چیمپئنز ٹرافی، جنید کو واحد وکٹ پر ساڑھے 13 لاکھ روپے ملیں گے

Posted on June 24, 2013



چیمپئنز ٹرافی، جنید کو واحد وکٹ پر ساڑھے 13 لاکھ روپے ملیں گے

عمران فرحت کے ایک رن کی مالیت ڈھائی لاکھ،کارکردگی کے لحاظ سے معاوضوں کی ادائیگی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
کراچی: قومی کرکٹ ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی میں تو انتہائی شرمناک کارکردگی پیش کی مگر اس کے باوجود کھلاڑیوں کے بینک بیلنس میں اچھا خاصا اضافہ ہو گا، اسی لیے بعض حلقوں کی جانب سے کارکردگی کے لحاظ سے معاوضوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ کی تحقیق کے مطابق بھاری رقوم پلیئرز کی منتظر ہیں۔ سعید اجمل کو 4 وکٹوں کیلیے لگ بھگ14لاکھ 6 ہزار رنز روپے دیے جائیں گے، یوں ایک وکٹ تقریباً ساڑھے 3لاکھ روپے کی پڑے گی،محمد حفیظ نے ٹورنامنٹ میں38رنز بنائے اور 2 وکٹیں لیں،اس کے لیے انھیں 15لاکھ 66ہزار سے زائد رقم ملے گی۔ اسد شفیق کیلیے 10 لاکھ روپے سے زائد روپے کا چیک تیار ہوگا، انھوں نے ایونٹ میں41رنز بنائے۔ جنید خان تو سب سے زیادہ فائدے میں رہے، ایونٹ میں واحد وکٹ لینے پر13لاکھ 41 ہزار روپے ان کے ہاتھ آئیں گے، اتنی ہی رقم بینک بیلنس کا حصہ بنانے والے شعیب ملک نے 3 میچز میں 25رنز اسکور کیے اور ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا جبکہ ناصر جمشید نے94رنز بنائے۔

طویل القامت محمد عرفان نے 4پلیئرز کو پویلین کی راہ دکھائی اوروہ اس کے بدلے11لاکھ 76ہزار روپے وصول کریں گے، یوں ہر بیٹسمین جاتے جاتے انھیں تقریباً3 لاکھ روپے دے گیا، کامران اکمل قد میں تو عرفان سے خاصے چھوٹے البتہ معاوضے میں برابری کی سطح پر ہیں،انھوں نے چیمپئنز ٹرافی میں23 رنز بنائے اور بطور وکٹ کیپر 5 شکار کیے،2میچز میں4رنز بنانے والے اوپنر عمران فرحت کو تقریباً10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، ان کا ایک رن پاکستان کوڈھائی لاکھ روپے کا پڑے گا۔کپتان مصباح الحق کو چیمپئنز ٹرافی میں شرکت پر تقریباً16 لاکھ روپے ملیں گے، البتہ انھوں نے 86.50 کی اوسط سے 173 رنز بنا کر خود کو اس معاوضے کا اہل بھی ثابت کیا۔
یاد رہے کہ ون ڈے میں اے کیٹیگری کے حامل پاکستانی کرکٹرکو فی میچ 3لاکھ30ہزار، بی 2لاکھ75ہزار اور سی کو2لاکھ 20ہزار روپے دیے جاتے ہیں، یومیہ 114 ڈالر الاؤنس اور لوگو منی کا حصہ الگ ہے،سینئر کنٹریکٹ کی اے کیٹیگری میں موجود کھلاڑی ماہانہ3لاکھ60 ہزار525 ، بی 2لاکھ50ہزار700اور سی کیٹیگری کے پلیئرز1لاکھ 43750روپے الگ سے حاصل کرتے ہیں۔ میچز میں عمدہ کارکردگی پرنقد انعامات اور ادارے کی تنخواہیں الگ ہیں، یوں ہر کھلاڑی کروڑوں روپے سالانہ وصول کرتا ہے، اس کے باوجود ان کا کھیل غیرمعیاری ہے، اسی وجہ سے ناقدین کی جانب سے اب کارکردگی کے حساب سے ادائیگی کا مطالبہ سامنے آگیا ہے۔