روشنی

Posted on June 24, 2013



ملک کے وزیر اعظم نواز شریف صاحب نے کہا ہے کہ ملک میں پیسا نہیں ہے اور عوام کو قربانی دینی ہے۔ میاں صاحب عوام پے کچھ تو رحم کرو کب تک قربانی مانگتے رہوگے، کیا عوام نے قربانی نہیں دی؟ ہر بار تو یہ بے چاری عوام تو اس ملک پے قربان ہو رہی ہے اور آپ سیاستدان تو صرف اقتدار کے لیے قربان ہوتے ہو۔ یہ بھی عجیب و غریب عوام ہے جو قربانی دیتی آرہی ہے لیکن کبھی حکمرانوں سے قربانی مانگی نہیں اگر ایک مرتبہ قربانی مانگ لیتے تو اب حکمرانوں میں دم ہی نہ ہوتا کہ قربانی عوام سے مانگتے۔ میرا تو جی چاہتا کی اس عوام کی سادگی پے صدقے جائوں!لیکن چھوڑو اس بات کو مٹی پائو، اپنا متھا نہ کھپائو، یہ عوام تو ابھی شعور کے پہلے مرحلے میں ہے آخر کار سمجھ ہی جائے گی۔ لیکن ہمارا کام تو حقیقت کو اجاگر کرنا ہے آگے وہ جانیں ان کا کام۔
ملکی خزانا بھرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے اگر نیت صاف تو مراد حاصل، لیکن اگر نیت ہی خراب ہو تو پھر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ ملک پاکستان سارا سونا ہے صرف اس کے لیے کسی جوھری کی ضرورت ہے لیکن جوھری تو فی الحال ملنا مشکل ہے تو عوام کو ہی ان حکمرانوں سے ڈنڈے کے زور پے نا صرف اپنے حقوق لینے ہونگے بلکہ ملکی خزانہ بھی بھرنا پڑے گا۔ عوام کو ملکی خزانی کی خود حفاظت کرنی پڑے گی۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی عوام کہاں سے آئے گی؟ ایسی عوام تو ھمارے پاس ہے ہی نہیں چلو ٹھیک ہے جب تک ایسی عوام پیدا ہو میں تو اپنا کام کروں یعنی عوام کو آگاہی دوں۔ یہ وطن عزیز تو کچھ ہی سالوں میں اشین ٹائیگر بن سکتا ہے صرف دو تین انقلابی کام کرنے پڑینگے چلو کوئی بھی کرے یہ موجودہ حکمران بھی کر سکتے ہیں اپنے تھوڑے سے سرمائے کی قربانی دیکر اس سے پہلے کے انکا سارا سرمایا ہی ملکی خزانے میں چلا جائے یا لوٹا جائے۔