خدا کا خوف کس انداز کا ہو ؟……Saqib Malik

Posted on June 24, 2013



ایک مولانا صاحب کا یو ٹیوب پر لیکچر چند منٹس کے لئے “بھگتنے” کا اتفاق ہوا .مولوی صاحب کا پورا زور اس نکتے پر تھا کہ وہ کسی طرح نعوز با الله خدا کو ظالم،جابر اور اذیت پسند قسم کا کوئی حکمران ثابت کر کے ہی دم لیں .وہ بار بار قیامت ،عذاب قبر اور موت کے فرشتے کی خوفناکی اور اذیت کو کسی “ہارر فلم” کی کہانی کی طرح بیان کر رہے تھے .یہ تو الله کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے رحمان و رحیم پروردگار نے ان مولانا صاحب کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں بخشا وگر نا تو یہ اپنے سامنے بیٹھے ناظرین و سامعین میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑتے اور سب کو دوزخ میں پھینکوا کر ہی سکھ کا سانس لیتے .خیر کسی قسم کے اختیار نہ ہونے کے باوجود بھی ہمارے نام نہاد علما اور اصل میں جہلا پھر بھی لوگوں میں کفر کے فتوے بانٹ کر کافی “روحانی ” تسکین محسوس کرتے ہیں .سوال یہ ہے کہ آخر ایسی سوچ اور انداز فکر کیوں پروان چڑھتا ہے ؟ کچھ لوگ خدا کی تمام صفات کو چھوڑ کر صرف خوف،جبر،عذاب،قہار اور جبار کو ہی کیوں نمایاں کرتے ہیں ؟؟

اصل میں یہ سارا کھیل اپنی پارسائی کے گھمنڈ کا ہے .ایک صوم و صلوہ کا پابند ،اور بظاھر با شریعت مذہبی انسان جب اپنے ارد گرد عام لوگوں کو گناہ کرتے دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک نفرت اور ان جیسے انسانوں کو اپنے سے کمتر اور گناہ گار سمجھنے کا احساس پرورش پانے لگتا ہے .وہ سوچتا ہے کہ میں اتنی محنت سے پابند شریعت ہوں ،روز مرہ کے فرائض با قاعدگی سے انجام دیتا ہوں تو یہ عام گناہ گار لوگ بھلا میرے آگے کیا بیچتے ہیں ؟؟یہ غرور و تکبر کی سوچ ہے یہ شیطان کا وار ہے .الله نے ہمارے اعمال کی گنتی نہیں کرنی .یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہئے .قیامت کے روز اعمال کا میزان ہو گا .اچھے اعمال کا وزن زیادہ ہوا تو پلڑا اس جانب جھک جائے گا اور برے اعمال کا اگر زیادہ ہوا تو وہ دوسری طرف جھک جائے گا .یعنی خلوص سے کیا گیا ایک عمل ہی شاید ایک انسان کی پوری عمر کے گناہوں پر بھاری پڑ جائے .یہ بھی الله کی ایک بہت بڑی رحمت ہے .لیکن ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا مذہبی طبقہ پھر بھی اپنی کم فہمی کی وجہ سے الله سے کسی دشمن والا ڈر خوف پیدا کرنے میں لگا رھتا ہے .ایک اور وجہ ایسے لوگوں کا اپنا مزاج ہی کچھ ایسا بن چکا ہوتا ہے کہ انہیں رحمت،مغفرت ،آسانی صرف اپنے لئے نظر آتی ہے باقی لوگوں کے لئے صرف عذاب ہی نگاہوں میں آتا ہے .

تو اب ہم کیا الله کا ڈر خوف دل سے نکال پھینکیں؟نہیں ایسا بھی نہیں کرنا ،ہمیں اعتدال کی راہ منتخب کرنی چاہے .ہم کیوں نہ محبت والے خوف و خشیت کو اپنا لیں ؟؟کیا ہم اپنی والدہ سے کسی ظالم جابر حکمران کی طرح خوف زدہ ہوتے ہیں؟یا صرف ان کی ناراضگی اور خفا ہو جانے کا ایک پیار بھرا ڈر ہوتا ہے ؟؟ کیا ہم اپنے کسی بھی پیارے یا محبوب کی سزا یا عذاب سے ڈرتے ہیں یا اس کی جدائی اور اسکی ناراضگی ہمیں بی چین کئے رکھتی ہے؟تو کیا ہمارا خدا جو ہم سے 70 ماؤں سے بھی زیادہ الفت رکھتا ہے وہ اس بات کا حقدار نہیں کہ اس سے بھی انسیت بھرا ،شکر بھرا ،اس کی قربت سے دوری بھرے خوف کو ترجیح دی جائے؟؟بجاے کے ہم اسکی سزاؤں سے خوف کھاتے پھیریں،اسکے عذاب سے کانپتے رہیں ،کیوں نہ اسکی محبت،رحمت،قربت،الفت،ساتھ اور وابستگی سے جدائی کے خوف سے کانپیں ؟؟ایسا خوف ہمیں محتاط کر دے گا خدا کی مخالفت میں چلنے سے ،ہمارے اندر اس کے احکامات سے رو گردانی پر اندرونی بے چینی پیدا ہو گی،انداز فکر مثبت ہوتا چلا جائے گا .صبر و شکر کی کیفیات بڑھتی چلی جاییں گی اور پروردگار کی قربت ہمیں شیطان کی راہ سے الٹ سمت کھینچے گی .جبکہ ہمارا مروجہ ،اور رائج الوقت “خوف صاحب ” ہمارے اندر بے یقینی،بے اعتمادی اور بد گمانی پیدا کر رہا ہے .یہ ہمیں شک و وسوسے کی طرف دھکیل رہا ہے یہ ہمیں کسی ڈھلوان پر پھسلتے پتھر کی طرح روشنی سے اندھیرے کی طرف لڑھکا رکھا ہے .محبت والے خدا سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں .