ ۔