کتا توکنویں میں ہے!

Posted on July 1, 2013 Articles



ایک کتا کنویں میں گرگیا اور مر گیا، جب گاوں والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے سوچا کہ اب کنواں پاک کیسے ہوگا؟ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ ایک مفتی کے پاس گئے، مفتی نے ان کو بتایا کہ کنویں میں سے چالیس ڈول پانی کے نکالوگے تو پانی اورکنواں پاک ہو جائیگا۔ یہ بھلے لوگ واپس گاوں گئے اور چالیس ڈول پانی کے کنویں میں سے نکالے اور مزید تصدیق کے لیے پھر مفتی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، کنویں کا پانی بھی اپنے ساتھ لے گئے کہ مفتی صاحب تسلی سے جواب دیں۔ جب مفتی صاحب نے ماجرہ سنا اور پانی کا معائنہ کیا تو اس میں کتے کے بال نظر آیا مفتی صاحب نے سوال کیا کہ کتا کنویں سے نکالا تھا؟ جواب ملا کہ کتا تو کنویں میں ہے! مفتی صاحب سر پیٹ کر رہ گئے اور ان کو کہا کہ بھائی جاؤ پہلے کتا کنویں میں سے نکالو اور پھر چالیس ڈول پانی کے نکالوگے تو تب جاکر کنواں پاک ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے وطن عزیز کا مثال بھی اس کنویں کی طرح ہے جس میں کتا گر گیا ہو، اور حکمرانوں کا حال بھی ان لوگوں جیسا ہے جنہوں نے کتے کو تو چھوڑ دیا باقی پانی نکال دیا۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ہاں ایک بندہ آیا اس نے کہا بھائی پہلے صفائی کرو، آئیں اور قانوں کے تقاضے پورے کرو، پھر الیکشن کرو تو جاکر کہیں وطن عزیر میں صاف ستھری قیادت آئے گی۔۔۔۔۔۔لیکن اس کو ہم سب نے مل کر ایسا رگڑا لگا یا کہ الامان ولحفی٭۔۔۔۔کیا میڈیا، کیا سیاستدان ، کیا عدلیہ، اسکے پیچھے ایسے پڑگئے کہ جو نقارہ کئی دنوں تک بجاتا رہا اس کی آواز میڈیا، سیاستدانوں اور عدلیہ ، وکلا کے شور شرابے میں دب گئی۔۔۔۔اور نتیجا سامنے ہے۔۔۔
شرم تم کو آتی نہیں مگر! جب ایک آدمی آئیں اور قانون کی بالادستی کے لیے تمہارے آگے جھولی پھیلا رہا تھا تو تم لوگوں نے ، ہم لوگوں نے اسکے ساتھ کیا حشر کیا؟ تم سب جوٹھے ہو! اقتدار اور عھدوں کے بھوکے ہو تم کو آئین اور قانون کی بالادستی نہیں چاہیے ! تم کو صرف اور صرف اقتدار اور عھدے چاہیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص بھی آئین اور قانون کی بالادستی تم سے چاہتا تھا۔۔۔اس نے کون سی غیر آئینی اور غیر قانونی بات کی تھی۔۔۔۔۔۔ اب کیوں یہاں ایک شخص کے خلاف آئین اور قانون کی بات کی جاتی، یہ وہ ہی میڈیا جو اس شخص کے خلاف چیخ رہا تھا، یہ وہ ہی سیاستدان ہیں جو اس شخص کے خلاف کٹھے ہوگئے تھے، یہ وہ ہی وکلا جو خود کو قانون کا رکھوالا سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ہی سب سے قانون شکن ہیں، اس شخص کے خلاف بول رہے تھے، یہ وہ ہی عدلیہ ہے جس نے اس کو ذلیل کرنے کی کوشش کی ، میں نے تو میڈیا ٹرایل سنا تھا لیکن کسی فریادی کو کورٹ میں جس طرح ٹرایل کیا گیا ا س کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔۔۔۔۔جب تاریخ لکھی جائے گی اس فیصلے کی تو میں یقین سے کہتا ہوں وہ تاریخ کی کتاب کا سیاہ باب ہوگا۔۔۔۔۔۔افسوس اب یہ سارے ایک کمزور کے خلاف قانون اور آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں! اس کو آئین شکن کہتے ہیں لیکن کس منہ سے!
ھم لوگ ایک قوم ہیں یا جانوروں کا ریوڑ۔۔۔۔ کب تم میں شعور آئے گا، کب تم اپنے حقوق سمجھوگے، خدارا اب تو ہوش کرو! خود آئین اور قانون توڑتے ہیں، خود آئین اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔۔۔۔یار�آخر کب تک؟
بھائی یھودیوں کے بارے میں پڑھا ہے قرآن مجید میں وہ کیا کرتے تھے، طاقتور کو چھوڑ دیتے تھے اور کمزور پے قانون لاگو کرتے تھے۔ اللہ کی آیتوں کو چھپاتے تھے۔۔۔ ناانصافی کرتے تھے۔۔۔۔کیا یہ باتیں ھم میں نہیں آگئیں؟ چھوڑو بحث لمبی ہوجائیگی، لیکن میری ساری کہانی کا مقصد ہے کہ ارے وہ جو قانون بناتے ہو، اور جو قانون کی باتیں کرتے ہو اس کو پہلے اپنے آپ پے نافذ کرو پھر دیکھو آئیں اور قانون پے عمل ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ تھوڑا سا بیا ن عقل والے کے لیے کافی اور شافی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔میرا کام ہے سچ اور حق بیان کرنا، پھر تم مانو یا نا مانو!