• BROWSE BY

Browse website with your favourite
Anchor/politician/Channel Or Program

  • BROWSE BY PROFILE
  • PROGRAMS AND TALKSHOWS
  • TV CHANNELS

Maazrat kay Saath(Future of NRO Implementation Case?) 25th June 2012

Guests:-Saleem Safi,Haris Khalique (Analyst),Nasir Ali Shah(PPP)!

  • nadpak

    اگر ہم لوگ اپنی خو نہ بدلینگے اور یہی روش رکھیںگے تو پھر بس گیلانی کی جگہ پرویز اشرف اور زرداری کی جگہ کوئی اور مداری ،چودھری افتخار کی جگہ کوئی چودری بیکار ،نواز شریف نہ سہی بابرہ شریف اور کیانی نہیں کوئی دیوانی آتے اور جاتے رہیںگے مگر ملک ایسے ہی چلتا رہے گا اور خاکم بدہن بد سے بدتر ہوتا چلا جاےگا –

    جس ملک کا صدر ،وزیر اعظم،اپوزیشن لیڈر،وزراے اعلیٰ ،آرمی چیف ،چیف جسٹس اور دیگر محکموں کے سربراہان نااہل ہوں،کرپٹ ہوں،وہاں یہی سب کچھ توقع کی جاسکتی ہے جو ہم جھیل رہے ہیں.

    من حیث القوم ، ہم بار بار ثابت کر رہے ہیں کہ ہم ایک بد دیانت ،اور ناکارہ قوم ہیں – جو صرف اور صرف ذاتی مفاد ،ذاتی عناد ،ذاتی پسند نا پسند سے بڑھکر نہیں سوچتے –

    اس وقت پوری قوم چودھری افتخار اور زرداری کی لڑائی کے درمیان پس رہی ہے ،جیسے دو ہاتھیوں کی لڑائی میں کھیت اجڑ جاتے ہیں –

    پورا ملک جانتا ہے کہ اگر زرداری صحیح نہیں ہے تو چودھری افتخار بھی گنگا نہیں نہاے ہوے – مگر محض اپنے اپنے مفادات،عناد اور ذاتی پسند اور نا پسند کو مد نظر رکھ کر تبصرے فرماتے اور خواہش رکھتے ہیں کہ ویسا ہو جائے جیسا وہ چاہتے ہیں – چاہے ملک کا بیڑا غرق ہی ہو جائے جو کے ہو ہی رہا ہے –

    فوجی دور حکومت میں جمہوریت کا راگ الاپنے والے اور بدترین جمہوریت کو بہترین فوجی حکومت سے بہتر کہنے والے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنکے مفادات جمہوریت سے وابستہ ہوتے ہیں-سیاستداں،سیاسی وورکرز ،بیوروکریسی ،صحافی حضرات اور عدلیہ – ان تمام کو فوجی حکومتوں میں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں ملتا اور جمہوری ادوار میں انکی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا ہے – عام آدمی کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حکومت فوجی ہو یا جمہوری وہ تو امن چاہتا ہے ،سکوں چاہتا ہے ،دو وقت کی روٹی اور انصاف – مگر زرد صحافت کی پروپگنڈے میں آ کر وہ بھی جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے لگتا ہے -حالانکہ سب سے برا حال اسکا جمہوری ادوار میں ہی ہوتا ہے –

    جمہوریت کو میں مورد الزام نہیں ٹہرا رہا ، مگر یہ ہم جیسی قوم کی لیے نہیں ہم جوتی خور ہیں جوتوں سے ٹھیک رہتے ہیں –

    یقین جانیے ہمیں ایک خمینی کی ضرورت ہے جو صبح ناشتے میں دو جرنل ٹانگے،دوپہر کہنے پر دو سیاستدان،شام کی چا ے پر دو جج اور رات کھانے پر بیوروکریٹ اور سونے سے پہلے دو صحافی یہ عمل صرف سال بھر بھی کر لیا تو انشااللہ افاقہ ہوگا اور یہ درد جاتا رہے گا جو پوری قوم کی انگ انگ میں ہے صرف قوم کو ایسے آدمی کی تلاش اور سپپورٹ کرنے کی ضرورت ہوگی،