مدعی لاکھ برا چاہے کیا ہوتا ہے، ہوتا وہ ہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔

Posted on June 25, 2013



نواز شریف نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کردیا ہے اور اس سلسلے میں اسنے نیشنل اسیمبلی میں بڑی سی تقریر بھی کر ڈالی، لیکن مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کے موصوف ٦ سال تک کیوں خاموش رہے؟ مسلم لیگی اسکا جواب دینگے کہ ان کے پاس مرکز میں حکومت نہیں تھی۔ تو پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرکزی حکومت انکے پاس نا تھی تو ججز کی بحالی کے لیے انہوں نے تحریک چلادی تو کیا مشرف کے خلاف یہ غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے تحریک نہیں چلا سکتے تھے؟ اس کا بھی کوئی گول مول جواب آجائے گا لیکن ابھی جو موصوف نے کھلا اعلان کردیا ہے اس کے پیچھے بھی کوئی منافقت چھپی ہوئی ہے۔ ایک طرف تو ان یہ سیاپا پڑا ہوا ہے کہ ملک کا خزانا خالی، دوسرا سیاپا یہ پڑا ہوا ہے کہ ملک میں امن و امان کی حالت ٹھیک نہیں ہے، تیسرا سیاپا یہ پڑا ہوا ہے ملکے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ بھائی اگر اتنے مسائل میں گھرے ہوے ہو تو ایک اور پینڈورا باکس کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ پرویز مشرف تو قید میں ہیں وہ باگھے تھوڑی جارہے ہیں کہ تم کو اتنی جلدی پڑ گئی ہے۔ غداری کا مقدمہ چلانا ہے یا سمری ٹرایل کر کے مشرف کو لٹکانا ہے۔ مجھے تو عدلیہ اور نواز حکومت کی جلد بازی سے اندازہ ہو چلا ہے کہ مشرف کو انصاف نہیں ملنا۔ ٹھیک ہے اب تمہارے پاس طاقت ہے اس طاقت کے نشے میں اگر کسی کو روند ڈالوگے تو مفاقات عمل سے تم بھی بچ نہیں پاؤگے۔ کل مشرف حکومت کر رہا تھا اور تم جیل میں تھے اور آج وہ جیل میں ہے اور تم حکومت کے مزے لے رہے ہو۔ لیکن جیسے پرویز مشرف کی حکومت چلی گئی تمہاری بھی چلی جائےگی۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ تم کو اس دنیا میں کچھ نہ ھوا تو پھر جب اللہ جل جلالہ کی عدالت قائم ہوگی وہاں کیا جواب دوگے۔ مقدمہ ضرور چلاؤ لیکن انصاف کرنا ورنہ بڑا انصاف کرنے والا اللہ ہی ہے جو روز قیامت اپنی عدالت قائم کرے گا پھر نا کوئی وہاں سفارشی ھوگا نا کوئی پیسا چلے گا صرف انصاف ہوگا اور انصاف۔