8643940 Commentshttp%3A%2F%2Fwww.zemtv.com%2F2012%2F07%2F20%2Fseedhi-baat-is-pakistan-going-towards-anarchy-20th-july-2012%2FSeedhi+Baat+%28Is+Pakistan+Going+Towards+Anarchy%3F%29+20th+July+20122012-07-20+16%3A08%3A36farrukhrafayhttp%3A%2F%2Fwww.zemtv.com%2F%3Fp%3D86439Leave your comment
Please stop bashing each other. MQM, PPP, PTI, ANP… no one is less Pakistani. Muhajirs have worked very hard to build Pakistan. Likewise sindis, pashtun, balochis and panjabis have contributed as well.
We have so many external enemies, who are willing to destroy us.
Please demonstrate unity, and lets get together to make us stronger in the blessed month of Ramadan.
If no mother land, then no altaf hussain, no nawaz sharif, and no zardari or imran will be there.
Please try to understand and respect everyone’s view point.
In the month of Ramadan, lets join hands and prey for SALAMTI of our beloved motherland.
salam dekhain seedhi baat to yeh hai k kiya mqm ghar baith jai bhai itni bari party hai hissa zaroor lena hai jab k koi bhi karkardage wali ministry in k pas nahi hai hukumat pe rah k bhi yeh mukhalfat karte hain baat apni kam se kam record karte hain abtak 4 saal mey sab sey ziyada awaz uthane wali party mqm hai jo k 88 persent hai baqi sab neche mqm sey bogs rakhne wale kiya baat karte hain pehle to insan banein musalman banna to door ki baat hai mahjir agar pakistan aye bhi to kis waje sey aye aur us waqt ke muslims ka kiya tehreek thi yeh maloom hona chahiye hamarey nabi pbuh ne mahajiro ke sath kiya salook kiya tha ya hukum diya tha islam per bhai amal karlo ya khul kar koi alan kardo tum logon ki namaz roza kis kam ka jab tum log apne akhri rasol pbuh k against karte ho bolte ho .
agencies,and establishment tout never want to give power to genuine elected representative in small provinces,have you felt CM sind,CM hoti,CM raesani,are as active as CM punjab.because in punjab agencies can not make filthy manipulation.but in small provinces establishment fix those people who does not have mandate.as far as concern,karachi 95 % govt functionaries they do not belong to karachi,specially in police. Also keep remember CJ appreciate middle class elected representative work in karachi,
Yes all should be killed and only Imran Khan and Har*ami Jammati terrorists should be respected. You jahil ganwar paindoo how the fu*ck did you manage to buy a computer and more surprisingly how you manged to operate it is beyond me. And by the way what kind of fuc*king name is Gulrang? are you a faggot?
MQM must act like Ghunda and badmash to all JAHIL, BAKWAS and Faggot type people like you who must be disciplined time to time, because you are all considered LATON KAY BHOOT jo Baton Say Nahi Mantay.
However, MQM is the most polite, nice and well civilized group of people when it comes to deal with sensible and educated society of people, regardless of their race, language, or ethnicity. MQM is fully equipped and capable of using these tools accordingly.
میں کراچی میں رھتا ھوں اور اردو بولتا ھوں میرے کراچی کو کس طرح برباد کردیا اس کالم کو ضرور پڑھیں
Altaf Hussain adam khor insan
کراچی ….کچھ بنیادی حقائق
-کراچی میں نظریاتی‘ تخلیقی اور ذہنی اعتبارسے 100 ڈائنا سوروں سے زیادہ توانائی تھی۔ لیکن کراچی کی نظریاتی‘ تخلیقی اور ذہنی توانائی کو تشدد اور قتل وغارت گری کی اندھی قوت میں تبدیل کردیاگیا۔ کراچی ہراعتبارسے ایک نوآبادشہرتھا لیکن اس کے باوجود اس نے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں برپاکیں۔ اس نے جنرل ایوب کی آمریت کو چیلنج کیا۔ اس نے بھٹو کی آمریت کے خلاف شاندار مزاحمت کی۔ اس نے جنرل ضیاءالحق کی پائیدارآمریت کو خوف میںمبتلا کیا۔ کراچی کبھی مولانا ایوب دہلوی کا شہر تھا۔ مولانا ایوب دہلوی عصرحاضرکے رازی تھے۔ وہ فلسفے اور علم کلام کے موضوعات پرفی البدیہہ تقریرکرتے تو ان کی تقریر تین تین چارچارگھنٹے جاری رہتی اور مولانا فکر کی پوری تاریخ پرچھائے نظرآتے۔ مولانا قرآن مجید کی تفسیرکرتے تو ایسا لگتا کہ مولانا کو تصفیہ کی پوری روایت ازبر ہے۔ کراچی محمدحسین عسکری کا شہرتھا جو اردو کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ ان کی سطح کا علم نایاب تھا۔ انہوں نے مغربی ادب پر بعض ایسے مضامین لکھے ہیں کہ خود مغرب کی تنقید میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا تخلیقی جوہراقبال کی سطح کا تھا۔ عسکری صاحب جب تک زندہ رہے اردو ادب کا مرکزی حوالہ تھے لیکن انتقال کے بعد عسکری کی اہمیت کم ہونے کے بجائے اوربڑھ گئی۔ کراچی کبھی سلیم احمدکا شہرتھا۔عسکری اور سلیم احمدکی تنقیدکو ایک جگہ جمع کرلیاجائے تو اس کی اہمیت یہ ہے کہ عسکری اور سلیم احمد کی تنقید پڑھے بغیرآپ اردو ادب کے بارے میںکم ازکم 90 فیصد بنیادی باتیں نہیں جان سکتے۔ لیکن سلیم احمد صرف نقاد نہیں تھے وہ شاعربھی تھے اور جدید اردوتجزیہ میں ان کی شاعری جیسا تنوع نایاب ہے۔ سلیم احمد کی ایک اہمیت یہ تھی کہ وہ کراچی میں ادیبوں اور شاعروں کا محور تھے۔ کراچی میں جتنی ادبی اورعلمی بحثیں چلتی تھیں سلیم احمد سے چلتی تھیں۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے پونے دوسو ڈرامے لکھے مگر ان کی بے نیازی کا عالم یہ تھا کہ وہ ان ڈراموں کا ذکر بھی نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ انہیں ”کمرشل سرگرمی“ سمجھتے تھے۔ کراچی عزیزحامد مدنی کا شہر تھا جن کی غزل اور جن کی نظم فیض احمد فیض کی غزل اور نظم سے کم ازکم سوگنا بڑی ہے۔ اس کے باوجود وہ گوشہ نشین آدمی تھے۔ وہ شہرت سے اس طرح بھاگتے جیسے شہرت کوئی سزا ہو۔ ان کی باطن کی نفاست ان کے چہرے سے ظاہرہوتی تھی۔ ان کی انسانیت اتنی بڑی تھی کہ انہوں نے اپنے بھائی کے بچوں کو پالنے کے لیے تمام عمرشادی نہیں کی۔ کراچی قمرجمیل کا شہرتھا۔ ان کے لیے ادب ایک طرز حیات تھا۔ قمرجمیل جدیدیت کے علمبردارتھے۔ ان کا ہرلمحہ مغربی دانشوروں کے ساتھ بسر ہوتا۔ وہ مغرب کے مفکرین اور دانشوروں کو اس طرح کوٹ کرتے تھے جیسے وہ انہیں بچپن سے جانتے ہیں۔ وہ جدید اردو ادب میں نثری نظم کے امام تھے اور پوری اردو دنیا انہیں اس حیثیت میں جانتی تھی ۔ اس تناظرمیں دیکھاجائے تو کراچی نظریات کا شہرتھا۔ تخلیقی روایات کا شہرتھا۔ علمی رجحانات کا شہرتھا۔ امکانات کا شہرتھا۔ لیکن ان تمام چیزوں کی توانائی کو تخریب کی توانائی میں بدل دیا گیا اور اس کے آغاز کا سہرا جنرل ضیاءالحق کے سرہے۔ جنہوں نے ایم کیو ایم تخلیق کی۔ کراچی کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ کراچی کی تخریب بیشترصورتوں میں ”کنٹرولڈ تخریب“ ہے۔ کراچی کی قتل وغارت گری مضبوط قتل وغارت گری ہے۔ آپ نے دیکھا جولائی کے پہلے ہفتے میں کراچی چار دن تک قتل گاہ بنارہا۔ چار دن میں سوسے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس عرصے میں نہ کہیں صوبائی حکومت موجود تھی۔ نہ وفاقی حکومت۔ نہ کہیں پولیس کانام ونشان تھا نہ کہیں رینجرزنظرآرہے تھے۔ لیکن پھر اچانک متاثرہ علاقوں میں رینجرزنمودارہوئے اور صرف ایک دن میں شہر کے حالات 90 فیصد معمول پرآگئے۔ یہ اپنی طرح کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ کراچی میں جنرل ضیاءالحق کے زمانے سے آج تک یہی ہورہاہے۔ کراچی میں دہشت گردی کی سب سے بڑی واردات جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں قصبہ کالونی میں ہوئی۔ اس واردات میں دہشت گرد 6 گھنٹے تک گھروں میں گھس کر لوگوں کو مارتے رہے اور انہوں نے دوسو ڈھائی سو لوگوں کو مارڈالا۔ لیکن سندھ کے وزیر اعلیٰ سید غوث علی شاہ نے 6 گھنٹے تک قانون نافذکرنے والے اداروں کو قصبہ کالونی میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جب چھ گھنٹے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے قصبہ کالونی میں داخل ہوئے تو وہاں نامعلوم دہشت گردوں کانام ونشان نہیں تھا۔ لیکن اس بنیاد پر شہرمیں مہاجر‘پٹھان فساد شروع ہوگیا جس کا کوئی منطقی جواز ہی نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کراچی میں پٹھان ڈرائیورتھے۔ کنڈیکٹرتھے۔ مزدور تھے۔ موچی تھے‘ ان کے مقابلے پر مہاجربلوکالر اور وہائٹ کالر جاب کرنے والے لوگ تھے۔ وہ نجی اداروں میں بڑے بڑے مناصب پر فائز تھے۔ مطلب یہ ہے کہ شہرمیں مہاجروں اورپٹھانوں کے مفادات کا کوئی تصادم ہی نہیں تھا۔ کراچی کی ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ کراچی کو پاکستان کے کسی حکمران نے اپنا نہیں سمجھا۔ اسے کبھی OWN نہیں کیا۔ پاکستان قائم ہوا تھا تو کراچی ملک کا دارالحکومت تھا۔ لیکن کراچی کے مزاحمتی کردارنے جنرل ایوب کو اتنا زچ کیاکہ انہوں نے کراچی کو اس کی مرکزیت ہی سے محروم کردیا۔ حالانکہ کراچی میں یہ ملک کی واحد بندرگاہ تھی۔ کراچی میں ملک کا سب سے معروف بین الاقوامی ہوائی اڈہ تھا۔ کراچی محصولات کا بڑا حصہ مرکز کو کماکردیتا تھا۔ کراچی آبادی کے اعتبارسے سب سے بڑا شہر تھا۔ کراچی ملک کی آبادی کی نمائندگی کے اعتبارسے سب سے زیادہ نمائندہ شہر تھا۔ بھٹو صاحب قائد عوام تھے ۔ قائد اشیاءتھے مگر وہ کبھی بھی قائد کراچی نہ بن سکے۔ پاکستان کی تاریخ میں اہلیت ؟میرٹ کا سب سے بڑا قتل عام انہی کے دورمیں ہوا۔ انہوں نے کوٹہ سسٹم ایجاد کیا اور اسے ایک تلوارکی طرح کراچی کے سینے میں گھونپ دیا۔ انہوں نے صوبے میں اردو سندھی تنازعہ برپاکیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو کے خلاف سب سے شدید مزاحمت کراچی میں ہوئی۔ جنرل ضیاءالحق کی آمریت استعداد تھی اور اسے کسی جانب سے کوئی خطرہ نہ تھا۔ لیکن جماعت اسلامی کراچی میں ان کے سب سے زیادہ ناقد موجود تھے۔ چنانچہ انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کی سیاسی قوت کو توڑنے کے لیے ایم کیو ایم تخلیق کی ۔ جماعت اسلامی کے درویش صفت میئرافغانی کی بلدیہ کو زیروزیرکیا۔انہوں نے شہرمیں لسانی منافرت کا جو بیج بویا تھا وہ ایک ایک کرکے تمام برگ وبارلایا ۔ لسانی فسادات کی ابتداءمہاجرپٹھان فساد سے ہوئی تھی مگر پھر شہرمیں سندھی مہاجرفساد ہوا۔ پھر مہاجرپنجابی فساد نے شہرکو اپنی لپیٹ میں لیا یہاں تک کہ نوبت مہاجرفساد تک پہنچی۔ ایم کیو ایم برپا ہوئی تو الطاف حسین کہاکرتے تھے کہ ہم کارنرمیٹنگ کرتے ہیں اور وہ جلسہ بن جاتاہے اور ہمارے سیاسی حریف جلسہ کرتے ہیں اور وہ کارنرمیٹنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ الطاف حسین غلط نہیں کہتے تھے۔ یہ ایک امر واقعہ تھا اور اس امرواقعہ سے یہ منظر طلوع ہوا کہ ایم کیو ایم کو بلدیہ‘ صوبے اور وفاق کی سطح پر کراچی کو100فیصد نمائندگی حاصل ہوئی۔ اس نمائندگی کا تقاضا یہ تھاکہ ایم کیو ایم پورے کراچی کو owm کرتی ۔مگر ایم کیو ایم کراچی کی تمام برادریوں کو کیا خود تمام مہاجروں کو بھی owm نہ کرسکی۔ چنانچہ وہ جماعت اسلامی کے مہاجروں سے لڑی۔ پیپلزپارٹی کے مہاجروں سے متصادم ہوئی۔ اس نے جمعیت علمائے پاکستان کے مہاجروں سے پنجہ آزمائی کی۔ وہ آج بھی سنی تحریک اور ایم کیو ایم حقیقی کے مہاجروں کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے یہ تمام جنگیں بیشتر صورتوں میں اس وقت لڑی جب اسے اپنے حریفوں سے کسی سیاسی مزاحمت کا سامنا نہیں تھا۔ کراچی کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ کراچی کی صورتحال بشریٰ زیدی کیس سے آج تک ذرائع ابلاغ میں صرف ”رپورٹ“ ہورہی ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ نے یہ اس کا تجزیہ اور صورتحال کی ذمہ داری کا تعین کہیں موجود نہیں ۔ ملک میں خودکش دھماکے ہوتے ہیں اور ذرائع ابلاغ بتاتے ہیں کہ یہ دھماکے طالبان نے کیے ہیں۔ بلوچستان میں لاشیں گرتی ہیں اور ذرائع ابلاغ اعلان کرتے ہیں کہ ان کے ذمہ دار علیحدگی پسند یا قانون نافذکرنے والے ادارے ہیں۔ لیکن کراچی میں ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں اور کوئی نہیں بتاتا کہ اس کا ذمہ دارکون ہے۔؟ اس کے باوجود بھی ذرائع ابلاغ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں۔ ہم سچ بولتے ہیں۔ ہم ملک کی ایک بڑی قوت ہیں۔
yahan par yeh tasur diya gaya hey ki karach shuroo seyi tha hi urdu bolney walon ka, jaisey woh yahan sadiyoon sey abaad they, arey bhai aap logon ki nazool pakistan ban ney key baad huwa hey.
MQM is the only Strongest, United, and, EDUCATED party of Pakistan. PTI supporters better not mess with MQM, your leader Imran Khan already learned a big time lesson of confronting MQM in the past.
I suggest all PTI losers to organize musical shows and concerts in MULTAN now, and forget politics.
Dhage Punjabio Karachi se dafaaaaaa hojao werna jese Bangalion ne 90,000 se hathiyar rakhwae the ab 1,90,000 punjabi hath jor ker hthyar dalain ge aur tum log dhoti utha ker nachte rehna chane ke khait mai…………………
-کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ نے کے ای ایس سی ریجن ون کے انڈسٹریل زون پر قبضہ کرکے بھتہ وصولی طرز پرصنعتی صارفین سے اربوں روپے ہتھیانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ڈھائی ارب روپے کی آمدن والے سائٹ زون میں 23تنظیمی کارکنان کوبھرتی کرکے انتظامات سیکٹر طرز پر چلائے جارہے ہیں جبکہ وی آئی بی سی اورنگی ون میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بلنگ کی وصولی کے لیے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ریجن ون کا حدود اربع انتہائی وسیع ہے جس میں سندھ اور بلوچستان کے صنعتی دل سائٹ اور حب سمیت لیاری، بلدیہ، اورنگی ،اوتھل سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اس ریجن کے R-1زون کو متحدہ نے مکمل طورپر ٹیک اوور کررکھا ہے ،جہاں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ارشد افتخار ، ڈی جی ایم عدنان افضل ، منیجر ندیم ، منیجر ذیشان صدیقی اور ڈیٹا کنٹرولر آفیسر عامر نے تمام انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ صنعت کاروں سے وصولی کے لیے 23کارکنان کو بھرتی کیا گیا ہے ، جنہوں نے صنعت کاروں سے وصولی کے لیے اپنی من مانیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔دوسری جانب “وی آئی بی سی ـــ” اورنگی زون کے علاقوں میں قصبہ، میٹروویل، فرنٹیرکالونی ، پٹھان کالونی اور منگھو پیر شامل ہے ، جہاں 90فیصد پختون آبادی ہے، ان علاقوں میں بلوں کی وصولی کے لیے متحدہ اور پیپلز پارٹی نے گٹھ جوڑ کرلیاہے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ممبر سندھ اسمبلی منظر امام نے VIBC ون اورنگی کا ٹھیکہ لینے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کررکھی ہے، ان علاقوں سے وصولی کے لیے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ضلع غربی کے سابق صدر بابو عبدالخالق مرزا سے 30فیصد پر معاملات طے کرلیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابو عبدالخالق نے کے ای ایس سی کے سابق GMایس ایم ادریس کو اس حوالے سے اپنا ایڈوائزر بنایا ہے ۔یاد رہے کہ ایس ایم ادریس نے بطور جی ایم 95تا 96کے ادوار میں از خود میٹر ریڈنگ کا ٹھیکہ نجی ادارے کے سپر د کرکے KESCکو نقصان پہنچایا اور کروڑوں روپے کما ئے تھے
Altaf Hussain adam khor insan
IF YOU HAVE THE THESE QUALITIES PLEASE PLEASE JOIN MQM (1000 VACANCIES AVAILABLE)
IF YOU ARE THE BIGGEST bhatta khor
IF YOU ARE THE BIGGEST Target Killer
IF YOU ARE THE BIGGEST master of bori band lash
IF YOU ARE THE BIGGEST LIAR.
IF YOU ARE THE BIGGEST THIEF.
IF YOU ARE THE BIGGEST HYPO-CRATE.
IF YOU ARE THE BIGGEST BADMASH.
IF YOU ARE THE BIGGEST MAFIA.
IF YOU ARE THE BIGGEST BLOOD SUCKERS, CRIMINAL MINDED, AND ARROGANT.
Be realistic ! If U have any proof about MQM`s extortion than go to supreme court. Without proof U have no right to blaime any of them. U can see program Face 2 Face interview of Hassan Nisar. What is he saying about MQM ? O.K ??? In PTI, there is no one good leader except Imran Khan. So, first make PTI unbais party than say anything to others. Understand ???
We don't have to give any explanation to these brainless and powerless Anti-MQM idiots. They can try to shake the image of MQM, but they can never touch our strong foundation.
کراچی میں پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں بارہ مئی کے واقعات کے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینکڑوں کارکن اور ہمدرد عدالت کے اندر اور باہر جمع ہوگئے جس کے بعد عدالت نے سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی۔ سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔
پیر کی صبح سے ہی ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی سمیت سینکڑوں کارکن سندھ ہائی کورٹ کے اندر اور باہر جمع ہوگئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر عدالت کا احاطہ اور مرکزی دروازہ گھیراؤ کا منظر پیش کر رہا تھا۔
مجمع نے عدالت کے احاطے میں الطاف حسین کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔
بعض افراد نے کمرہ عدالت کے دروازے پر قبضہ کرلیا جو آنے والے لوگوں کو شناخت کر کے اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے۔ ایک صحافی نے بتایا کہ جب وہ سماعت کی رپورٹنگ کے لیے عدالت میں داخل ہو رہے تھے تو انہیں ان افراد نے روکا اور ان کی شناخت معلوم کی جس پر وہ یہ کہہ کر کہ وہ عدالت میں ہی ملازمت کرتے ہیں کمرہ عدالت میں داخل ہوسکے۔
اس صورتحال کے بعد بارہ مئی کے واقعات سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ میں شامل ججز کمرہ عدالت میں نہیں آئے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے فریقین کے وکلاء کو اپنے چیمبر میں بلایا اور درخواستوں کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ وہ دباؤ کے حالات میں سماعت کرنے سے قاصر ہے۔
سات رکنی بینچ نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس صبیح الدین کو عدالت کی سکیورٹی کے سلسلے میں انتظامی حکم جاری کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔
کمرہ عدالت کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی کنور خالد یونس نے کہا کہ ’ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ عام آدمی کو ہائی کورٹ میں عدالت میں آنے سے روکا جائے اور ہم عام آدمی ہیں عام ورکر کے طور پر آئے ہیں تو اس پر کوئی قانونی قدغن نہیں ہے۔‘
Bari simple aur seedhi si baat hai MQM ne mulak ko barbad kerney ka tahaya kia hua hai. Banad marna tu un ke liey ker makora manrney ke baraber hai, ab khair se PPP bhi un ke mal gaie hai ab dekho kia hota hai ab chor aur qatil aur bhatta khori ka champion dono bhia ban gay ALLAH khair kery.
o muhajir pakistan me bin bulae mehman hain jo log pakistan ki tareekh se waqif hain wo jante hain ke pakistan ki threek ziyada tar india ke musalmano ne chalaee thee kyun ke wo log hinduon ke zulum ka phela nishana the jin sububon me ab pakistan hai yahan aisa koi masala nahin tha to jin logon ne ye thereek chali to un hi logon ko india se bhag ker jan bachna pari, ab wo pakistan agae ye samaj ker ke hum aik muslman mulk me ja rahe hain aur ye ke ham ne hindostan ke baqi musalmano ko hindu ki ghulami se bacha leya . Yehi un logon ki sub se bari bhool thi pakistan me jo log rehte the unko hinduon aur sikhon se koi problem nahin thee aur na aaj hai. ye to sirf muhajir bewaqoof ye samjh rahe the aur hain ke yahan ke log bhi hinduon ke saath nahin rahna chate. ye amman ki aasha is baat ka khula suboot hai ke yahan ke log to ab bhi betaab hain hindostan ke charno me baitne ke leye. Ayub Khan ne to confederation ke tajweez rakhi thee jo Nehru ne manzoor nahin ki.ab reh gae ye ahmaq mahajir to in ki hasiyat pakistan me third class me aati hai punjab ka isaai bhanggi bhi ziyada huquq rakhta hai kyun ke uske pas punjab ka domicile hai. ab hum mahjiron ke pass aik hi rasta hai ke kisi aur mulk me chale jaen ya phir samandar me ye un ki marzi.mane to phela rasta ikhtiyar kar leya aur bhat khush hun pakistan ki lannat se to hamesha hamesha ke leye chutkara mil gaya
1. Party of common people, representative from grass roots.
2. Given one of the best Mayors in the world.
3. Only party with no corruption case ever.
4. Only party with no bullets proof owned vehicles or millions of hectares of land.
5. Only party having young, educated, talented, visionary workers/leaders who came from out from common people.
6. Only party having no LOTA history.
7. Only party who openly challenged agencies, establishment and Feudalism which is rotting up Pakistan.
8. Only party who has biggest network of social welfare Khidmat e Khalq..
9. Only party who has the best attendance in senate and assemblies and never caught sleeping.
10. Only party in Pakistan who has been subjected to state terrorism, blamed for Jinnah pur, but history proved that all was fabricated.
11. Only party whose leader did not take bribe to topple PPP led government as proven now in Asghar khan case!!!
12. Only party whose examples is being given by CJP is highest court as representative of common people and Acknowledged Mustafa Kamal has set an example for all.
13. Only party which do not have history of Family politics.
14. Only party who really do their homework and make policies like shadow Budget, NRO case, petroleum prices, de weaponization bills, province issues, 18th amendments etc.
15. Only political party whose followers are real Pakistanis who infarct created and scarified for Pakistan not sleeping peacefully or just listening Radio when Pakistan was created.
16. Only party whose elected leaders still lives in rented apartments, drive motorcycles, whose workers are approachable anywhere any time.
17. Only party who has vision, policy and far sightedness as in case of Talibinization of Karachi , SWAT deal and its failure etc.
18. First party who talk about revolution which was ridiculed and now being followed.
19. Only party which can gather millions of people in jalsa with gracefull discipline.
20. Only party who is most hatred in Pakistan because of its blunt vocalizations of TRUTH.
21. Only party whose workers are being killed, blamed, subjected to torture, denied to justice but never talked about breaking of Pakistan unlike Sindhis or Baloch Nationalists whose demons are made heroes by racism struck majority of Pakistan.
“The MQM is the softest target – even if there were a tsunami, the MQM will be blamed for it,” MQM always been cleared of any allegation in a court of law. in context of the “derogatory statements” being made during the past few days by people like Ayaz Palijo who have “no elected representation” even one couselor seat he can’t win.
paan ki pichkariyon key baad masoom logon key khoon sey road aur galiyoon ko laal karney walo, yeh propaganda karna band kardo ki Pakistan tum logon ki waja sey hey, tum log to chance pey dance karney waley log ho, jinhon ney yahan aa kar jhootey claim dakhil kiye aur yahan tak key thook key hisaab sey apni zaatein bhi tabdeel kardein, badqismati sey tareekh ko masakh kar diya gaya hey, tum logon par agar seriously research kar di jaye to moon chupatey phiro gey.
-تعصب کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسے ایک ”قوت“ سمجھ کر بروئے کار لایا جاتا ہے لیکن تعصب افراد‘ گروہوں اور قوموں کی سب سے بڑی ”کمزوری“ بن جاتا ہے۔ تعصب کو اکثر ایک ”اہلیت“ باورکرایا جاتا ہے اور ایک خاص دائرے کے اندر جس شخص میں تعصب نہیں ہوتا اسے ”نااہل“ ثابت کیا جاتا ہے لیکن اپنے آخری تجزیے اور اپنے آخری نتائج میں خود سب سے بڑی نااہلیت بن کر سامنے آتا ہے۔ تعصب اپنی شدت سے پہچانا جاتا ہے لیکن تعصب کی شدت محبت کی نہیں نفرت کی شدت ہوتی ہے۔ اور نفرت کی آگ سب سے زیادہ نفرت کرنے والے کو جلاتی ہے۔ لیکن تعصب کے بارے میں حقائق کو کم ہی سمجھا گیا ہے۔ بالخصوص پاکستان میں ان حقائق کا فہم کمیاب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہرطرف تعصب کے ناگ پھنکارتے پھرتے ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں تعصبات کی سیاست اور تعصبات کی سماجیات نے کیا دیا ہی؟۔پاکستان میں پیپلزپارٹی کے دوچہرے ہیں۔ ملک کی سطح پر پیپلزپارٹی خود کو وفاقی جماعت کہتی ہے لیکن دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی خود کو سندھی قوم پرست کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے دیہی سندھ کی کیا خدمت کی ہے۔؟سندھ میں کوٹہ سسٹم جنرل یحییٰ کے حوالے سے شروع ہوا لیکن اس نظام کو پیپلزپارٹی نے گود لے لیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم پیپلزپارٹی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے اور پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ اس نے کوٹہ سسٹم کے ذریعے دیہی سندھ کی بڑی خدمت کی ہے۔ لیکن یہ ایک سرسری اور سطحی خیال ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم سے بڑی سازش دیہی سندھ کے لیے آج تک ایجاد نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی سندھ کی نئی نسلوں کے شعور‘ علم اور اہلیت وصلاحیت کا سب سے بڑا قاتل بن گیا ہے۔ بلاشبہ اس نظام کے ذریعے دیہی سندھ کے چند ہزار یا چند لاکھ لوگوں کو چھوٹی بڑی ملازمتیں فراہم ہوگئیں لیکن کوٹہ سسٹم نے دیہی سندھ کے نوجوانوں میں اس احساس کو فروغ دیاکہ کوٹہ سسٹم موجود ہے چنانچہ انہیں تعلیم اور ملازمت کے لیے محنت کرنے اور اہلیت پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس سے سندھ کے نوجوانوں میں تعلیم سے گہری عدم دلچسپی پیدا ہوئی۔ ان میں محنت سے جی چرانے کے رجحان کو فروغ حاصل ہوا۔ انہیں نقل اور سفارش پر انحصار کے امراض نے آگھیرا۔ چنانچہ ان کے لیے کوٹہ سسٹم ”ٹوٹا سسٹم“ یعنی گھاٹے کا نظام بن کر رہ گیا۔ اس گھاٹے کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 21 ویں صدی کے آتے آتے سرکاری ملازمتوں کا دائرہ سکڑنے لگا اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھنے لگے۔ لیکن نجی شعبے میں ملازمت کوٹہ سسٹم سے نہیں اہلیت اور صلاحیت سے ملتی ہے اور کوٹہ سسٹم نے دیہی سندھ کے نوجوانوں کی اہلیت وصلاحیت کو چاٹ لیا ہے اور وہ ملک اور بین الاقوامی سطح پر مقابلے کی نسبتاً کم استعداد رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی سندھ کی طاقت ہے یا کمزوری؟ یہ نظام دیہی سندھ کی خدمت ہے یا اس کے خلاف سازش؟۔پیپلزپارٹی اس بات پر فخر کرتی ہے کہ دیہی سندھ کے ووٹوں پر صرف اس کی اجارہ داری ہے۔ سندھ کے لوگوں کی سیاسی رائے صرف اس کے لیے وقف ہے۔ بلاشبہ پیپلزپارٹی بھٹو صاحب کے زمانے سے آج تک دیہی سندھ کی سیاسی فضا پر چھائی ہوئی ہے۔ لیکن یہ سیاسی صورتحال خود دیہی سندھ کے عوام کے خلاف ایک بڑی زیادتی ہے۔ اس لیے کہ پیپلزپارٹی نے دیہی سندھ کے لوگوں کو ”سیاسی متبادل“ کے خیال سے محروم کردیا ہے۔ یہ بالکل ایسی صورتحال ہے جیسے کسی شخص کو بھرے بازار میں صرف ایک دکان سے سودا لینے پہ مجبور کردیا جائے خواہ اس دکان کی چیزیں غیرمعیاری اور دوسری دکانوں کے مقابلے پر زیادہ مہنگی ہی کیوں نہ ہوں۔ تجزیہ کیا جائے تو جمہوری سیاست متبادل کے خیال پرکھڑی ہوئی ہے اور جمہوری نظام میں ”سیاسی ہاریوں“ کا کوئی تصور موجود نہیں۔ لیکن پیپلزپارٹی نے دیہی سندھ میں ایسی نفسیاتی اور جذباتی فضا پیدا کی ہوئی ہے کہ کوئی جماعت دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کا متبادل بن کر ابھر ہی نہیں سکتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ دیہی سندھ کے عوام 21 ویں صدی میں بھی سیاسی متبادل‘ سیاسی تنوع اور شعوری انتخاب جیسے تصورات سے یکسر بیگانہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ دیہی سندھ کی خدمت ہے‘ یا اس کے خلاف سازش؟۔پیپلزپارٹی 1970ءسے سندھ کے سیاسی منظر پر چھائی ہوئی ہے لیکن سندھ پر پیپلزپارٹی کے چالیس سالہ غلبے کے باوجود سندھ کی تعلیمی فضا اور معاشی حالات میں کوئی بنیادی تغیر نہیں آیا۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق دیہی سندھ تعلیم کے شعبے میں سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ معاشی اعتبار سے دیہی سندھ صرف بلوچستان سے بہتر ہے۔ایم کیو ایم کے ظہور سے پہلے مہاجروں کا مزاج آفاقی تھا۔ بین الاقوامی تھا۔ قومی تھا۔ وہ نام نہاد زمین کے بیٹے نہیں تھے لیکن ان کی تاریخ زمین کے بیٹوں سے بڑھ کر تھی۔ وہ زمین کی محبت سے ایک کروڑ گنا بڑی محبت کے علمبردار تھے۔ ان کا شعور نظریاتی تھا۔ وہ اسلام کی قوت متحرکہ سے متحرک ہونے والا گروہ تھے اور وہ تمام تعصبات سے بالاتر تھے۔ لیکن ایم کیو ایم کی سیاست نے انہیں کراچی اور حیدرآباد کے کنووں میں قید کردیا۔ لسانی سیاست نے مہاجروں کے پورے ماضی کی نفی کردی ایک وقت تھا کہ کراچی علم اور تہذیب کی بنیاد پر پہچانا جاتا تھا اور ایک وقت یہ ہے کہ وہ لاشوں اور بھتہ خوری کی وجہ سے بدنام ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاست اس وعدے سے شروع ہوئی تھی کہ کوٹہ سسٹم ختم کردیا جائے گا لیکن ایم کیو ایم کی سو فیصد سیاسی کامیابی کے باوجود کوٹہ سسٹم اپنی جگہ موجود ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاست کا ایک محور یہ تھا کہ بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔ ایم کیو ایم اب اس بات کا ذکر بھی نہیںکرتی۔ ایم کیو ایم کا وعدہ تھا کہ وہ مہاجر ثقافت کو فروغ دے گی لیکن اب تک لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مہاجر ثقافت کس شے کا نام ہی؟ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کراچی اور حیدرآباد میں لسانی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان مہاجروں کو ہوا ہے۔اے این پی خود کو پختون قوم پرست کہتی ہے۔ لیکن اس پختون جماعت نے پختونوں کی جو خدمت کی ہے وہ بھی تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ صوبہ سرحد کے پختون جب 1947ءمیں بھارت سے آزادی کا اعلان کررہے تھے تو اے این پی کے ”گاڈ فادر“ عبدالغفار خان بھارت کے ساتھ کھڑے تھے۔ 1980ءکی دہائی میں جب افغانستان اور سرحد کے پختون سوویت یونین کے خلاف جہاد کررہے تھے تو اسے این پی روس کی اتحادی بن کر کھڑی تھی اور اب جبکہ افغانستان اور سرحد کے پختون دس سال سے امریکا کے خلاف داد شجاعت دے رہے ہیں تو اے این پی امریکا کی گود میں بیٹھی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی پختونوں کی خدمت ہی؟ اس وقت اے این پی سرحد میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے لیکن کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ اس نے بدعنوانی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں جس کی وجہ سے اے این پی اب شاید کبھی بھی صوبہ سرحد کے اقتدار پر قابض نہیں ہوسکے گی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا بدعنوانی کے ریکارڈ توڑنا ہی پختونوں کے حقوق کی جدوجہد ہے۔یہ حقائق بتاتے ہیں کہ تعصبات اور ان کی سیاست نے ملک وقوم کو ہی نہیں تعصبات کے علمبردار گروہوں کو بھی تباہی وبربادی اور ناکامی ونامرادی کے سوا کچھ نہیں دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تعصبات کا سب سے زیادہ نقصان انہی لوگوںکو ہوا جن کے حوالے سے تعصبات کو ہوا دی گئی۔
i think these comments are very much matching to your situation, so please when ever you pass the comments first make sure that those words are meeting with the reality and fact, please avoid biased propaganda. World is so advanced that English is not much rare language, If English is the gauge for measuring the eligibility then i challenge you to go in interior and you will find many peoples who can speak English of your level. And by the way what is interior and exterior, you racist minded peoples forgot your past, now you are insulting and killing to the sons of soil, history tells us that from very first day after the migration you racist started conspiracies against the Sindh and the peoples of Sindh, first example is Karachi University which was actually Sindh University at that time, but look the patience of Sindhi peoples they stitched their lips and even didnt talk a single word and now you are reached at that level that you are asking to tear the Sindh into two parts, but don't forget it could be reverse, your arms and ammunition can't stop when it is the matter of national survival. so stop your stupid comments. (A man from interior)
Karachi and Sind should be free from Punjabi domination.Karachi's 75% revenue should be used only for sind's development not for Punjabi's exploitation.As a Karachi and Sindhi residents,we should fight for Independence against Punjabi domination.
MQM has nothing in their credit to ask Karachi people to Vote MQM, In the last 5 years no any welfare work,no any development work in any part of Karachi they did, nothing only and only target killing , Bagta khori and other crime.There is law of nature , God is great one day the leader ship of MQM will be killed like street dogs.
Jahil do you even realize that past 4 years MQM does not have any role in city government? the administartor was a jahil lala, the commisioner is a jahil sindhi and all the deputy commisiioners are from interior sindh, similarly the IG, DIG and even SHO' are from rural sindh. When Mustafa Kamal was Mayor he did things which the world and even UN acknowledged. No wonder he was removed because he was making you jahils look bad. You people will never learn, go ahead kill Balochis, Muhajirs, even Pukhtoons like when you killed poor Bengalis, then the result was there for everyone to see.
You have a sick filthy racist mind, so what if the KESC employees joined MQM? do they need a fu*cking permission from a jahil moron like you? stop this filth you inbred. If people of Karachi have decided to vote for MQM why is your a*ss burning? and what the fu*ck is Hypo-crate you jungli janwar paindo?
MQM is a ghunda party. MQM first want to divide sindh then pakistan. MQM clearly knows that they have a long term agenda of making another SINGAPORE out of pakistan. they hate sindhis. But now their plan is exposed. guys dont forget they wanted to make Jinah Pore. MQM STILL ON THE SAME AGENDA.
متحدہ نے صنعتی صارفین سے اربوں روپے ہتھیانے کا سلسلہ شروع کردیا
-کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ نے کے ای ایس سی ریجن ون کے انڈسٹریل زون پر قبضہ کرکے بھتہ وصولی طرز پرصنعتی صارفین سے اربوں روپے ہتھیانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ڈھائی ارب روپے کی آمدن والے سائٹ زون میں 23تنظیمی کارکنان کوبھرتی کرکے انتظامات سیکٹر طرز پر چلائے جارہے ہیں جبکہ وی آئی بی سی اورنگی ون میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بلنگ کی وصولی کے لیے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ریجن ون کا حدود اربع انتہائی وسیع ہے جس میں سندھ اور بلوچستان کے صنعتی دل سائٹ اور حب سمیت لیاری، بلدیہ، اورنگی ،اوتھل سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اس ریجن کے R-1زون کو متحدہ نے مکمل طورپر ٹیک اوور کررکھا ہے ،جہاں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ارشد افتخار ، ڈی جی ایم عدنان افضل ، منیجر ندیم ، منیجر ذیشان صدیقی اور ڈیٹا کنٹرولر آفیسر عامر نے تمام انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ صنعت کاروں سے وصولی کے لیے 23کارکنان کو بھرتی کیا گیا ہے ، جنہوں نے صنعت کاروں سے وصولی کے لیے اپنی من مانیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔دوسری جانب “وی آئی بی سی ـــ” اورنگی زون کے علاقوں میں قصبہ، میٹروویل، فرنٹیرکالونی ، پٹھان کالونی اور منگھو پیر شامل ہے ، جہاں 90فیصد پختون آبادی ہے، ان علاقوں میں بلوں کی وصولی کے لیے متحدہ اور پیپلز پارٹی نے گٹھ جوڑ کرلیاہے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ممبر سندھ اسمبلی منظر امام نے VIBC ون اورنگی کا ٹھیکہ لینے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کررکھی ہے، ان علاقوں سے وصولی کے لیے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ضلع غربی کے سابق صدر بابو عبدالخالق مرزا سے 30فیصد پر معاملات طے کرلیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابو عبدالخالق نے کے ای ایس سی کے سابق GMایس ایم ادریس کو اس حوالے سے اپنا ایڈوائزر بنایا ہے ۔یاد رہے کہ ایس ایم ادریس نے بطور جی ایم 95تا 96کے ادوار میں از خود میٹر ریڈنگ کا ٹھیکہ نجی ادارے کے سپر د کرکے KESCکو نقصان پہنچایا اور کروڑوں روپے کما ئے تھے
Altaf Hussain adam khor insan
IF YOU HAVE THE THESE QUALITIES PLEASE PLEASE JOIN MQM (1000 VACANCIES AVAILABLE)
IF YOU ARE THE BIGGEST bhatta khor
IF YOU ARE THE BIGGEST Target Killer
IF YOU ARE THE BIGGEST master of bori band lash
IF YOU ARE THE BIGGEST LIAR.
IF YOU ARE THE BIGGEST THIEF.
IF YOU ARE THE BIGGEST HYPO-CRATE.
IF YOU ARE THE BIGGEST BADMASH.
IF YOU ARE THE BIGGEST MAFIA.
IF YOU ARE THE BIGGEST BLOOD SUCKERS, CRIMINAL MINDED, AND ARROGANT.
AND IF YOU ARE PAKKA BEHARI – WHO JUST CAME TO KARACHI FOR THE SAKE OF BETTER LIFE THAN WHAT THEY WERE LIVING IN BEHAR KALKUTA AND WEST BENGAL. PAKKAY ZALIM SELFISH RUDE AND BUDMASH QATAL KARKAY JINZAY MAIN SHAREEK HONAY WALAY HAI LOOT GAY MAR GAY MONH MAIN RAAM RAAM BAGHAL MAIN CHURRI WALAY NIHAYAT BAYREHM GHUNDAY.
MQM elder biggest to make Pakistan for muslim
Well MQM elder made a biggest mistake to migrate to Pakistan
For name of ALLAH & ISLAM the history of very long straggle
more then 200 year lost of valuable life’s wasted to make
Pakistan
The sons of the founder of Pakistan still not son of soil
They will not going to be son of soil for rest their life
They have to another straggle to make their own —–
ISI & Punjabi free ——
Dear Pakistanis
Please stop bashing each other. MQM, PPP, PTI, ANP… no one is less Pakistani. Muhajirs have worked very hard to build Pakistan. Likewise sindis, pashtun, balochis and panjabis have contributed as well.
We have so many external enemies, who are willing to destroy us.
Please demonstrate unity, and lets get together to make us stronger in the blessed month of Ramadan.
If no mother land, then no altaf hussain, no nawaz sharif, and no zardari or imran will be there.
Please try to understand and respect everyone’s view point.
In the month of Ramadan, lets join hands and prey for SALAMTI of our beloved motherland.
I M ASKING MY MASSEGE HAS BEEN DELITED WHY
MQM is FASCIST group like NAZIs
ALTAF ASSASSIN (Hitler Reborn) is in charge of HOLOCOST of Sindis & Balochis in Karachi
salam dekhain seedhi baat to yeh hai k kiya mqm ghar baith jai bhai itni bari party hai hissa zaroor lena hai jab k koi bhi karkardage wali ministry in k pas nahi hai hukumat pe rah k bhi yeh mukhalfat karte hain baat apni kam se kam record karte hain abtak 4 saal mey sab sey ziyada awaz uthane wali party mqm hai jo k 88 persent hai baqi sab neche mqm sey bogs rakhne wale kiya baat karte hain pehle to insan banein musalman banna to door ki baat hai mahjir agar pakistan aye bhi to kis waje sey aye aur us waqt ke muslims ka kiya tehreek thi yeh maloom hona chahiye hamarey nabi pbuh ne mahajiro ke sath kiya salook kiya tha ya hukum diya tha islam per bhai amal karlo ya khul kar koi alan kardo tum logon ki namaz roza kis kam ka jab tum log apne akhri rasol pbuh k against karte ho bolte ho .
agencies,and establishment tout never want to give power to genuine elected representative in small provinces,have you felt CM sind,CM hoti,CM raesani,are as active as CM punjab.because in punjab agencies can not make filthy manipulation.but in small provinces establishment fix those people who does not have mandate.as far as concern,karachi 95 % govt functionaries they do not belong to karachi,specially in police. Also keep remember CJ appreciate middle class elected representative work in karachi,
MQM ki mujbori ha Hakomat ma rani ki kyo k MQM ak Ashi Muchlee ha jo pani k bagher ra nahi sakti
agar wo pani sha bahir nikla gi to merjaha gi
Waseem is also a Ghunda and killer…
He pretends to be a nice guy…..
Same like Raza Haroon…..killer…
Same and SHame on you Mustafa Kamal….ego on your shoulders…Kiss ass altaf.
Abbas Haider, Gori and all the other top begharat bakwaas leaders….
they show they are always right…..no Brains…but wants money for Altaf to send it to London….these men should be charged for money laundering….
If they don't listen to Altaf…they will be killed….and it goes the same ways from top…down to the members….
All these have to be killed one by one…court martial…for all the killings every day….along with ANP and PPP…all responsible….
@Gulrang
Yes all should be killed and only Imran Khan and Har*ami Jammati terrorists should be respected. You jahil ganwar paindoo how the fu*ck did you manage to buy a computer and more surprisingly how you manged to operate it is beyond me. And by the way what kind of fuc*king name is Gulrang? are you a faggot?
MQM must act like Ghunda and badmash to all JAHIL, BAKWAS and Faggot type people like you who must be disciplined time to time, because you are all considered LATON KAY BHOOT jo Baton Say Nahi Mantay.
However, MQM is the most polite, nice and well civilized group of people when it comes to deal with sensible and educated society of people, regardless of their race, language, or ethnicity. MQM is fully equipped and capable of using these tools accordingly.
MILITANT QATIL MOVEMENT, Pakistanis ka khoon pii ker JIYO.
میں کراچی میں رھتا ھوں اور اردو بولتا ھوں میرے کراچی کو کس طرح برباد کردیا اس کالم کو ضرور پڑھیں
Altaf Hussain adam khor insan
کراچی ….کچھ بنیادی حقائق
-کراچی میں نظریاتی‘ تخلیقی اور ذہنی اعتبارسے 100 ڈائنا سوروں سے زیادہ توانائی تھی۔ لیکن کراچی کی نظریاتی‘ تخلیقی اور ذہنی توانائی کو تشدد اور قتل وغارت گری کی اندھی قوت میں تبدیل کردیاگیا۔ کراچی ہراعتبارسے ایک نوآبادشہرتھا لیکن اس کے باوجود اس نے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں برپاکیں۔ اس نے جنرل ایوب کی آمریت کو چیلنج کیا۔ اس نے بھٹو کی آمریت کے خلاف شاندار مزاحمت کی۔ اس نے جنرل ضیاءالحق کی پائیدارآمریت کو خوف میںمبتلا کیا۔ کراچی کبھی مولانا ایوب دہلوی کا شہر تھا۔ مولانا ایوب دہلوی عصرحاضرکے رازی تھے۔ وہ فلسفے اور علم کلام کے موضوعات پرفی البدیہہ تقریرکرتے تو ان کی تقریر تین تین چارچارگھنٹے جاری رہتی اور مولانا فکر کی پوری تاریخ پرچھائے نظرآتے۔ مولانا قرآن مجید کی تفسیرکرتے تو ایسا لگتا کہ مولانا کو تصفیہ کی پوری روایت ازبر ہے۔ کراچی محمدحسین عسکری کا شہرتھا جو اردو کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ ان کی سطح کا علم نایاب تھا۔ انہوں نے مغربی ادب پر بعض ایسے مضامین لکھے ہیں کہ خود مغرب کی تنقید میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا تخلیقی جوہراقبال کی سطح کا تھا۔ عسکری صاحب جب تک زندہ رہے اردو ادب کا مرکزی حوالہ تھے لیکن انتقال کے بعد عسکری کی اہمیت کم ہونے کے بجائے اوربڑھ گئی۔ کراچی کبھی سلیم احمدکا شہرتھا۔عسکری اور سلیم احمدکی تنقیدکو ایک جگہ جمع کرلیاجائے تو اس کی اہمیت یہ ہے کہ عسکری اور سلیم احمد کی تنقید پڑھے بغیرآپ اردو ادب کے بارے میںکم ازکم 90 فیصد بنیادی باتیں نہیں جان سکتے۔ لیکن سلیم احمد صرف نقاد نہیں تھے وہ شاعربھی تھے اور جدید اردوتجزیہ میں ان کی شاعری جیسا تنوع نایاب ہے۔ سلیم احمد کی ایک اہمیت یہ تھی کہ وہ کراچی میں ادیبوں اور شاعروں کا محور تھے۔ کراچی میں جتنی ادبی اورعلمی بحثیں چلتی تھیں سلیم احمد سے چلتی تھیں۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے پونے دوسو ڈرامے لکھے مگر ان کی بے نیازی کا عالم یہ تھا کہ وہ ان ڈراموں کا ذکر بھی نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ انہیں ”کمرشل سرگرمی“ سمجھتے تھے۔ کراچی عزیزحامد مدنی کا شہر تھا جن کی غزل اور جن کی نظم فیض احمد فیض کی غزل اور نظم سے کم ازکم سوگنا بڑی ہے۔ اس کے باوجود وہ گوشہ نشین آدمی تھے۔ وہ شہرت سے اس طرح بھاگتے جیسے شہرت کوئی سزا ہو۔ ان کی باطن کی نفاست ان کے چہرے سے ظاہرہوتی تھی۔ ان کی انسانیت اتنی بڑی تھی کہ انہوں نے اپنے بھائی کے بچوں کو پالنے کے لیے تمام عمرشادی نہیں کی۔ کراچی قمرجمیل کا شہرتھا۔ ان کے لیے ادب ایک طرز حیات تھا۔ قمرجمیل جدیدیت کے علمبردارتھے۔ ان کا ہرلمحہ مغربی دانشوروں کے ساتھ بسر ہوتا۔ وہ مغرب کے مفکرین اور دانشوروں کو اس طرح کوٹ کرتے تھے جیسے وہ انہیں بچپن سے جانتے ہیں۔ وہ جدید اردو ادب میں نثری نظم کے امام تھے اور پوری اردو دنیا انہیں اس حیثیت میں جانتی تھی ۔ اس تناظرمیں دیکھاجائے تو کراچی نظریات کا شہرتھا۔ تخلیقی روایات کا شہرتھا۔ علمی رجحانات کا شہرتھا۔ امکانات کا شہرتھا۔ لیکن ان تمام چیزوں کی توانائی کو تخریب کی توانائی میں بدل دیا گیا اور اس کے آغاز کا سہرا جنرل ضیاءالحق کے سرہے۔ جنہوں نے ایم کیو ایم تخلیق کی۔ کراچی کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ کراچی کی تخریب بیشترصورتوں میں ”کنٹرولڈ تخریب“ ہے۔ کراچی کی قتل وغارت گری مضبوط قتل وغارت گری ہے۔ آپ نے دیکھا جولائی کے پہلے ہفتے میں کراچی چار دن تک قتل گاہ بنارہا۔ چار دن میں سوسے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس عرصے میں نہ کہیں صوبائی حکومت موجود تھی۔ نہ وفاقی حکومت۔ نہ کہیں پولیس کانام ونشان تھا نہ کہیں رینجرزنظرآرہے تھے۔ لیکن پھر اچانک متاثرہ علاقوں میں رینجرزنمودارہوئے اور صرف ایک دن میں شہر کے حالات 90 فیصد معمول پرآگئے۔ یہ اپنی طرح کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ کراچی میں جنرل ضیاءالحق کے زمانے سے آج تک یہی ہورہاہے۔ کراچی میں دہشت گردی کی سب سے بڑی واردات جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں قصبہ کالونی میں ہوئی۔ اس واردات میں دہشت گرد 6 گھنٹے تک گھروں میں گھس کر لوگوں کو مارتے رہے اور انہوں نے دوسو ڈھائی سو لوگوں کو مارڈالا۔ لیکن سندھ کے وزیر اعلیٰ سید غوث علی شاہ نے 6 گھنٹے تک قانون نافذکرنے والے اداروں کو قصبہ کالونی میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جب چھ گھنٹے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے قصبہ کالونی میں داخل ہوئے تو وہاں نامعلوم دہشت گردوں کانام ونشان نہیں تھا۔ لیکن اس بنیاد پر شہرمیں مہاجر‘پٹھان فساد شروع ہوگیا جس کا کوئی منطقی جواز ہی نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کراچی میں پٹھان ڈرائیورتھے۔ کنڈیکٹرتھے۔ مزدور تھے۔ موچی تھے‘ ان کے مقابلے پر مہاجربلوکالر اور وہائٹ کالر جاب کرنے والے لوگ تھے۔ وہ نجی اداروں میں بڑے بڑے مناصب پر فائز تھے۔ مطلب یہ ہے کہ شہرمیں مہاجروں اورپٹھانوں کے مفادات کا کوئی تصادم ہی نہیں تھا۔ کراچی کی ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ کراچی کو پاکستان کے کسی حکمران نے اپنا نہیں سمجھا۔ اسے کبھی OWN نہیں کیا۔ پاکستان قائم ہوا تھا تو کراچی ملک کا دارالحکومت تھا۔ لیکن کراچی کے مزاحمتی کردارنے جنرل ایوب کو اتنا زچ کیاکہ انہوں نے کراچی کو اس کی مرکزیت ہی سے محروم کردیا۔ حالانکہ کراچی میں یہ ملک کی واحد بندرگاہ تھی۔ کراچی میں ملک کا سب سے معروف بین الاقوامی ہوائی اڈہ تھا۔ کراچی محصولات کا بڑا حصہ مرکز کو کماکردیتا تھا۔ کراچی آبادی کے اعتبارسے سب سے بڑا شہر تھا۔ کراچی ملک کی آبادی کی نمائندگی کے اعتبارسے سب سے زیادہ نمائندہ شہر تھا۔ بھٹو صاحب قائد عوام تھے ۔ قائد اشیاءتھے مگر وہ کبھی بھی قائد کراچی نہ بن سکے۔ پاکستان کی تاریخ میں اہلیت ؟میرٹ کا سب سے بڑا قتل عام انہی کے دورمیں ہوا۔ انہوں نے کوٹہ سسٹم ایجاد کیا اور اسے ایک تلوارکی طرح کراچی کے سینے میں گھونپ دیا۔ انہوں نے صوبے میں اردو سندھی تنازعہ برپاکیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو کے خلاف سب سے شدید مزاحمت کراچی میں ہوئی۔ جنرل ضیاءالحق کی آمریت استعداد تھی اور اسے کسی جانب سے کوئی خطرہ نہ تھا۔ لیکن جماعت اسلامی کراچی میں ان کے سب سے زیادہ ناقد موجود تھے۔ چنانچہ انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کی سیاسی قوت کو توڑنے کے لیے ایم کیو ایم تخلیق کی ۔ جماعت اسلامی کے درویش صفت میئرافغانی کی بلدیہ کو زیروزیرکیا۔انہوں نے شہرمیں لسانی منافرت کا جو بیج بویا تھا وہ ایک ایک کرکے تمام برگ وبارلایا ۔ لسانی فسادات کی ابتداءمہاجرپٹھان فساد سے ہوئی تھی مگر پھر شہرمیں سندھی مہاجرفساد ہوا۔ پھر مہاجرپنجابی فساد نے شہرکو اپنی لپیٹ میں لیا یہاں تک کہ نوبت مہاجرفساد تک پہنچی۔ ایم کیو ایم برپا ہوئی تو الطاف حسین کہاکرتے تھے کہ ہم کارنرمیٹنگ کرتے ہیں اور وہ جلسہ بن جاتاہے اور ہمارے سیاسی حریف جلسہ کرتے ہیں اور وہ کارنرمیٹنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ الطاف حسین غلط نہیں کہتے تھے۔ یہ ایک امر واقعہ تھا اور اس امرواقعہ سے یہ منظر طلوع ہوا کہ ایم کیو ایم کو بلدیہ‘ صوبے اور وفاق کی سطح پر کراچی کو100فیصد نمائندگی حاصل ہوئی۔ اس نمائندگی کا تقاضا یہ تھاکہ ایم کیو ایم پورے کراچی کو owm کرتی ۔مگر ایم کیو ایم کراچی کی تمام برادریوں کو کیا خود تمام مہاجروں کو بھی owm نہ کرسکی۔ چنانچہ وہ جماعت اسلامی کے مہاجروں سے لڑی۔ پیپلزپارٹی کے مہاجروں سے متصادم ہوئی۔ اس نے جمعیت علمائے پاکستان کے مہاجروں سے پنجہ آزمائی کی۔ وہ آج بھی سنی تحریک اور ایم کیو ایم حقیقی کے مہاجروں کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے یہ تمام جنگیں بیشتر صورتوں میں اس وقت لڑی جب اسے اپنے حریفوں سے کسی سیاسی مزاحمت کا سامنا نہیں تھا۔ کراچی کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ کراچی کی صورتحال بشریٰ زیدی کیس سے آج تک ذرائع ابلاغ میں صرف ”رپورٹ“ ہورہی ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ نے یہ اس کا تجزیہ اور صورتحال کی ذمہ داری کا تعین کہیں موجود نہیں ۔ ملک میں خودکش دھماکے ہوتے ہیں اور ذرائع ابلاغ بتاتے ہیں کہ یہ دھماکے طالبان نے کیے ہیں۔ بلوچستان میں لاشیں گرتی ہیں اور ذرائع ابلاغ اعلان کرتے ہیں کہ ان کے ذمہ دار علیحدگی پسند یا قانون نافذکرنے والے ادارے ہیں۔ لیکن کراچی میں ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں اور کوئی نہیں بتاتا کہ اس کا ذمہ دارکون ہے۔؟ اس کے باوجود بھی ذرائع ابلاغ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں۔ ہم سچ بولتے ہیں۔ ہم ملک کی ایک بڑی قوت ہیں۔
yahan par yeh tasur diya gaya hey ki karach shuroo seyi tha hi urdu bolney walon ka, jaisey woh yahan sadiyoon sey abaad they, arey bhai aap logon ki nazool pakistan ban ney key baad huwa hey.
MQM is the only Strongest, United, and, EDUCATED party of Pakistan. PTI supporters better not mess with MQM, your leader Imran Khan already learned a big time lesson of confronting MQM in the past.
I suggest all PTI losers to organize musical shows and concerts in MULTAN now, and forget politics.
Jalte raho karachi se baher baith ker jahilo MQM phir lakhon vote le ker aaegi tum logon ki ga**nd sulgane ke liye
Dhage Punjabio Karachi se dafaaaaaa hojao werna jese Bangalion ne 90,000 se hathiyar rakhwae the ab 1,90,000 punjabi hath jor ker hthyar dalain ge aur tum log dhoti utha ker nachte rehna chane ke khait mai…………………
-کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ نے کے ای ایس سی ریجن ون کے انڈسٹریل زون پر قبضہ کرکے بھتہ وصولی طرز پرصنعتی صارفین سے اربوں روپے ہتھیانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ڈھائی ارب روپے کی آمدن والے سائٹ زون میں 23تنظیمی کارکنان کوبھرتی کرکے انتظامات سیکٹر طرز پر چلائے جارہے ہیں جبکہ وی آئی بی سی اورنگی ون میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بلنگ کی وصولی کے لیے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ریجن ون کا حدود اربع انتہائی وسیع ہے جس میں سندھ اور بلوچستان کے صنعتی دل سائٹ اور حب سمیت لیاری، بلدیہ، اورنگی ،اوتھل سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اس ریجن کے R-1زون کو متحدہ نے مکمل طورپر ٹیک اوور کررکھا ہے ،جہاں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ارشد افتخار ، ڈی جی ایم عدنان افضل ، منیجر ندیم ، منیجر ذیشان صدیقی اور ڈیٹا کنٹرولر آفیسر عامر نے تمام انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ صنعت کاروں سے وصولی کے لیے 23کارکنان کو بھرتی کیا گیا ہے ، جنہوں نے صنعت کاروں سے وصولی کے لیے اپنی من مانیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔دوسری جانب “وی آئی بی سی ـــ” اورنگی زون کے علاقوں میں قصبہ، میٹروویل، فرنٹیرکالونی ، پٹھان کالونی اور منگھو پیر شامل ہے ، جہاں 90فیصد پختون آبادی ہے، ان علاقوں میں بلوں کی وصولی کے لیے متحدہ اور پیپلز پارٹی نے گٹھ جوڑ کرلیاہے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ممبر سندھ اسمبلی منظر امام نے VIBC ون اورنگی کا ٹھیکہ لینے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کررکھی ہے، ان علاقوں سے وصولی کے لیے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ضلع غربی کے سابق صدر بابو عبدالخالق مرزا سے 30فیصد پر معاملات طے کرلیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابو عبدالخالق نے کے ای ایس سی کے سابق GMایس ایم ادریس کو اس حوالے سے اپنا ایڈوائزر بنایا ہے ۔یاد رہے کہ ایس ایم ادریس نے بطور جی ایم 95تا 96کے ادوار میں از خود میٹر ریڈنگ کا ٹھیکہ نجی ادارے کے سپر د کرکے KESCکو نقصان پہنچایا اور کروڑوں روپے کما ئے تھے
Altaf Hussain adam khor insan
IF YOU HAVE THE THESE QUALITIES PLEASE PLEASE JOIN MQM (1000 VACANCIES AVAILABLE)
IF YOU ARE THE BIGGEST bhatta khor
IF YOU ARE THE BIGGEST Target Killer
IF YOU ARE THE BIGGEST master of bori band lash
IF YOU ARE THE BIGGEST LIAR.
IF YOU ARE THE BIGGEST THIEF.
IF YOU ARE THE BIGGEST HYPO-CRATE.
IF YOU ARE THE BIGGEST BADMASH.
IF YOU ARE THE BIGGEST MAFIA.
IF YOU ARE THE BIGGEST BLOOD SUCKERS, CRIMINAL MINDED, AND ARROGANT.
ALSO Shameless
Be realistic ! If U have any proof about MQM`s extortion than go to supreme court. Without proof U have no right to blaime any of them. U can see program Face 2 Face interview of Hassan Nisar. What is he saying about MQM ? O.K ??? In PTI, there is no one good leader except Imran Khan. So, first make PTI unbais party than say anything to others. Understand ???
We don't have to give any explanation to these brainless and powerless Anti-MQM idiots. They can try to shake the image of MQM, but they can never touch our strong foundation.
Monday, 10 September, 2007, 09:39 GMT 14:39 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بارہ مئی: ’سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ‘
کراچی میں پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں بارہ مئی کے واقعات کے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینکڑوں کارکن اور ہمدرد عدالت کے اندر اور باہر جمع ہوگئے جس کے بعد عدالت نے سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی۔ سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔
پیر کی صبح سے ہی ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی سمیت سینکڑوں کارکن سندھ ہائی کورٹ کے اندر اور باہر جمع ہوگئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر عدالت کا احاطہ اور مرکزی دروازہ گھیراؤ کا منظر پیش کر رہا تھا۔
مجمع نے عدالت کے احاطے میں الطاف حسین کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔
بعض افراد نے کمرہ عدالت کے دروازے پر قبضہ کرلیا جو آنے والے لوگوں کو شناخت کر کے اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے۔ ایک صحافی نے بتایا کہ جب وہ سماعت کی رپورٹنگ کے لیے عدالت میں داخل ہو رہے تھے تو انہیں ان افراد نے روکا اور ان کی شناخت معلوم کی جس پر وہ یہ کہہ کر کہ وہ عدالت میں ہی ملازمت کرتے ہیں کمرہ عدالت میں داخل ہوسکے۔
اس صورتحال کے بعد بارہ مئی کے واقعات سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ میں شامل ججز کمرہ عدالت میں نہیں آئے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے فریقین کے وکلاء کو اپنے چیمبر میں بلایا اور درخواستوں کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ وہ دباؤ کے حالات میں سماعت کرنے سے قاصر ہے۔
سات رکنی بینچ نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس صبیح الدین کو عدالت کی سکیورٹی کے سلسلے میں انتظامی حکم جاری کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔
کمرہ عدالت کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی کنور خالد یونس نے کہا کہ ’ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ عام آدمی کو ہائی کورٹ میں عدالت میں آنے سے روکا جائے اور ہم عام آدمی ہیں عام ورکر کے طور پر آئے ہیں تو اس پر کوئی قانونی قدغن نہیں ہے۔‘
Bari simple aur seedhi si baat hai MQM ne mulak ko barbad kerney ka tahaya kia hua hai. Banad marna tu un ke liey ker makora manrney ke baraber hai, ab khair se PPP bhi un ke mal gaie hai ab dekho kia hota hai ab chor aur qatil aur bhatta khori ka champion dono bhia ban gay ALLAH khair kery.
o muhajir pakistan me bin bulae mehman hain jo log pakistan ki tareekh se waqif hain wo jante hain ke pakistan ki threek ziyada tar india ke musalmano ne chalaee thee kyun ke wo log hinduon ke zulum ka phela nishana the jin sububon me ab pakistan hai yahan aisa koi masala nahin tha to jin logon ne ye thereek chali to un hi logon ko india se bhag ker jan bachna pari, ab wo pakistan agae ye samaj ker ke hum aik muslman mulk me ja rahe hain aur ye ke ham ne hindostan ke baqi musalmano ko hindu ki ghulami se bacha leya . Yehi un logon ki sub se bari bhool thi pakistan me jo log rehte the unko hinduon aur sikhon se koi problem nahin thee aur na aaj hai. ye to sirf muhajir bewaqoof ye samjh rahe the aur hain ke yahan ke log bhi hinduon ke saath nahin rahna chate. ye amman ki aasha is baat ka khula suboot hai ke yahan ke log to ab bhi betaab hain hindostan ke charno me baitne ke leye. Ayub Khan ne to confederation ke tajweez rakhi thee jo Nehru ne manzoor nahin ki.ab reh gae ye ahmaq mahajir to in ki hasiyat pakistan me third class me aati hai punjab ka isaai bhanggi bhi ziyada huquq rakhta hai kyun ke uske pas punjab ka domicile hai. ab hum mahjiron ke pass aik hi rasta hai ke kisi aur mulk me chale jaen ya phir samandar me ye un ki marzi.mane to phela rasta ikhtiyar kar leya aur bhat khush hun pakistan ki lannat se to hamesha hamesha ke leye chutkara mil gaya
Why People Hate MQM:
1. Party of common people, representative from grass roots.
2. Given one of the best Mayors in the world.
3. Only party with no corruption case ever.
4. Only party with no bullets proof owned vehicles or millions of hectares of land.
5. Only party having young, educated, talented, visionary workers/leaders who came from out from common people.
6. Only party having no LOTA history.
7. Only party who openly challenged agencies, establishment and Feudalism which is rotting up Pakistan.
8. Only party who has biggest network of social welfare Khidmat e Khalq..
9. Only party who has the best attendance in senate and assemblies and never caught sleeping.
10. Only party in Pakistan who has been subjected to state terrorism, blamed for Jinnah pur, but history proved that all was fabricated.
11. Only party whose leader did not take bribe to topple PPP led government as proven now in Asghar khan case!!!
12. Only party whose examples is being given by CJP is highest court as representative of common people and Acknowledged Mustafa Kamal has set an example for all.
13. Only party which do not have history of Family politics.
14. Only party who really do their homework and make policies like shadow Budget, NRO case, petroleum prices, de weaponization bills, province issues, 18th amendments etc.
15. Only political party whose followers are real Pakistanis who infarct created and scarified for Pakistan not sleeping peacefully or just listening Radio when Pakistan was created.
16. Only party whose elected leaders still lives in rented apartments, drive motorcycles, whose workers are approachable anywhere any time.
17. Only party who has vision, policy and far sightedness as in case of Talibinization of Karachi , SWAT deal and its failure etc.
18. First party who talk about revolution which was ridiculed and now being followed.
19. Only party which can gather millions of people in jalsa with gracefull discipline.
20. Only party who is most hatred in Pakistan because of its blunt vocalizations of TRUTH.
21. Only party whose workers are being killed, blamed, subjected to torture, denied to justice but never talked about breaking of Pakistan unlike Sindhis or Baloch Nationalists whose demons are made heroes by racism struck majority of Pakistan.
“The MQM is the softest target – even if there were a tsunami, the MQM will be blamed for it,” MQM always been cleared of any allegation in a court of law. in context of the “derogatory statements” being made during the past few days by people like Ayaz Palijo who have “no elected representation” even one couselor seat he can’t win.
ان جاہل گننے کے کھیت میں زنا کرنے والے پنجابیوں ،
اپنی لڑکیوں کو بچنے والے سود خور پٹھانوں ،
کندھے پر کلہاڑی رکھ کر اجرک اوڑھنے والے سندھی ڈاکوؤں
اور اپنی ماں بہنوں کو زندہ دفن کرنے والے اسمگلر بلوچوں سے
کراچی کو پاک ہونا چاہیے ان سب کمینی قوموں کو ان اپنے علاقوں میں دربدر ہونا چاہیے اور جنوبی پاکستان نام کا ایک نیا ملک بن جانا چاہیے .
لعنت ہے اس ملک اور اس کی قوموں پر جو پاکستان بنانے والے مہاجروں سے نفرت کرتی ہیں .
اب تو یہ مجبوری ہے
جنوبی پاکستان ضروری ہے
You are just sick
paan ki pichkariyon key baad masoom logon key khoon sey road aur galiyoon ko laal karney walo, yeh propaganda karna band kardo ki Pakistan tum logon ki waja sey hey, tum log to chance pey dance karney waley log ho, jinhon ney yahan aa kar jhootey claim dakhil kiye aur yahan tak key thook key hisaab sey apni zaatein bhi tabdeel kardein, badqismati sey tareekh ko masakh kar diya gaya hey, tum logon par agar seriously research kar di jaye to moon chupatey phiro gey.
MQM IS TERRORIST PARTY
تعصبات نے ہمیں کیا دیا؟
-تعصب کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسے ایک ”قوت“ سمجھ کر بروئے کار لایا جاتا ہے لیکن تعصب افراد‘ گروہوں اور قوموں کی سب سے بڑی ”کمزوری“ بن جاتا ہے۔ تعصب کو اکثر ایک ”اہلیت“ باورکرایا جاتا ہے اور ایک خاص دائرے کے اندر جس شخص میں تعصب نہیں ہوتا اسے ”نااہل“ ثابت کیا جاتا ہے لیکن اپنے آخری تجزیے اور اپنے آخری نتائج میں خود سب سے بڑی نااہلیت بن کر سامنے آتا ہے۔ تعصب اپنی شدت سے پہچانا جاتا ہے لیکن تعصب کی شدت محبت کی نہیں نفرت کی شدت ہوتی ہے۔ اور نفرت کی آگ سب سے زیادہ نفرت کرنے والے کو جلاتی ہے۔ لیکن تعصب کے بارے میں حقائق کو کم ہی سمجھا گیا ہے۔ بالخصوص پاکستان میں ان حقائق کا فہم کمیاب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہرطرف تعصب کے ناگ پھنکارتے پھرتے ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں تعصبات کی سیاست اور تعصبات کی سماجیات نے کیا دیا ہی؟۔پاکستان میں پیپلزپارٹی کے دوچہرے ہیں۔ ملک کی سطح پر پیپلزپارٹی خود کو وفاقی جماعت کہتی ہے لیکن دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی خود کو سندھی قوم پرست کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے دیہی سندھ کی کیا خدمت کی ہے۔؟سندھ میں کوٹہ سسٹم جنرل یحییٰ کے حوالے سے شروع ہوا لیکن اس نظام کو پیپلزپارٹی نے گود لے لیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم پیپلزپارٹی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے اور پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ اس نے کوٹہ سسٹم کے ذریعے دیہی سندھ کی بڑی خدمت کی ہے۔ لیکن یہ ایک سرسری اور سطحی خیال ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم سے بڑی سازش دیہی سندھ کے لیے آج تک ایجاد نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی سندھ کی نئی نسلوں کے شعور‘ علم اور اہلیت وصلاحیت کا سب سے بڑا قاتل بن گیا ہے۔ بلاشبہ اس نظام کے ذریعے دیہی سندھ کے چند ہزار یا چند لاکھ لوگوں کو چھوٹی بڑی ملازمتیں فراہم ہوگئیں لیکن کوٹہ سسٹم نے دیہی سندھ کے نوجوانوں میں اس احساس کو فروغ دیاکہ کوٹہ سسٹم موجود ہے چنانچہ انہیں تعلیم اور ملازمت کے لیے محنت کرنے اور اہلیت پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس سے سندھ کے نوجوانوں میں تعلیم سے گہری عدم دلچسپی پیدا ہوئی۔ ان میں محنت سے جی چرانے کے رجحان کو فروغ حاصل ہوا۔ انہیں نقل اور سفارش پر انحصار کے امراض نے آگھیرا۔ چنانچہ ان کے لیے کوٹہ سسٹم ”ٹوٹا سسٹم“ یعنی گھاٹے کا نظام بن کر رہ گیا۔ اس گھاٹے کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 21 ویں صدی کے آتے آتے سرکاری ملازمتوں کا دائرہ سکڑنے لگا اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھنے لگے۔ لیکن نجی شعبے میں ملازمت کوٹہ سسٹم سے نہیں اہلیت اور صلاحیت سے ملتی ہے اور کوٹہ سسٹم نے دیہی سندھ کے نوجوانوں کی اہلیت وصلاحیت کو چاٹ لیا ہے اور وہ ملک اور بین الاقوامی سطح پر مقابلے کی نسبتاً کم استعداد رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی سندھ کی طاقت ہے یا کمزوری؟ یہ نظام دیہی سندھ کی خدمت ہے یا اس کے خلاف سازش؟۔پیپلزپارٹی اس بات پر فخر کرتی ہے کہ دیہی سندھ کے ووٹوں پر صرف اس کی اجارہ داری ہے۔ سندھ کے لوگوں کی سیاسی رائے صرف اس کے لیے وقف ہے۔ بلاشبہ پیپلزپارٹی بھٹو صاحب کے زمانے سے آج تک دیہی سندھ کی سیاسی فضا پر چھائی ہوئی ہے۔ لیکن یہ سیاسی صورتحال خود دیہی سندھ کے عوام کے خلاف ایک بڑی زیادتی ہے۔ اس لیے کہ پیپلزپارٹی نے دیہی سندھ کے لوگوں کو ”سیاسی متبادل“ کے خیال سے محروم کردیا ہے۔ یہ بالکل ایسی صورتحال ہے جیسے کسی شخص کو بھرے بازار میں صرف ایک دکان سے سودا لینے پہ مجبور کردیا جائے خواہ اس دکان کی چیزیں غیرمعیاری اور دوسری دکانوں کے مقابلے پر زیادہ مہنگی ہی کیوں نہ ہوں۔ تجزیہ کیا جائے تو جمہوری سیاست متبادل کے خیال پرکھڑی ہوئی ہے اور جمہوری نظام میں ”سیاسی ہاریوں“ کا کوئی تصور موجود نہیں۔ لیکن پیپلزپارٹی نے دیہی سندھ میں ایسی نفسیاتی اور جذباتی فضا پیدا کی ہوئی ہے کہ کوئی جماعت دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کا متبادل بن کر ابھر ہی نہیں سکتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ دیہی سندھ کے عوام 21 ویں صدی میں بھی سیاسی متبادل‘ سیاسی تنوع اور شعوری انتخاب جیسے تصورات سے یکسر بیگانہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ دیہی سندھ کی خدمت ہے‘ یا اس کے خلاف سازش؟۔پیپلزپارٹی 1970ءسے سندھ کے سیاسی منظر پر چھائی ہوئی ہے لیکن سندھ پر پیپلزپارٹی کے چالیس سالہ غلبے کے باوجود سندھ کی تعلیمی فضا اور معاشی حالات میں کوئی بنیادی تغیر نہیں آیا۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق دیہی سندھ تعلیم کے شعبے میں سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ معاشی اعتبار سے دیہی سندھ صرف بلوچستان سے بہتر ہے۔ایم کیو ایم کے ظہور سے پہلے مہاجروں کا مزاج آفاقی تھا۔ بین الاقوامی تھا۔ قومی تھا۔ وہ نام نہاد زمین کے بیٹے نہیں تھے لیکن ان کی تاریخ زمین کے بیٹوں سے بڑھ کر تھی۔ وہ زمین کی محبت سے ایک کروڑ گنا بڑی محبت کے علمبردار تھے۔ ان کا شعور نظریاتی تھا۔ وہ اسلام کی قوت متحرکہ سے متحرک ہونے والا گروہ تھے اور وہ تمام تعصبات سے بالاتر تھے۔ لیکن ایم کیو ایم کی سیاست نے انہیں کراچی اور حیدرآباد کے کنووں میں قید کردیا۔ لسانی سیاست نے مہاجروں کے پورے ماضی کی نفی کردی ایک وقت تھا کہ کراچی علم اور تہذیب کی بنیاد پر پہچانا جاتا تھا اور ایک وقت یہ ہے کہ وہ لاشوں اور بھتہ خوری کی وجہ سے بدنام ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاست اس وعدے سے شروع ہوئی تھی کہ کوٹہ سسٹم ختم کردیا جائے گا لیکن ایم کیو ایم کی سو فیصد سیاسی کامیابی کے باوجود کوٹہ سسٹم اپنی جگہ موجود ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاست کا ایک محور یہ تھا کہ بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔ ایم کیو ایم اب اس بات کا ذکر بھی نہیںکرتی۔ ایم کیو ایم کا وعدہ تھا کہ وہ مہاجر ثقافت کو فروغ دے گی لیکن اب تک لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مہاجر ثقافت کس شے کا نام ہی؟ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کراچی اور حیدرآباد میں لسانی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان مہاجروں کو ہوا ہے۔اے این پی خود کو پختون قوم پرست کہتی ہے۔ لیکن اس پختون جماعت نے پختونوں کی جو خدمت کی ہے وہ بھی تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ صوبہ سرحد کے پختون جب 1947ءمیں بھارت سے آزادی کا اعلان کررہے تھے تو اے این پی کے ”گاڈ فادر“ عبدالغفار خان بھارت کے ساتھ کھڑے تھے۔ 1980ءکی دہائی میں جب افغانستان اور سرحد کے پختون سوویت یونین کے خلاف جہاد کررہے تھے تو اسے این پی روس کی اتحادی بن کر کھڑی تھی اور اب جبکہ افغانستان اور سرحد کے پختون دس سال سے امریکا کے خلاف داد شجاعت دے رہے ہیں تو اے این پی امریکا کی گود میں بیٹھی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی پختونوں کی خدمت ہی؟ اس وقت اے این پی سرحد میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے لیکن کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ اس نے بدعنوانی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں جس کی وجہ سے اے این پی اب شاید کبھی بھی صوبہ سرحد کے اقتدار پر قابض نہیں ہوسکے گی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا بدعنوانی کے ریکارڈ توڑنا ہی پختونوں کے حقوق کی جدوجہد ہے۔یہ حقائق بتاتے ہیں کہ تعصبات اور ان کی سیاست نے ملک وقوم کو ہی نہیں تعصبات کے علمبردار گروہوں کو بھی تباہی وبربادی اور ناکامی ونامرادی کے سوا کچھ نہیں دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تعصبات کا سب سے زیادہ نقصان انہی لوگوںکو ہوا جن کے حوالے سے تعصبات کو ہوا دی گئی۔
شاہ نواز فاروقی
MILITANT QATIL MOVEMENT. Pakistanis ka khoon pii ker JIYO.
@QAMAR……….. @RAJA
YOU PATHETIC PEOPLE BRING JANWAR PENDO FROM PUNJAB AND INTERIOR SIND…
ONE OF THE BIGGEST RASICT POLITICAL PARTY IS ANP
i think these comments are very much matching to your situation, so please when ever you pass the comments first make sure that those words are meeting with the reality and fact, please avoid biased propaganda. World is so advanced that English is not much rare language, If English is the gauge for measuring the eligibility then i challenge you to go in interior and you will find many peoples who can speak English of your level. And by the way what is interior and exterior, you racist minded peoples forgot your past, now you are insulting and killing to the sons of soil, history tells us that from very first day after the migration you racist started conspiracies against the Sindh and the peoples of Sindh, first example is Karachi University which was actually Sindh University at that time, but look the patience of Sindhi peoples they stitched their lips and even didnt talk a single word and now you are reached at that level that you are asking to tear the Sindh into two parts, but don't forget it could be reverse, your arms and ammunition can't stop when it is the matter of national survival. so stop your stupid comments. (A man from interior)
Karachi and Sind should be free from Punjabi domination.Karachi's 75% revenue should be used only for sind's development not for Punjabi's exploitation.As a Karachi and Sindhi residents,we should fight for Independence against Punjabi domination.
ایم کیو ایم کا بول بالا
جلنے والوں کا منہ کالا
MQM has nothing in their credit to ask Karachi people to Vote MQM, In the last 5 years no any welfare work,no any development work in any part of Karachi they did, nothing only and only target killing , Bagta khori and other crime.There is law of nature , God is great one day the leader ship of MQM will be killed like street dogs.
Jahil do you even realize that past 4 years MQM does not have any role in city government? the administartor was a jahil lala, the commisioner is a jahil sindhi and all the deputy commisiioners are from interior sindh, similarly the IG, DIG and even SHO' are from rural sindh. When Mustafa Kamal was Mayor he did things which the world and even UN acknowledged. No wonder he was removed because he was making you jahils look bad. You people will never learn, go ahead kill Balochis, Muhajirs, even Pukhtoons like when you killed poor Bengalis, then the result was there for everyone to see.
@Qamarfarz
You have a sick filthy racist mind, so what if the KESC employees joined MQM? do they need a fu*cking permission from a jahil moron like you? stop this filth you inbred. If people of Karachi have decided to vote for MQM why is your a*ss burning? and what the fu*ck is Hypo-crate you jungli janwar paindo?
Being jungly is still acceptable! How about following an INSANE MADARI ALTAF ASSASSIN infront of Quran?????
Should we say mahajirs are a bit educated but lunitucs! who vote for a drug addict lunitic madari!!!!!!
MQM is a ghunda party. MQM first want to divide sindh then pakistan. MQM clearly knows that they have a long term agenda of making another SINGAPORE out of pakistan. they hate sindhis. But now their plan is exposed. guys dont forget they wanted to make Jinah Pore. MQM STILL ON THE SAME AGENDA.
متحدہ نے صنعتی صارفین سے اربوں روپے ہتھیانے کا سلسلہ شروع کردیا
-کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ نے کے ای ایس سی ریجن ون کے انڈسٹریل زون پر قبضہ کرکے بھتہ وصولی طرز پرصنعتی صارفین سے اربوں روپے ہتھیانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ڈھائی ارب روپے کی آمدن والے سائٹ زون میں 23تنظیمی کارکنان کوبھرتی کرکے انتظامات سیکٹر طرز پر چلائے جارہے ہیں جبکہ وی آئی بی سی اورنگی ون میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بلنگ کی وصولی کے لیے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ریجن ون کا حدود اربع انتہائی وسیع ہے جس میں سندھ اور بلوچستان کے صنعتی دل سائٹ اور حب سمیت لیاری، بلدیہ، اورنگی ،اوتھل سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اس ریجن کے R-1زون کو متحدہ نے مکمل طورپر ٹیک اوور کررکھا ہے ،جہاں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ارشد افتخار ، ڈی جی ایم عدنان افضل ، منیجر ندیم ، منیجر ذیشان صدیقی اور ڈیٹا کنٹرولر آفیسر عامر نے تمام انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ صنعت کاروں سے وصولی کے لیے 23کارکنان کو بھرتی کیا گیا ہے ، جنہوں نے صنعت کاروں سے وصولی کے لیے اپنی من مانیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔دوسری جانب “وی آئی بی سی ـــ” اورنگی زون کے علاقوں میں قصبہ، میٹروویل، فرنٹیرکالونی ، پٹھان کالونی اور منگھو پیر شامل ہے ، جہاں 90فیصد پختون آبادی ہے، ان علاقوں میں بلوں کی وصولی کے لیے متحدہ اور پیپلز پارٹی نے گٹھ جوڑ کرلیاہے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ممبر سندھ اسمبلی منظر امام نے VIBC ون اورنگی کا ٹھیکہ لینے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کررکھی ہے، ان علاقوں سے وصولی کے لیے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ضلع غربی کے سابق صدر بابو عبدالخالق مرزا سے 30فیصد پر معاملات طے کرلیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابو عبدالخالق نے کے ای ایس سی کے سابق GMایس ایم ادریس کو اس حوالے سے اپنا ایڈوائزر بنایا ہے ۔یاد رہے کہ ایس ایم ادریس نے بطور جی ایم 95تا 96کے ادوار میں از خود میٹر ریڈنگ کا ٹھیکہ نجی ادارے کے سپر د کرکے KESCکو نقصان پہنچایا اور کروڑوں روپے کما ئے تھے
Altaf Hussain adam khor insan
IF YOU HAVE THE THESE QUALITIES PLEASE PLEASE JOIN MQM (1000 VACANCIES AVAILABLE)
IF YOU ARE THE BIGGEST bhatta khor
IF YOU ARE THE BIGGEST Target Killer
IF YOU ARE THE BIGGEST master of bori band lash
IF YOU ARE THE BIGGEST LIAR.
IF YOU ARE THE BIGGEST THIEF.
IF YOU ARE THE BIGGEST HYPO-CRATE.
IF YOU ARE THE BIGGEST BADMASH.
IF YOU ARE THE BIGGEST MAFIA.
IF YOU ARE THE BIGGEST BLOOD SUCKERS, CRIMINAL MINDED, AND ARROGANT.
ALSO Shameless
AND IF YOU ARE PAKKA BEHARI – WHO JUST CAME TO KARACHI FOR THE SAKE OF BETTER LIFE THAN WHAT THEY WERE LIVING IN BEHAR KALKUTA AND WEST BENGAL. PAKKAY ZALIM SELFISH RUDE AND BUDMASH QATAL KARKAY JINZAY MAIN SHAREEK HONAY WALAY HAI LOOT GAY MAR GAY MONH MAIN RAAM RAAM BAGHAL MAIN CHURRI WALAY NIHAYAT BAYREHM GHUNDAY.